30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
{وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ: اور جو رسول کی مخالفت کرے۔} اس آیت میں دو چیزوں سے منع کیا گیاہے جو حقیقت میں ایک ہیں۔ پہلی چیز کہ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت جائز نہیں اور دوسری بات کہ مسلمانوں کے راستے سے ہٹ کر چلنا جائز نہیں کیونکہ مسلمانوں کا راستہ اطاعت ِ رسول کا راستہ ہے تو اس سے ہٹنا اطاعتِ رسول سے ہٹنا ہوگا۔
مسلمانوں کا اجماع حجت اور دلیل ہے:
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا اجماع و اتفاق حجت و دلیل ہے اور اس کی مخالفت جائز نہیں جیساکہ کتاب و سنت کی مخالفت جائز نہیں۔(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۵، ص۲۵۳)
نیز اس سے ثابت ہوا کہ مسلمانوں کا راستہ ہی صراطِ مستقیم ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جماعت پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ہاتھ ہے۔(نسائی، کتاب تحریم الدم، قتل من فارق الجماعۃ۔۔۔ الخ، ص۶۵۶، الحدیث: ۴۰۲۷)ایک اور حدیث میں ہے کہ سوادِ اَعْظَم یعنی بڑی جماعت کی پیروی کرو جو اس گروہ سے جدا ہوا وہ جہنم میں گرا۔ (مستدرک، کتاب العلم، من شذّ شذّ فی النار، ۱ / ۳۱۷، الحدیث: ۴۰۳)
اس سے واضح ہے کہ حق مذہب اہلِ سنت و جماعت ہے کیونکہ یہی مسلمانوں کی اکثریت کا ہے اور یہی بڑی جماعت ہے۔
اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۱۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں پڑا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے اور اس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے وہ دور کی گمراہی میں جا پڑا۔
{اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ: اللہ شرک کو نہیں بخشے گا۔}اِس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کا قول ہے کہ یہ آیت ایک بوڑھے اَعرابی کے حق میں نازل ہوئی جس نے سیّدُالانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، یا نبیَّ اللہ! میں بوڑھا ہوں ، گناہوں میں غرق ہوں ، اس کے سوا کہ جب سے میں نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پہچانا اور اس پر ایمان لایا ہوں اس وقت سے کبھی میں نے اس کے ساتھ شرک نہیں کیا اور اس کے سوا کسی اور کو کارسازِ حقیقی نہیں بنایا اور جرأ ت و دلیری کے ساتھ گناہوں میں مبتلانہ ہوا اور ایک پل بھی میں نے یہ گمان نہ کیا کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بھاگ سکتا ہوں ، میں شرمندہ ہوں، تائب ہوں ، مغفرت چاہتا ہوں،اللہ عَزَّوَجَلَّ کے یہاں میرا کیا حال ہوگا؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۶، ۱ / ۴۳۰)
آیت’’ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
(1) …یہ آیت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ شرک نہیں بخشا جائے گا جبکہ مشرک اپنے شرک پر مرے اور یہی حکم کفر کا ہے بلکہ علماء نے یہاں شرک سے مراد کفر لیا ہے۔ ہاں کافر و مشرک زندگی میں توبہ کرے تواس کی توبہ یقیناً مقبول ہے ۔
(2)…آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ گناہِ کبیرہ ، حقوقُ اللہ اورحقوقُ العِباد تمام گناہ قابلِ مغفرت ہیں اگرچہ حقوقُ العِبادکی مغفرت کا طریقہ یہ ہوگا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ حق العبدصاحب ِحق سے معاف کرا دے گا۔
(3)…یہ بھی معلوم ہوا کہ کفر و شرک کے علاوہ گناہوں کی بخشش یقینی نہیں بلکہ امید ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا کہ جسے چاہے بخشے۔ اب اللہ عَزَّوَجَلَّ کسے چاہے گا یہ معلوم نہیں لہٰذا یہ آیت گناہ پر دلیر نہیں کرتی بلکہ گناہ سے روکتی ہے۔
اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًاۚ-وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ(۱۱۷)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ شرک والے اللہ کے سوا نہیں پوجتے مگر کچھ عورتوں کو اور نہیں پوجتے مگر سرکش شیطان کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ شرک کرنے والے اللہ کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند عورتوں کی اور یہ عبادت نہیں کرتے مگر سرکش شیطان کی۔
{اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا:یہ شرک کرنے والے اللہ کے سوا عبادت نہیں کرتے مگر چند عورتوں کی۔} مشرکین کے بارے میں فرمایا کہ یہ کچھ عورتوں کو پوجتے ہیں یعنی مُؤنَّث بتوں کو پوجتے ہیں جیسے لات، عُزّٰی، مَنات وغیرہ یہ سب مؤنث نام ہیں۔(بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۱ / ۳۸۴)
یونہی عرب کے ہر قبیلے کا ایک بت ہوتا تھا جس کی وہ عبادت کرتے تھے اور اس کو اس قبیلہ کی اُنثیٰ یعنی عورت کہتے تھے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ مشرکینِ عرب اپنے باطل معبودوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اس لئے آیت میں فرمایا کہ مشرک عورتوں کو پوجتے ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ مشرکین بتوں کو زیور وغیرہ پہنا کر عورتوں کی طرح سجاتے تھے۔ اس لئے انہیں عورتیں فرمایا گیا ہے۔(ابو سعود، النساء، تحت الآیۃ: ۱۱۷، ۱ / ۵۸۵)
ان مشرکین کے متعلق فرمایا کہ یہ حقیقت میں شیطان مردود کو پوجتے ہیں کیونکہ اسی کے بہکانے سے ہی یہ بت پرستی کرتے ہیں۔
لَّعَنَهُ اللّٰهُۘ-وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ(۱۱۸)
ترجمۂ کنزالایمان: جس پر اللہ نے لعنت کی اور بولا قسم ہے میں ضرور تیرے بندوں میں سے کچھ ٹھہرایا ہوا حصہ لوں گا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جس پر اللہ نے لعنت کی اور اس نے کہا: میں ضرور تیرے بندوں سے مقررہ حصہ لوں گا۔
{لَعَنَهُ اللّٰهُ: جس پر اللہ نے لعنت کی۔} یہاں شیطان مراد ہے ، اس پراللہ عَزَّوَجَلَّ نے لعنت کی اور اس نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے مقررہ حصہ ضرور لوں گا یعنی انہیں اپنا اطاعت گزار بناؤں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع