30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌؕ-وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌؕ-اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۶)(یونس:۲۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بھلائی کرنے والوں کے لیے بھلائی ہے اور اس سے بھی زیادہ ہے اور ان کے منہ پر نہ سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔یہی جنت والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اور ارشاد فرمایا:
وُجُوْهٌ یَّوْمَىٕذٍ مُّسْفِرَةٌۙ(۳۸) ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ (عبس: ۳۸، ۳۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بہت سے چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہنستے ہوئے خوشیاں مناتے ہوں گے۔
قیامت کے دن روشن چہرے والے لوگ:
روشن چہرے والوں سے مراد کون لوگ ہیں ، درج ذیل روایات کی روشنی میں دیکھیں۔
تفسیر دُرمنثو ر میں ہے ،حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما اس آیتِ کریمہ ’’ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ‘‘ کے بارے میں فرماتے ہیں ’’ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ وَ الضَّلَالَۃِ ‘‘یعنی قیامت کے دن اہلسنّت کے چہرے چمکتے ہوں گے اور بدعتی و گمراہوں کے چہرے سیا ہ ہوں گے ‘‘ اور اسی میں حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ایک حدیث شریف روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ’’ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ ‘‘ کے بارے میں فرمایا’’ تَبْیَضُّ وُجُوْہُ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ ‘‘ قیامت کے دن اہلسنّت والجماعت کے چہرے سفید چمکتے ہوں گے اور گمراہوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے جو کہ حضرت ابوسعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے، حضور سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیتِ کریمہ’’ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ‘‘ تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا ’’تَبْیَضُّ وُجُوہُ اَھْلِ الْجَمَاعَاتِ وَالسُّنَّۃِ ، وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہُ اَہْلِ الْبِدَعِ وَالْاَھْوَاءِ‘‘ یعنی قیامت کے دن اہلسنّت وجماعت کے چہرے سفید چمکتے ہوں گے اور بدعتی وگمراہوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔(در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۰۷، ۲ / ۲۹۱)
تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّؕ-وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۸) وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠(۱۰۹)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں ، اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا۔ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم حق کے ساتھ تمہارے سامنے پڑھتے ہیں اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا۔ اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔
{وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ: اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا۔} یعنی لوگ جہنم میں لے جانے والے اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور کسی کو بے جرم عذاب نہیں دیتا اور کسی کی نیکی کا ثواب کم نہیں کرتا۔
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ-
وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۱۰)
ترجمۂ کنزالایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو ان کا بھلا تھا ان میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: (اے مسلمانو!) تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت ) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہواور اگر اہلِ کتاب (بھی) ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر تھا، ان میں کچھ مسلمان ہیں اور ان کی اکثر یت نافرمان ہیں۔
{كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ :تم بہترین امت ہو۔} یہودیوں میں سے مالک بن صیف اور وہب بن یہودا نے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے کہا کہ’’ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۱۰، ۱ / ۲۸۷)
اور اللہ تعالیٰ نے امت ِ محمدیہ کو تمام امتوں سے افضل قرار دیا۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے وہ کچھ عطا کیا گیا جو کسی اور نبی کو عطا نہیں کیا گیا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا ’’رُعب کے ساتھ میری مدد کی گئی، مجھے زمین کی کنجیاں عطا کی گئیں ، میرا نام احمد رکھا گیا، میرے لئے مٹی کو پاکیزہ کرنے والی بنا دیاگیا اور میری امت کو بہترین امت بنا دیا گیا۔ (مسند امام احمد، ومن مسند علی بن ابی طالب، ۱ / ۲۱۰، الحدیث: ۷۶۳)
چونکہ یہ بہترین امت ہے ،اس لئے اس امت کا اتفاق و اتحاد بہت بڑی دلیلِ شرعی ہے۔ جو اس سے ہٹ کر چلے وہ گمراہی کے راستے پر ہے چنانچہ قرآنِ پاک میں ہے:
وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِـعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠(۱۱۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جو اس کے بعد کہ اس کے لئے ہدایت بالکل واضح ہوچکی رسول کی مخالفت کرے اور مسلمانوں کے راستے سے جدا راستے کی پیروی کرے تو ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے جدھر وہ پھرگیا ہے اور اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔‘‘
ترمذی شریف میں حضرت عبداللہبن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، سرورِ کائناتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اوراللہ تعالیٰ کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع