دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-10-Para-28-To-30 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دہم- پارہ اٹھائیس تا تیس

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دہم- پارہ اٹھائیس تا تیس

ترین جرائم ہیں  کہ عام شروں  کے بعد ان کا ذکر خصوصیت سے فرمایا گیا۔

سورۂ ناس

سورۃُ النّاس کا تعارف

مقامِ نزول:

             سورۃُ النّاس زیادہ صحیح قول کے مطابق مدنی ہے ۔ (خازن ،  تفسیر سورۃ النّاس ،  ۴  /  ۴۳۰)

رکوع اور آیات کی تعداد:

            اس سورت میں  1رکوع اور 6 آیتیں  ہیں ۔

’’اَلنَّاس‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            عربی میں  انسانوں  کو ’’اَلنَّاس‘‘ کہتے ہیں ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۃُالنّاس‘‘ کہتے ہیں ۔

سورۃُ النّاس کے مضامین:

            اس سورۂ مبارکہ میں  ان جِنّات اور انسانوں  سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتے ہیں  ۔

سورۂ فَلق کے ساتھ مناسبت:

            سورۃُ النّاس کی اپنے سے ماقبل سورت ’’ فلق‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ فلق میں  ظاہری شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی تھی اور اس سورت میں  خفیہ شر سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ(۱) مَلِكِ النَّاسِۙ(۲)اِلٰهِ النَّاسِۙ(۳) مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴)الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵) مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تم کہو میں  اس کی پناہ میں  آیا جو سب لوگوں  کا رب۔سب لوگوں  کا بادشاہ۔سب لوگوں  کا خدا۔ اس کے شر سے جو دل میں  برے خطرے ڈالے اور دبک رہے ۔وہ جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتے ہیں ۔ جن اور آدمی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم کہو: میں  تمام لوگوں  کے رب کی پناہ لیتا ہوں  ۔ تمام لوگوں  کا بادشاہ۔ تمام لوگوں  کا معبود۔ بار بار وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے(پناہ لیتا ہوں )۔وہ جو لوگوں  کے دلوں  میں  وسوسے ڈالتا ہے۔ جنوں  اورانسانوں  میں  سے۔

{قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ: تم کہو: میں  تمام لوگوں  کے رب کی پناہ لیتا ہوں  ۔} اللّٰہ تعالیٰ ساری مخلو ق کا رب ہے مگر چونکہ انسان اشرفُ المخلوقات ہے، اس لئے ان کا خصوصیت سے ذکر فرمایا۔( خازن ،  النّاس ،  تحت الآیۃ: ۱ ،  ۴  /  ۴۳۰)

انسان کی عظمت و شرافت:

            اس سے انسان کی عظمت و شرافت بھی معلوم ہوئی کہ بطورِ خاص اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی رَبُوبِیَّت کی نسبت اُس کی طرف فرمائی۔ علماء نے یہاں  یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ اس سورت میں  پانچ مرتبہ     لفظ اَلنَّاسِ ‘‘ آیا ہے اس میں  حکمت یہ ہے کہ چونکہ انسان بچپن میں  صرف پرورش ہی پاتا ہے، اس لئے سب سے پہلے ’’رَبِّ النَّاسِ‘‘ یعنی رَبُوبِیَّت والی صفت کا ذکر فرمایا۔جبکہ انسان جوانی میں  مست ہو کر بے راہ ہو جاتا ہے، اس وقت اس پر قانونی گرفت کی ضرورت ہے، اس لئے یہاں ’’مَلِكِ النَّاسِ‘‘ یعنی لوگوں  کا بادشاہ فرمایا، اورچونکہ انسان بڑھاپے میں  عبادت میں  مشغول ہوتا ہے، اس لئے تیسری جگہ اللّٰہ تعالیٰ کی صفت ِ اُلُوہِیَّت اور معبودیَّت کا ذکر فرمایا یعنی ’’اِلٰهِ النَّاسِ‘‘۔ چوتھی جگہالنَّاسِ سے صالحین مراد ہوسکتے ہیں کہ شیطان عموماًانہیں  ہی وسوسوں  کے ذریعے عبادت سے ہٹانے کی کوشش کرتا ہے اور پانچویں  جگہ النَّاسِ سے مراد شر پسند اور فسادی لوگ ہو سکتے ہیں  کہ وہاں  لوگوں  کے شر سے پناہ مانگی گئی ہے۔

{مَلِكِ النَّاسِ: تمام لوگوں  کا بادشاہ ۔} یعنی ان کے کاموں  کی تدبیر فرمانے والاہے اورسب کا حقیقی حاکم و مالک کہ دنیا میں  بھی کسی کو حکومت و مِلکیَّت ملے تو اسی کی عطاسے ملتی ہے۔

{اِلٰهِ النَّاسِ: تمام لوگوں  کا معبود۔}  معبود ہونا اسی کے ساتھ خاص ہے اور سارے لوگوں  کا حقیقی معبود وہی ہے۔

{مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِ: باربار وسوسے ڈالنے والے، چھپ جانے والے کے شر سے۔} اس سے مراد شیطان ہے اوریہ اس کی عادت ہے کہ انسان جب غافل ہوتا ہے تو اس کے دِل میں  وسوسے ڈالتا ہے اورجب انسان اللّٰہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو شیطان دبک رہتا ہے اور ہٹ جاتاہے ۔

وسوسہ اور اِلہام میں  فرق:

             یاد رہے کہ برے خیال کو وسوسہ کہا جاتا ہے جبکہ اچھے خیالات کو اِلہام ۔ وسوسہ شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا اس پر لَا حَوْل پڑھنی چاہیے،اور اِلہام فرشتے کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتاہے، اس لئے اس پر اللّٰہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے۔ نفسِ اَمّارہ کے غلبہ میں  وسوسے زیادہ ہوتے ہیں جبکہ نفسِ مُطْمَئِنّہ کے غلبہ میں  اِلہام زیادہ۔ شیطان ہمارا ایسا دشمن ہے جو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن