30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) …اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی تسبیح اور تقدیس بیان کی گئی اورنبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان فرمائے گئے ۔
(2) …یہ بتایاگیا کہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق پر یہ بڑا فضل ہے کہ اُس نے اُن کی ہدایت کیلئے اپنے حبیب محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایا۔
(3) …تورات کے احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں کی مذمت کی گئی اور یہودیوں سے کہا گیا کہ اگر وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دوست ہیں تو ذرا موت کی تمنا کریں ۔نیز یہ بتایا گیا کہ وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور یہودی جس موت سے بھاگتے ہیں وہ بہر صورت انہیں آ کر رہے گی۔
(4) …سورت کے آخر میں نمازِ جمعہ کے اَحکام بیان فرمائے گئے ہیں ۔
سورۂ جمعہ کی اپنے سے ما قبل سورت ’’صف‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ صف میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا حال بیان کیاگیا اور انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو اَذِیَّتیں دیں انہیں ذکر کیا گیا اور اس سورت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاحال اور ان کی امت کی فضیلت و شرافت بیان فرمائی تاکہ دونوں امتوں میں فرق ظاہر ہو جائے۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ صف میں ذکر کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ایک عظیم رسول کی تشریف آوری کی بشارت دی جن کا اسمِ گرامی احمد ہوگا اور سورۂ جمعہ میں بتایا گیا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے جن کی بشارت دی تھی وہ دو عالَم کے تاجدار اورا نبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سردار ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
یُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ الْمَلِكِ الْقُدُّوْسِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ(۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے بادشاہ کمال پاکی والا عزت والا حکمت والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اس اللّٰہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جو بادشاہ، نہایت پاکی والا، بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے۔
{یُسَبِّحُ لِلّٰهِ: اللّٰہ کی پاکی بیان کرتے ہیں ۔} یعنی آسمانوں اور زمین میں موجود تمام چیزیں اس اللّٰہ تعالیٰ کی ہر نقص و عیب سے پاکی بیا ن کرتی ہیں جس کی شان یہ ہے کہ وہ حقیقی بادشاہ،انتہائی پاکی والا ،عزت والا اور حکمت والا ہے۔
تسبیح تین طرح کی ہے۔
(1)…خَلقت کی تسبیح۔وہ یہ ہے کہ ہر شے کی ذات اور اس کی پیدائش خالق و قدیر رب تعالیٰ کی قدرت ، حکمت ، اس کی وحدانیّت اورہر نقص و عیب سے پاک ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
(2)… معرفت کی تسبیح ۔وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے مخلوق میں اپنی معرفت پیدا کردے اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرے ۔
(3)…ضروری تسبیح ۔ وہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر ایک جَوہَر پر اپنی تسبیح جاری فرماتا ہے اور معرفت کے بغیر ہی ہر جَوہَر یہ تسبیح کرتا ہے ۔( مدارک ، الجمعۃ ، تحت الآیۃ: ۱ ، ص۱۲۳۹ ، ملخصاً)
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۗ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍۙ(۲)
ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا کہ ان پر اس کی آیتیں پڑھتے ہیں اور انھیں پاک کرتے ہیں اور انھیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتے ہیں اور بے شک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللّٰہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتاہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔
{هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ: وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔} ارشاد فرمایاکہ وہی اللّٰہ ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کے نسب و شرافت کو وہ اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں ،ان کا نامِ پاک محمد مصطفٰی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہے،وہ ان کے سامنے قرآنِ مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں جن میں رسالت، حلال و حرام اور حق و باطل کا بیان ہے ،انہیں باطل عقیدوں ،مذموم اَخلاق، دورِ جاہلیّت کی خباثتوں اور قبیح اَعمال سے پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب اور حکمت(یعنی قرآن ،سنت اور فقہ یا شریعت کے اَحکام اور طریقت کے اَسرار) کا علم عطا فرماتے ہیں اور بیشک لوگ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے کہ شرک ،باطل عقائد، اور خبیث اَعمال میں گرفتار تھے اور انہیں کامل مرشد کی شدید حاجت تھی۔( خازن ، الجمعۃ ، تحت الآیۃ: ۲ ، ۴ / ۲۶۴ ، مدارک ، الجمعۃ ، تحت الآیۃ: ۲ ، ص۱۲۳۹ ، ملتقطاً)
نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صفت’’ نبی اُمّی ‘‘کی3 وجوہات:
سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک صفت ’’نبی اُمّی ‘‘ہے ،اس کی بہت سی وجوہات ہیں ، یہاں اس کی تین وجوہات ملاحظہ ہوں :
(1)…آپ اُمت ِاُمِیّہ کی طرف معبوث ہوئے ۔کتاب شعیاء میں ہے، اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے’’ میں اُمِیّوں میں ایک اُمّی بھیجوں گا اور اس پر نبوت ختم کردوں گا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع