30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(2)…محارم سے مراد عام ہے نسبی ہوں یا رضاعی یاسسرالی رشتہ سے، لہٰذا ماں ،بہن ،پھوپھی ،لڑکی اور رضاعی ماں اور بہن وغیرہما اور زوجہ کی ماں اور لڑکی جبکہ زوجہ مدخولہ(یعنی اس سے حقِ زوجیّت ادا کیا) ہو،اور مدخولہ نہ ہو تو اُس کی لڑکی سے تشبیہ دینے میں ظہار نہیں کہ وہ محار م میں نہیں ۔ یوہیں جس عورت سے اُس کے باپ یا بیٹے نے مَعَاذَ اللّٰہ زنا کیا ہے اُس سے تشبیہ دی یا جس عورت سے اس نے زنا کیا ہے اُس کی ماں یا لڑکی سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔
(3)…عورت مرد سے ظہار کے الفاظ کہے تو ظہار نہیں بلکہ(یہ الفاظ) لَغْوْ ہیں ۔( بہار شریعت، حصہ ہشتم، ظہار کا بیان، ۲ / ۲۰۷)
(4)…ظہار کا حکم یہ ہے کہ جب تک کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے جماع کرنا، یا شہوت کے ساتھ اُس کا بوسہ لینا، یا اُس کو چھونا، یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور بغیر شہوت چھونے یا بوسہ لینے میں حرج نہیں مگرلب کا بوسہ بغیر شہوت بھی جائز نہیں ،کفارہ سے پہلے جماع کرلیا تو توبہ کرے اور اُس کے لیے کو ئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا ،مگر خبر دار! پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قربت کرنے دے۔(بہار شریعت، حصہ ہشتم، ظہار کا بیان، ۲ / ۲۰۸)
نوٹ:ظہار سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ8سے ’’ظہار کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔نیز یاد رہے کہ دودھ پلانے والیاں دودھ پلانے کی وجہ سے ماؤں کے حکم میں ہیں اور حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ حرمت اور تعظیم کے اعتبارسے مائیں بلکہ حقیقی ماؤں سے بڑھ کر ہیں ،لہٰذا یہ آیت اُس آیت کے خلاف نہیں جس میں ارشاد فرمایاگیا :
’’وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْؕ ‘‘(احزاب:۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں ۔
کیونکہ یہاں حقیقی ماں کا ذکر ہے اور سورۂ اَحزاب میں حکمی ماں کا ذکر ہے۔
وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاؕ-ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے اور اللّٰہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کا تدارک(تلافی) کرنا چاہیں تو (اس کا کفارہ) میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرناہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللّٰہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىٕهِمْ: اور وہ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہیں ۔} اس سے پہلی آیت میں ظہار کی مذمت بیان کی گئی اور اب یہاں سے ظہار کا شرعی حکم بیان کیا جا رہاہے ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کریں ،پھر اس ظہار کو توڑ دینا اوراس کی وجہ سے ہونے والی حرمت کو ختم کر دینا چاہیں تو ان پر ظہار کا کفارہ ادا کرنا لازم ہے ، لہٰذا اُن پر ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے ایک غلام آزاد کریں ، یہ وہ حکم ہے جس کے ذریعے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے تاکہ تم دوبارہ ظہار نہ کرو اور اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور یہ بات یاد رکھو کہ اللّٰہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے اور وہ تمہیں ان کی جزا دے گا ،لہٰذا اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے لئے شریعت کی جو حدود مقرر کی ہیں ان کی حفاظت کرو اور کسی حد کو نہ توڑو۔( مدارک ، المجادلۃ ، تحت الآیۃ: ۳ ، ص۱۲۱۶ ، خازن ، المجادلۃ ، تحت الآیۃ: ۳ ، ۴ / ۲۳۷ ، روح البیان ، المجادلۃ ، تحت الآیۃ: ۳ ، ۹ / ۳۹۲ ، ملتقطاً)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :ظہار کرنے والا جماع کا ارادہ کرے تو کفارہ واجب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفارہ واجب نہیں اور اگر ارادۂ جماع تھا مگر زوجہ مر گئی تو واجب نہ رہا۔(بہار شریعت، حصہ ہشتم، کفارہ کا بیان، ۲ / ۲۱۰)
جب غلام پر قدرت ہے اگرچہ وہ خدمت کا غلام ہو تو کفارہ آزاد کرنے ہی سے ہو گا اور اگر غلام کی اِستطاعت نہ ہو خواہ ملتا نہیں یا اس کے پاس دام نہیں تو کفارہ میں پے در پے(یعنی مسلسل)دو مہینے کے روزے رکھے اور اگر اُس کے پاس خدمت کا غلام ہے یا مدیون (یعنی مقروض)ہے اور دَین(یعنی قرض)ادا کرنے کے لیے غلام کے سواکچھ نہیں تو ان صورتوں میں بھی روزے وغیرہ سے کفارہ ادا نہیں کرسکتا بلکہ غلام ہی آزاد کرنا ہوگا۔(بہار شریعت، حصہ ہشتم، کفارہ کا بیان، ۲ / ۲۱۳)
نوٹ:ظہار کے کفارے سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت حصہ8سے ’’کفارہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔
فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّاۚ-فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًاؕ-ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جسے بردہ نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا یہ اس لیے کہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللّٰہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جو شخص (غلام) نہ پائے تو میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا (شوہر پر لازم ہے) پھر جو (روزے کی) طاقت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ( لازم ہے) یہ اس لیے کہ تم اللّٰہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللّٰہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ: پھر جو شخص (غلام) نہ پائے۔} اس آیت میں ظہار کے کفارے کی مزید دو صورتیں بیان کی جا رہی ہیں ، چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ پھر جسے غلام نہ ملے تو اس صورت میں ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے کو چھونے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھنا شوہر پر لازم ہے ،پھر جو اتنے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس صورت میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع