30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا اس سے اس وقت سے پہلے پہلے کچھ (ہماری راہ میں ) خرچ کرلو کہ تم میں کسی کو موت آئے تو کہنے لگے، اے میرے رب !تو نے مجھے تھوڑی سی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالحین میں سے ہوجاتا۔
{وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ: اور ہم نے تمہیں جو رزق دیا اس سے کچھ (ہماری راہ میں ) خرچ کرلو۔} یعنی اے ایمان والو!ہم نے تمہیں جورزق دیااس میں جو صدقات واجب ہیں انہیں ادا کرواور یہ کام موت کی علامات ظاہر ہونے اور زبان بند ہو جانے سے پہلے پہلے کر لوتاکہ ایسا نہ ہو کہ تم میں کسی کو موت آئے تو وہ دل میں کہنے لگے، اے میرے رب! تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی تاکہ میں صدقہ دیتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا۔
وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَاؕ-وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠(۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور ہرگز اللّٰہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللّٰہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہرگز اللّٰہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا مقررہ وقت آجائے اور اللّٰہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
{وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا: اور ہرگز اللّٰہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا مقررہ وقت آجائے۔} یعنی یاد رکھو کہ جب اللّٰہ تعالیٰ کا وعدہ آجائے گا تو وہ ہر گز کسی جان کو مہلت نہ دے گا اور اللّٰہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں سے خبردار ہے ،وہ تمہیں ان کی جزا دے گا۔
یاد رہے کہ یہاں آیت میں وعدے سے وہ وعدہ مراد ہے جس کا فیصلہ ہو چکا ، جسے قضاء ِمُبْرَم کہتے ہیں ،اسی کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ‘‘(یونس:۴۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ مدت آجائے گی تووہ لوگایک گھڑی نہ تو اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے ہوسکیں گے۔
لیکن قضاء ِمُعَلَّق میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے، آئی ہوئی موت ٹل جاتی ہے، عمریں بڑھ جاتی ہیں ، اسی کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔
’’ یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ ۚۖ-وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ‘‘(رعد:۳۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ جو چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور برقراررکھتا ہے اور اصل لکھا ہوا اسی کے پاس ہے۔
شیطان نے جویہ عرض کیا تھا کہ
’’رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ‘‘(حجر:۳۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے رب! تو مجھے اس دن تک مہلت دیدے جب لوگ اٹھائے جائیں ۔
اور اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا تھا
’’فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ‘‘(حجر:۳۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس بیشک توان میں سے ہے جن کومہلت دی گئی ہے۔
یہ بھی اسی قضاء ِمُعَلَّق میں داخل ہے ۔اس سے واضح ہوا کہ ہر آیت اپنے اپنے موقع محل کے اعتبار سے درست ہے۔
اکثر مفسرین کے نزدیک سورۂ تغابُن مدنیہ ہے اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ آیت نمبر14 ’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ‘‘ سے شروع ہونے والی تین آیتوں کے علاوہ یہ سورت مکیہ ہے۔( خازن ، تفسیر سورۃ التغابن ، ۴ / ۲۷۴)
اس سورت میں 2 رکوع اور18آیتیں ہیں ۔
تغابُن کا لفظی معنی ہے خرید و فروخت میں نقصان پہنچانا اور یہ قیامت کے دن کا ایک نام بھی ہے۔اس سورت کی آیت نمبر 9میں بتایا گیا کہ قیامت کا دن ’’یَوْمُ التَّغَابُنِ‘‘ یعنی نقصان اور خسارے کا دن ہے ،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ تغابُن ‘‘کہتے ہیں ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں عقائد سے متعلق اُمور بیان کئے گئے ہیں ،نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی وہ صفات بیان کی گئیں جو اس کے علم ،قدرت اور عظمت پر دلالت کرتی ہیں ۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ کے رسولوں عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کے بشر ہونے کی وجہ سے جھٹلانے والی سابقہ امتوں کا انجام بیان کر کے کفار کو ڈرایا گیا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کا انکار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع