30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں قرآنِ مجیدمیں فرمایا:
وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ( حشر:۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔
اورارشاد فرمایا:
لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (ال عمران:۱۸۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے ۔
اور ارشاد فرمایا:
وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُؕ-اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴)وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (حم السجدہ:۳۴،۳۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صابروں کو اور اسے نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا ۔
حدیث شریف میں ہے، حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جو تم سے قَطع تعلق کرے تم اس سے رشتہ جوڑو اور جو تم پر ظلم کرے تم اس سے درگزر کرو۔(شعب الایمان، السادس والخمسون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۶ / ۲۲۲، الحدیث: ۷۹۵۷)
{وَ اِنْ تُحْسِنُوْا: اور اگر تم نیکی کرو۔} یہاں بطورِ خاص عورتوں کے حوالے سے فرمایا گیا کہ اے مَردو! اگر تم نیکی اور خوف ِ خدا اختیار کرو اور نامرغوب ہونے کے باوجود اپنی موجودہ عورتوں پر صبر کرو اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور انہیں ایذا و رنج دینے سے اور جھگڑا پیدا کرنے والی باتوں سے بچتے رہو اور ان کے ساتھ زندگی گزارنے میں نیک سلوک کرو اور یہ جانتے رہو کہ وہ تمہارے پاس امانتیں ہیں اوریہ جان کرحسن سلوک کرتے رہو تواللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔
وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِؕ-وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا(۱۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو چاہے کتنی ہی حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ کہ دوسری کو اَدھر میں لٹکتی چھوڑ دو اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو اگرچہ تم کتنی ہی (اس کی) حرص کرو تو یہ نہ کروکہ (ایک ہی بیوی کی طرف) پورے پورے جھک جاؤ اور دوسری لٹکتی ہوئی چھوڑ دو اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری اختیارکرو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ:اور تم سے ہرگز نہ ہوسکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو۔} یعنی اگر تمہاری ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تویہ تمہاری قدرت میں نہیں کہ ہر چیز میں تم انہیں برابر رکھو اور کسی چیز میں ایک کو دوسری پر ترجیح نہ ہونے دو، نہ میلان و محبت میں اور نہ خواہش ور غبت میں اور نہ نظر وتوجہ میں ، تم کوشش کرکے یہ تو کر نہیں سکتے لیکن اگر اتنا تمہاری قدرت میں نہیں ہے اور اس وجہ سے ان تمام پابندیوں کا بوجھ تمہارے اوپر نہیں رکھا گیا اور قلبی محبت اور طبعی مَیلان جو تمہارے اختیار میں نہیں ہے اس میں برابری کرنے کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تو یہ تو نہ کرو کہ ایک ہی بیوی کی طرف پورے پورے جھک جاؤ اور دوسری بیوی کے لازمی حقوق بھی ادا نہ کرو بلکہ تم پر لازم ہے کہ جہاں تک تمہیں قدرت و اختیار ہے وہاں تک یکساں برتاؤ کرو، محبت اختیار ی شے نہیں تو بات چیت، حسنِ اخلاق، کھانے، پہننے، پاس رکھنے اور ایسے امور جن میں برابری کرنا اختیار میں ہے ان امور میں دونوں کے ساتھ ضرور یکسا ں سلوک کرو۔
وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا(۱۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی کشائش سے تم میں ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گااور اللہ کشائش والا حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر وہ (میاں بیوی) دونوں جدا ہوجائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو دوسرے سے بے نیاز کردے گا اوراللہ وسعت والا، حکمت والا ہے۔
{وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا: اور اگر وہ دونوں جدا ہوجائیں۔} یعنی اگر میاں بیوی میں صلح نہ ہوسکے اور طلاق واقع ہو جائے تو دونوں اللہ عَزَّوَجَلَّ پر توکل کریں ، اللہ کریم ،عورت کو اچھا خاوند اور مرد کو اچھی بیوی عطا فرما دے گا اور وسعت بھی بخشے گا۔
عورت اور مرد بالکل ایک دوسرے کے محتاج نہیں :
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نہ عورت بالکل مرد کی محتاج ہے اور نہ مرد بالکل عورت کا حاجت مند، سب رب عَزَّوَجَلَّ کے حاجت مند ہیں ، ایک دوسرے کے بغیر کام چل سکتا ہے۔ عام طور پر طلاق کے بعد عورت اور اس کے گھر والے بہت غمزدہ ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر یہ آیتِ مبارکہ بار بار پڑھی جائے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دل کو تسکین ملے گی اور اللہ عَزَّوَجَلَّمناسب حل بھی عطا فرما دے گا۔ اس میں شوہروں کو بھی ہدایت ہے کہ وہ اپنے آپ کو بیویوں کے مالک و مختار نہ سمجھیں اور یہ نہ سمجھیں کہ اگر انہوں نے چھوڑ دیا تو اب کائنات میں کوئی ان عورتوں کا سہارا نہیں رہے گا۔ نہیں نہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کو سہارا دے گا۔اسی سلسلے میں یہاں ایک مفید وظیفہ پیشِ خدمت ہے۔ اُم المؤمنین حضرت اُم سلمہرَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں ’’میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچے اور وہ یہ دعا پڑھ لے ’’اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ اَللّٰہُمَّ اْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا‘‘تو اللہ تعالیٰ اسے مصیبت پر ثواب عطا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع