دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

{اَلَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ:وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں۔} اس سے پہلی آیتِ مبارکہ میں منافقوں کیلئے دردناک عذاب کی وعید بیان کی گئی ہے اور پھر منافقوں کی ایک کرتوت بھی بیان کی گئی ہے کہ یہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اسلام غالب نہ ہوگا اور اس لئے وہ کفار کو صاحب ِقوت و شوکت سمجھ کر ان سے دوستی کرتے تھے اور ان سے ملنے میں عزت جانتے تھے حالانکہ کفار کے ساتھ دوستی ممنوع ہے اور ان سے ملنے میں عزت سمجھنا باطل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافروں سے محبت اور دوستی رکھنا منافقوں کی علامت ہے خصوصاً مسلمانوں کے مقابلہ میں۔ ایسے سب لوگوں کے متعلق فرمایا جارہا ہے کہ کیا یہ لوگوں کے پاس جاکر عزت تلاش کرتے ہیں حالانکہ تمام عزتوں کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّہے تو وہی خداوند ِ کریم ہی عزت والا ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے وہ عزت والے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّعزت دے جیسے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور مؤمنین۔ منافقوں کے مذکورہ بالا طرزِ عمل کو سامنے رکھ کر آج دنیا کے حالات کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ مرض آج کل بکثرت پایا جارہا ہے، اپنوں کو چھوڑ کر بیگانوں سے دوستیاں ، مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے پیار، باہمی اتحاد سے عزت حاصل کرنے کی بجائے کفار کے قدموں میں بیٹھ کر عزت حاصل کرنے کی کوشش کرنامسلمان قوم میں کس طرح سرایت کئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عقلِ سلیم عطا فرمائے۔

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ ﰳ (۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک اللہ تم پر کتاب میں اتار چکا کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو بے شک اللہکافروں اورمنافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرماچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ  کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ۔

{وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرماچکا ہے۔} اِس آیتِ مبارکہ میں واضح طور پر فرما دیا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کا مذاق اڑاتے ہیں جب وہ اِس خبیث فعل میں مصروف ہوں تو ان کے پاس نہ بیٹھو بلکہ حکم یہ ہے کہ ایسی جگہ پر جاؤ ہی نہیں اور اگر جانا پڑجائے تو جب ہاتھ سے روکنا ممکن ہو تو ہاتھ سے روکو اور اگر زبان سے روک سکتے ہو تو زبان سے روکو اور اگر یہ بھی نہ کرسکو تو دل میں اس حرکت سے نفرت کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ جاؤ اور ان کی ہم نشینی ہرگز اختیار نہ کرو کیونکہ جب قرآن، شریعت یا دین کا مذاق اڑایا جارہا ہو اور اس کے باوجود کوئی آدمی وہاں بیٹھا رہے تو یاتو یہ خود اِس فعل میں مبتلا ہوجائے گا یا ان کی صحبت کی نحوست سے متاثر ہوگا یا کم از کم اتناتو ثابت ہوہی جائے گا کہ اِس شخص کے دل میں بھی دین کی قدر و قیمت نہیں ہے کیونکہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قرآنِ مجید اور دین مبین سے محبت ہوتی تو جہاں اِن کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہاں ہرگز نہ بیٹھتا کیونکہ انسانی فطرت ہے کہ جہاں آدمی کے پیارے کو برا کہا جائے وہاں وہ نہیں بیٹھتا جیسے کسی کے ماں باپ کو جس جگہ گالی دی جائے وہاں بیٹھنا آدمی برداشت نہیں کرسکتا۔ تو جب ماں باپ کی توہین اور گالی والی جگہ پر بیٹھناآدمی کو گوارا نہیں تو جہاں اللہ تعالیٰ، رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور قرآن و دین کا مذاق اڑایا جارہا ہو وہاں کوئی مسلمان کیسے بیٹھ سکتا ہے؟ کیا مَعَاذَاللہ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی قدر ماں باپ کے بھی برابر نہیں ہے۔

بری صحبت کی مذمت:

            اس آیت سے وہ لوگ سبق حاصل کریں جو فلموں ، ڈراموں ، گانوں ،تھیٹروں ، دوستوں کی گپوں اور بدمذہبوں کی صحبتوں میں دین کا مذاق اڑتا ہوا دیکھتے ہیں اور پھر بھی وہاں بیٹھتے رہتے ہیں بلکہ مَعَاذَاللہان کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہوتے ہیں۔ بری صحبت کے بارے میں احادیث بکثرت ہیں۔ ان میں سے 5 احادیث درج ذیل ہیں

(1)…رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’برے ساتھی سے بچ کہ تو اسی کے ساتھ پہچانا جائے گا (یعنی جیسے لوگوں کے پاس آدمی کی نشست وبرخاست ہوتی ہے لوگ اسے ویساہی جانتے ہیں۔)(ابن عساکر، الحسین بن جعفر بن محمد بن حمدان۔۔۔ الخ، ۱۴ / ۴۶)

(2)…حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: نیک اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک کے پاس مشک ہے اور دوسرا دھونکنی دھونک رہا ہے مشک والا یا تو تجھے مشک ویسے ہی دے گا یاتو اس سے خرید لے گا اور کچھ نہ سہی تو خوشبو توآئے گی اور وہ دوسرا تیرے کپڑے جلادے گا یاتو اس سے بدبوپائے گا۔(بخاری، کتاب البیوع، باب فی العطار وبیع المسک، ۲ / ۲۰، الحدیث: ۲۱۰۱)

(3)…حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جو کسی بد مذہب کوسلام کرے یا اس سے بکشادہ پیشانی ملے یا ایسی بات کے ساتھ اس سے پیش آئے جس میں اس کا دل خوش ہو تواس نے اس چیز کی تحقیر کی جو اللہ تعالیٰ نے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر اتاری۔(تاریخ بغداد، ۵۳۷۸- عبد الرحمٰن بن نافع، ابوزیاد المخرّمی۔۔۔ الخ، ۱۰ / ۲۶۲)

            حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ا رشاد فرمایا: ’’تم ان سے دور رہو اور وہ تم سے دور رہیں کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنے میں نہ ڈال دیں۔(صحیح مسلم، باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء والاحتیاط فی تحمّلہا، ص۹، الحدیث: ۷(۷))

(4)…حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمانِ عالیشان ہے :’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔ (ترمذی، کتاب الزہد، ۴۵-باب، ۴ / ۱۶۷، الحدیث: ۲۳۸۵)

مولانا معنوی قدّس سرّہ فرماتے ہیں :

صحبت صالح تُرا صالح کُنَد                                                      صحبت طالح تُرا طالح کند

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن