30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
{وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ: اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو ۔} اس آیت کاشانِ نزول یہ ہے کہ احدکی جنگ سے جب ابو سفیان اور ان کے ساتھی واپس ہوئے توسرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جو صحابہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اُحد میں حاضر ہوئے تھے انہیں مشرکین کے تَعاقُب میں جانے کا حکم دیا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم زخمی تھے، انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔(خازن، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱ / ۴۲۶)
اور فرمایا گیا کہ اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے تو انہیں بھی پہنچی ہے نیز تمہیں تو تکلیفیں اٹھانے پراللہ عَزَّوَجَلَّ سے ثواب کی امید ہے جبکہ کافروں کو ایسی کوئی امید نہیں تو تم پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو۔
اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُؕ-وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآىٕنِیْنَ خَصِیْمًاۙ(۱۰۵) وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ(۱۰۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اے محبوب بے شک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری کہ تم لوگوں میں فیصلہ کرو جس طرح تمہیں اللہ دکھائے اور دغا والوں کی طرف سے نہ جھگڑو ۔اور اللہ سے معافی چاہو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے حبیب! بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری تاکہ تم لوگوں میں اس (حق) کے ساتھ فیصلہ کرو جواللہ نے تمہیں دکھایا ہے اورتم خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کرنا۔اور اللہ کی بارگاہ میں استغفار کریں۔ بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ:اے حبیب!بیشک ہم نے تمہاری طرف سچی کتاب اتاری۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طُعْمَہ بن اُبیر ِق نے اپنے ہمسایہ قتادہ بن نعمان کی زرہ چرا کر آٹے کی بوری میں ایک یہودی کے ہاں چھپادی جب زرہ کی تلاش ہوئی اور طعمہ پر شُبہ کیا گیا تو وہ انکار کرگیا اور قسم کھا گیا۔ بوری پھٹی ہوئی تھی اور آٹا اس میں سے گرتا جاتا تھا، اس کے نشان سے لوگ یہودی کے مکان تک پہنچے اور بوری وہاں پائی گئی، یہودی نے کہا کہ طعمہ اس کے پاس رکھ گیا ہے اور یہودیوں کی ایک جماعت نے اس کی گواہی دی اور طعمہ کی قوم بنی ظفر نے یہ عَزم کرلیا کہ یہودی کو چور قرار دیں گے اور اس پر قسم کھالیں گے تاکہ ہماری قوم رسوا نہ ہو اور ان کی خواہش تھی کہ رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ طعمہ کو بری کردیں اور یہودی کو سزا دیں۔ اسی لیے انہوں نے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سامنے طعمہ کے حق میں اور یہودی کے خلاف جھوٹی گواہی دی۔ تب یہ آیتِ کریمہ اتری۔(بیضاوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۵، ۲ / ۲۴۸)
حکام فیصلہ کرنے میں کوتاہی نہ کریں :
اس آیت میں بظاہر خطاب حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ہے لیکن در حقیقت قیامت تک کے حکام کو سنانا مقصود ہے کہ فیصلہ کرنے میں کوتاہی نہ کیا کریں اور صحیح ملزم کو بغیر رُو رعایت سزا پوری دیا کریں۔ طعمہ بظاہر مومن تھا اور یہودی کافر تھا مگر فیصلہ اس موقعہ پر یہودی کے حق میں ہوا۔
اسی آیت سے تعصب کا رد بھی ہوتا ہے کہ اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ آدمی اپنی قوم یا خاندان کی ہر معاملے میں تائید کرے اگرچہ وہ باطل پر ہوں بلکہ حق کی اِتّباع کرنا ضروری ہے۔ اس میں رنگ و نسل، قوم وعلاقہ، ملک و صوبہ، زبان و ثقافت کے ہر قسم کے تعصب کا رد ہے۔ کثیر احادیث میں بھی تعصب کا شدید رد کیا گیا ہے ، چنانچہ ان میں سے 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت فُسِیلہرَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : میرے والد نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کی :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا اپنی قوم سے محبت رکھنا بھی تعصب ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’نہیں ، بلکہ اپنی قوم کی ظلم میں مدد کرنا تعصب ہے۔(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العصبیۃ، ۴ / ۳۲۷، الحدیث: ۳۹۴۹)
(2)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جو بلا وجہ جنگ کرے یا تعصب کی جانب بلائے یا تعصب کی وجہ سے غصہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب العصبیۃ، ۴ / ۳۲۶، الحدیث: ۳۹۴۸)
(3)…حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بد ترین شخص وہ ہو گا جس نے کسی کی دنیا کی خاطر اپنی آخرت برباد کر لی۔ (ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب اذا التقی المسلمان بسیفہما، ۴ / ۳۳۹، الحدیث: ۳۹۶۶)
وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ(۱۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کی طرف سے نہ جھگڑو جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں بے شک اللہ نہیں چاہتا کسی بڑے دغا باز گنہگار کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان لوگوں کی طرف سے نہ جھگڑنا جو اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے ہیں۔ بیشک اللہ پسند نہیں کرتا اُسے جو بہت خیانت کرنے والا، بڑا گناہگار ہو۔
{وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ: اور خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑنا} گزشتہ آیت میں اور اِس آیت میں فرمایا کہ خیانت کرنے والوں کی طرف سے نہ جھگڑو۔
خیانت کرنے والوں کا ساتھ دینے کی مذمت:
اس سے وکالت کا پیشہ کرنے والوں کوغور کرنا چاہیے کہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ وکیل کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا موکل مجرمو خائن ہے لیکن وہ مال بٹورنے کے چکر میں مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم بنا دیتا ہے اور ظالم کی طرف داری کرتا ہے، اس کی طرف سے دلائل پیش کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دوسرے فریق کا حق مارتا ہے اور نہ جانے کن کن حرام کاموں کا مُرْتَکِب ہوتا ہے۔ کورٹ کچہری سے تعلق رکھنے والے حضرات ان باتوں کو بخوبی جانتے ہیں۔ ان حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان کو بغور پڑھیں ، نیز اللہ تعالیٰ کے ان فرامین پر غور کریں ،چنانچہ اللہ تعالیٰ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع