30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس سے معلوم ہوا کہ نیت بہت عظیم عمل ہے کہ حقیقتاً عمل کئے بغیر بھی سچی نیت ہونے کی صورت میں ثواب مل جاتا ہے۔ ہاں یہ ہے جو عذر کی وجہ سے جہاد میں حاضر نہ ہوسکے اگر چہ وہ نیت کا ثواب پائیں گے لیکن جہاد کرنے والوں کو عمل کی فضیلت اس سے زیادہ حاصل ہے۔ راہِ خدا میں جان و مال خرچ کرنے کی کتنی عظیم فضیلت ہے اس کیلئے ذیل کی 4احادیث کو ملاحظہ فرمائیں:
(1)… حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کی گئی : یارسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،لوگوں میں سے کون سا شخص افضل ہے؟ ارشاد فرمایا ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتاہے۔ (بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب افضل الناس مؤمن یجاہد بنفسہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۴۹، الحدیث: ۲۷۸۶)
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی گئی :کیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہا دکے برابر بھی کوئی عبادت ہے؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’تم ا س کی اِستِطاعت نہیں رکھتے ۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے سوال پھر دھرایا، یا تین بار پوچھا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہر بار فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ تیسری بار فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا جہاد سے واپسی تک اس شخص کی طرح ہے جو روزے دار ہو، قیام کرنے والا ہو، اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر عمل کرنے والا ہو، روزے اور نماز سے تھکتا یا اُکتاتا نہ ہو۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الشہادۃ فی سبیل اللہ تعالٰی، ص۱۰۴۴، الحدیث: ۱۱۰(۱۸۷۸))
(3)…حضرت خُریم بن فاتک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جس نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کچھ خرچ کیا اس کے لئے سات سوگناثواب لکھا جاتا ہے۔ (ترمذی، کتاب فضائل الجہاد، باب ما جاء فی فضل النفقۃ فی سبیل اللہ، ۳ / ۲۳۳، الحدیث: ۱۶۳۱)
(4)…حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللہ تعالیٰ کی راہ میں (نکل کر) ذکر کرنے کا ثواب مال خرچ کرنے سے سات لاکھ گُنا زیادہ ہے۔ (مسند امام احمد، مسند المکیین، حدیث معاذ بن انس الجہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ، ۵ / ۳۱۴، الحدیث: ۱۵۶۴۷)
دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةًؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠(۹۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اس کی طرف سے درجے اور بخشش اور رحمت اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس کی طرف سے بہت سے درجات اور بخشش اور رحمت ( ہے) اوراللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
{دَرَجٰتٍ مِّنْهُ: اس کی طرف سے بہت سے درجات۔} اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کا اجر بیان فرمایا کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کے بہت سے درجات، ان کے گناہوں کی بخشش اور جنت کی نعمتیں ہے اور اللہ تعالیٰ جہاد کرنے والوں کو بخشنے والا اور ان پر مہربان ہے۔(تفسیر سمرقندی، النساء، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۳۸۰)
جنت میں مجاہدین کے درجات اور مجاہدین کی بخشش:
احادیث میں مجاہدین کے جنتی درجات کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہے ،چنانچہ اس سے متعلق 3احادیث درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سیدُ المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے جنت میں سو درجے مہیا فرمائے، ہر دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہو گا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔(بخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب درجات المجاہدین فی سبیل اللہ۔۔۔ الخ، ۲ / ۲۵۰، الحدیث: ۲۷۹۰)
(2)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اے ابو سعید! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے نبی ہونے پر راضی ہو گیا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔ حضرت ابو سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو یہ بات اچھی لگی تو عرض کرنے لگے :یا رسولَ اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،اس بات کو دوبارہ ارشاد فرمائیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے دوبارہ اسی طرح فرمایا، پھر ارشاد فرمایا ’’ایک بات اور بھی ہے جس کی وجہ سے بندے کے سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے ۔میں نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، وہ درجہ کس چیز سے ملتا ہے؟ ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے،اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب بیان ما اعدّ اللہ تعالٰی للمجاہد فی الجنّۃ من الدرجات، ص۱۰۴۵، الحدیث: ۱۱۶(۱۸۸۴))
(3)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرے اور اس کا گھر سے نکلنا صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے اور اس کے دین کی تصدیق کی خاطر ہو تواللہ تعالیٰ اس کے لئے اس بات کا ضامن ہو جاتا ہے کہ (اگر وہ شہید ہو گیا تو) اس کو جنت میں داخل کرے گا یااجر اور غنیمت کے ساتھ ا س کو ا س کے مَسکَن میں واپس کر دے گا جہاں سے وہ روانہ ہو اتھا۔(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الجہاد والخروج فی سبیل اللہ، ص۱۰۴۲، الحدیث: ۱۰۴(۱۸۷۶))
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓىٕكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْؕ-قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِؕ-قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ-فَاُولٰٓىٕكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ(۹۷)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے تھے ان سے فرشتے کہتے ہیں تم کاہے میں تھے کہتے ہیں ہم زمین میں کمزور تھے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے تو ایسوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بری جگہ پلٹنے کی۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جن کی جان فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ان سے (فرشتے) کہتے ہیں : تم کس حال میں تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور تھے ۔ تو فرشتے کہتے ہیں : کیا اللہکی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ تویہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کتنی بری لوٹنے کی جگہ ہے۔
{ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ: اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے۔} یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے کلمہ اسلام تو زبان سے ادا کیا مگر جس زمانہ میں ہجرت فرض تھی اس وقت ہجرت نہ کی اور جب مشرکین جنگ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ کے لیے گئے تو یہ لوگ ان کے ساتھ ہوئے اور کفار کے ساتھ ہی مارے بھی گئے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، باب انّ الذین توفّاہم الملائکۃ۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۰۹، الحدیث: ۴۵۹۶،سنن الکبری للبیہقی، کتاب السیر، باب فرض الہجرۃ، ۹ / ۲۲، الحدیث: ۱۷۷۴۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع