دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّاؕ-وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا(۱۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں وعدے نہیں دیتا مگر فریب کے اُن کا ٹھکانا دوزخ ہے اوراس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے ۔اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کچھ دیر جاتی ہے کہ ہم انہیں باغوں میں لے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں اللہ کا سچا وعدہ اوراللہ سے زیادہ کس کی بات سچی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: شیطان انہیں وعدے دیتا ہے اور آرزوئیں دلاتا ہے اور شیطان انہیں صرف فریب کے وعدے دیتا ہے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یہ اس سے بچنے کی جگہ نہ پائیں گے۔اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کرے تو عنقریب ہم انہیں ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، (یہ) اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ کس کی بات سچی ہے؟

{یَعِدُهُمْ: شیطان انہیں وعدے دیتا ہے۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شیطان کا طریقہ واردات بیان فرمایا کہ یہ لوگوں کو طرح طرح کی اُمیدیں دلاتا اور وسوسے ڈالتا ہے تاکہ انسان گمراہی میں پڑے جیسے مشرکوں کو ان کا شرک اچھا کر کے دکھاتا ہے، منافقوں کو ان کی منافقت پسند کرواتا ہے، گناہ کے کام کرنے والوں مثلاً فلمیں بنانے، گانے بجانے والوں کو ان کے کام کلچر، تہذیب، آزادی اور روشن خیالی جیسے ناموں سے مرغوب کرکے دکھاتا ہے، یونہی ریاکاری، شادی بیاہ کی غلط رسومات اورفضول خرچی کے کام لوگوں سے مقام و مرتبہ اور اسٹیٹس وغیرہ کے نام پر کرواتا ہے لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ شیطان انہیں دھوکہ دیتا ہے کیونکہ وہ جس چیز کے نفع اور فائدہ کی تَوَقُّع دلاتا ہے درحقیقت اس میں سخت ضَرَر اور نقصان ہوتا ہے۔

{اُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ:ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔} یعنی جو لوگ شیطان کو اپنا دوست بناتے اور اس کی باتوں پر عمل کرتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور یہ لوگ جہنم سے بچنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے بلکہ یہ جہنم میں ضرور داخل ہوں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۲۱، ۱ / ۴۳۲)

{وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اور جو ایمان لائے۔} کفار کے بارے میں وعید بیان کرنے کے بعد یہاں ایمان والوں کے لئے جنت کے وعدہ کا بیان فرمایا گیا، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کیے تو عنقریب ہم انہیں ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے پانی، دودھ، شراب اور شہد کی نہریں بہتی ہیں ، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کی بات سچی نہیں۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۱ / ۴۳۲-۴۳۳، روح البیان، النساء، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۲۹۰، ملتقطاً)

لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِؕ-مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ-وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا(۱۲۳) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا(۱۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کام نہ کچھ تمہارے خیالوں پر ہے اور نہ کتاب والوں کی ہوس پر، جو برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گا نہ مددگار اور جو کچھ بھلے کام کرے گا مرد ہو یا عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے اور انہیں تِل بھر نقصان نہ دیا جائے گا ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: نہ تمہاری جھوٹی امیدوں کی کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اہلِ کتاب کی جھوٹی امیدوں کی۔ جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا اوراللہ کے سوا نہ کوئی اپنا حمایتی پائے گااور نہ مددگار۔ اور جو کوئی مرد ہو یا عورت اچھے عمل کرے اور وہ مسلمان بھی ہو تو یہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر تِل کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔

{مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ: جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔} یہاں لوگوں سے فرمایا گیا کہ نجات کا دارومدار نہ توتمہاری جھوٹی امیدیں ہیں کہ اے مشرکو! تم نے سوچ رکھا ہے کہ بت تمہیں نفع پہنچائیں گے اور نہ ہی نجات اہلِ کتاب کی جھوٹی امیدوں پر ہے جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ، ہمیں آگ چند روز سے زیادہ نہ جلائے گی یہود و نصاریٰ کا یہ خیال بھی مشرکین کی طرح باطل ہے بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا قانون یہ ہے کہ جو کوئی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گاخواہ مشرکین میں سے ہو یا یہودو نصاریٰ میں سے اور کافر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوانہ کوئی اپنا حمایتی پائے گااور نہ مددگار، البتہ جو مرد یا عورت نیک عمل کرے اور وہ مسلمان بھی ہو تو یہی با عمل مسلمان لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور یہ اپنے عمل کی جس جزا کے مستحق ہیں اس میں سے تِل کے برابر بھی کم کر کے ان پر ظلم نہیں کیاجائے گا۔

وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ-وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا(۱۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا منہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکی والا ہے اور ابراہیم کے دین پر چلاجو ہر باطل سے جدا تھا اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنایا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اُس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والاہو اور وہ ابراہیم کے دین کا پیروکار ہو جو ہر باطل سے جدا تھے اوراللہ نے ابراہیم کو اپنا گہرا دوست بنالیا۔

{وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ: اور اُس سے بہتر کس کا دین جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا} کفار و مشرکین کے مذاہب کا باطل ہونا بیان کرنے کیلئے ایمان والوں کا بیان کیا گیا اور اب ایمان والوں کے امام و پیشوا اور قائد و رہنما حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بیان کیا جارہا ہے کہ اچھا دین توتابع فرمان مسلمان کا ہے جو اطاعت و اخلاص اختیار کرے اور دینِ ابراہیمی کی پیروی کرے جوکہ دینِ اسلام کے مُوافق ہے ۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت و ملت سیدُالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ملت میں داخل ہے اور دین محمدی کی خصوصیات اس کے علاوہ ہیں۔دین محمدی کی اتباع کرنے سے شریعت ِ ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پیروی بھی ہوجاتی ہے۔ چونکہ عرب اور یہود و نصاریٰ سب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبت پر فخر کرتے تھے اور آپ کی شریعت ان سب کو مقبول تھی اور شریعت ِ محمدی اس پر حاوی ہے تو ان سب کو دینِ محمدی میں داخل ہونا اور اس کو قبول کرنا لازم ہے۔

{خَلِیْلًا: گہرا دوست۔} خُلَّت کے معنی ہیں غیر سے مُنقطع ہوجانا، یہ اس گہری دوستی کو کہا جاتا ہے جس میں دوست کے غیر سے اِنقِطاع ہو جائے۔ ایک معنیٰ یہ ہے کہ خلیل اس محب کو کہتے ہیں جس کی محبت کاملہ ہو اور اس میں کسی قسم کا خَلَل اور نقصان نہ ہو ۔یہ معنیٰ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام میں پائے جاتے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن