اللہ تعالیٰ کے ذکر سے متعلق2شرعی مسائل
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-2-Para-4-To-6 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دوئم- پارہ چار تا چھ

یارب! عَزَّوَجَلَّ، یہ تیرا ہے اور یہ تیرے رسول کاہے ،میں اُس چیز پر بیعت کرتا ہوں جس پر تیرے رسول نے بیعت لی ۔ سُبْحَانَ اللہ، یہ خبر پا کر صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے فرمایا، کاش وہ مدینہ پہنچتے توان کا اجر کتنا بڑا ہوتا اور مشرک ہنسنے لگے اور کہنے لگے کہ جس مطلب کے لئے نکلے تھے وہ نہ ملا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔  (بغوی، النساء، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۳۷۵)

اور ان کی عظمت و شان کو بہترین انداز میں بیان فرمایا کہ جو راہِ خدا میں ہجرت کرے پھر اسے منزل تک پہنچنے سے پہلے موت آجائے تو اس کا اجر اللہ کریم کے وعدے اور اس کے فضل و کرم سے اس کے ذمۂ کرم پر ہے ، یوں نہیں کہ اس پر بطورِ معاوضہ واجب ہے کیونکہ اس طور پر کوئی چیزاللہ عَزَّوَجَلَّ  پر واجب نہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکی شان اس سے بلند ہے۔

نیکی کا ارادہ کر کے نیکی کرنے سے عاجز ہوجانے والا اس نیکی کا ثواب پائے گا:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو کوئی نیکی کا ارادہ کرے اور اس کو پورا کرنے سے عاجز ہوجائے وہ اس نیکی کا ثواب پائے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس شخص نے نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی نہیں کی تو ا س کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی کر لی تو اس کے لئے دس سے لے کر سات سو گنا تک نیکیا ں لکھ دی جاتی ہیں اور جس نے گناہ کا ارادہ کیا اور اس پر عمل نہیں کیا تو اس کا گناہ نہیں لکھا جاتا اور اگر وہ گناہ کر لے تو ایک گناہ لکھ دیاجاتا ہے۔(مسلم، کتاب الایمان، باب اذا ہمّ العبد بحسنۃ کتبت۔۔۔ الخ، ص۷۹، الحدیث: ۲۰۶(۱۳۰))

کن کاموں کے لئے وطن چھوڑنا ہجر ت میں داخل ہے:

             صدرُالاَفاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی  رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ طلب ِ ِعلم، جہاد، حج و زیارت ِ مدینہ، نیکی کے کام، زہد و قناعت اور رزقِ حلال کی طلب کے لیے ترک ِوطن کرنا خدا اور رسول کی طرف ہجرت ہے، اس راہ میں مرجانے والا اجر پائے گا۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے،  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جسے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ گئی وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان صرف درجۂ نبوَّت کا فرق ہو گا۔(معجم الاوسط، باب الیاء، من اسمہ یعقوب، ۶ / ۴۷۵، الحدیث: ۹۴۵۴)

            حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: جو حج کے لئے نکلا اور مر گیا، قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کاثواب لکھا جائے گا اور جو عمرہ کے لئے نکلا اور مر گیا، اس کے لئے قیامت تک عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا۔  (مسند ابو یعلی، مسند ابی ہریرۃ، ۵ / ۴۴۱، الحدیث: ۶۳۲۷)

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْامِنَ الصَّلٰوةِ ﳓ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْاؕ-اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا(۱۰۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بے شک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذا دیں گے بیشک کفار تمہارے کھلے دشمن ہیں۔

{وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ:اور جب تم زمین میں سفر کرو ۔} اس آیت میں نماز کو قَصر کرنے کا مسئلہ بیان کیا گیاہے یعنی سفر کی حالت میں ظہر ، عصر اور عشاء میں چار فرضوں کی بجائے دو پڑھیں گے۔

نمازِ قصر کے بارے میں 4مسائل:

            یہاں آیت کی مناسبت سے نما زِ قصر سے متعلق 4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں

(1)…اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں چار رکعت والی نماز کو پورا پڑھنا جائز نہیں ہے ۔

(2)… کافروں کا خوف قصر کے لیے شرط نہیں ، چنانچہ حضرت یعلیٰ بن امیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت عمر رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ ہم تو امن میں ہیں ( پھر ہم کیوں قصر کرتے ہیں ؟ ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا، اس کا مجھے بھی تعجب ہوا تھا تو میں نے نبیٔ  کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا ۔ اس پر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے لئے یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے صدقہ ہے تم اس کا صدقہ قبول کرو۔ (مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب صلاۃ المسافرین وقصرہا، ص۳۴۷، الحدیث: ۴(۶۸۶))

            آیت کے نازل ہونے کے وقت چونکہ سفر اندیشہ سے خالی نہ ہوتے تھے اس لیے آیت میں اس کا ذکر ہوا ہے ورنہ خوف اور اندیشہ کا ہونا کوئی شرط نہیں ہے، نیز صحابۂ کرام  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا بھی یہی عمل تھا کہ امن کے سفروں میں بھی قصر فرماتے جیسا کہ اوپر کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے اور اس کے علاوہ اور احادیث سے بھی یہ ثابت ہے ۔

 (3)…جس سفر میں قصر کیا جاتا ہے اس کی کم سے کم مدت تین رات دن کی مسافت ہے جو اونٹ یا پیدل کی متوسط رفتار سے طے کی جاتی ہو اور اس کی مقداریں خشکی اور دریا اور پہاڑوں میں مختلف ہوجاتی ہیں۔ ہمارے زمینی، میدانی سفر کے اعتبار سے فی زمانہ اس کی مسافت بانوے کلومیٹر بنتی ہے ۔

(4)… قصر صرف فرضوں میں ہے، سنتوں میں نہیں اور سفر میں سنتیں پڑھنی چاہئیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضر کی نماز اور سفر کی نماز کو فرض فرمایا تو ہم حضر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی اور سفر میں فرض نماز سے پہلے بھی نماز پڑھا کرتے تھے اور بعد میں بھی۔ (ابن ماجہ، کتاب اقامۃ الصلاۃ والسنّۃ فیہا، باب التطوع فی السفر، ۱ / ۵۶۱، الحدیث: ۱۰۷۲)

            نمازِ قصر کے بارے میں مزید مسائل جاننے کے بہار شریعت حصہ4 سے ’’نماز مسافر کا بیان‘‘مطالعہ فرمائیں۔

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآىٕفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ- فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآىٕكُمْ ۪- وَ لْتَاْتِ طَآىٕفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْۚ-وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةًؕ-وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْۚ-وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا(۱۰۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن