دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-10-Para-28-To-30 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دہم- پارہ اٹھائیس تا تیس

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-دہم- پارہ اٹھائیس تا تیس

{قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ: تم فرماؤ! اے کافرو!۔} شانِ نزول :قریش کی ایک جماعت نے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے کہا کہ آپ ہمارے دین کی پیروی کیجئے ہم آپ کے دین کی پیروی کریں  گے۔ ایک سال آپ ہمارے معبودوں  کی عبادت کریں  ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں  گے۔ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ان سے فرمایا ’’اس بات سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ کہ میں  اس کے ساتھ اس کے غیر کو شریک کروں۔کفارکہنے لگے: تو آپ ایسا کیجئے کہ ہمارے کسی معبود کو ہاتھ ہی لگادیجئے ہم آپ کی تصدیق کردیں  گے اور آپ کے معبود کی عبادت کریں  گے۔ اس پر یہ سورۂ  مبارکہ نازل ہوئی اورسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّممسجد ِحرام میں  تشریف لے گئے ،وہاں  قریش کی وہ جماعت موجود تھی جس نے نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے یہ گفتگو کی تھی۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے یہ سورت انہیں  پڑھ کر سنائی تو وہ مایوس ہوگئے اور انہوں  نے حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو اور حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  کو اَذِیَّتیں  پہنچانا شروع کر دیں ۔ یاد رہے کہ اس آیت میں  وہ کفار مراد ہیں  جو اللّٰہ تعالیٰ کے علم میں  ایمان سے محروم تھے اور کفر پر ہی مرنے والے تھے۔( خازن ،  قل یا ایّہا الکافرون ،  ۴  /  ۴۱۷-۴۱۸)

سورہِ کافرون کے شانِ نزول سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس سے چند باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… کفار سے دینی صلح حرام بلکہ کئی صورتوں میں  کفر ہے۔

(2)… کفار کے بتوں  اور ان کے مذہبی اَیّام کی قابل ِتعظیم سمجھتے ہوئے ان کی تعظیم کرنا کفر ہے۔

(3)… مومن کے دل میں  کفار کی ہیبت نہیں  ہونی چاہیے۔

(4)…کفار کو شرعی عذر کے بغیر اچھے القاب سے یاد نہ کیا جائے۔

(5)… کافر کو بوقت ِ ضرورت موقع محل کی مناسبت سے کافر کہنا درست بلکہ اسلوب ِ قرآنی کے موافق ہے۔

{وَ لَاۤ اَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدْتُّمْ: اور نہ میں  اس کی عبادت کروں  گا جسے تم نے پوجا ۔} اس سے چند باتیں  معلوم ہوئیں : (1) انسان دُنْیَوی معاملات میں  نرم ہو، مگر دین میں  انتہائی مضبوط ہو،تا کہ کفار اس سے مایوس ہوں ۔(2) حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو اپنے مستقبل کی خبر تھی کہ وہ کبھی کفر ،شرک اور فسق نہیں  کرسکتے۔(3) مسلمان کو چاہیے کہ اپنے بارے میں  کفار کو مایوس کر دے کہ وہ اسے دین سے پھیر سکیں ۔

{وَ لَاۤ اَنْتُمْ عٰبِدُوْنَ مَاۤ اَعْبُدُ: اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں  عبادت کرتا ہوں ۔} اس سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو لوگوں  کے اچھے برے خاتمہ کی خبر دی ہے کہ کون کفر پر مرے گا اور کسے ایمان پر موت آئے گی کیونکہ یہاں  کلام ان کفار سے ہو رہا ہے جو کفر پر مرنے والے تھے۔

{لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ: تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔} یعنی تمہارے لئے تمہاراکفر اور میرے لئے میری توحید اور میرا اخلاص ہے۔اس کلام سے مقصود کفار کو ڈرانا ہے نہ کہ ان کے کفر سے راضی ہونا ۔( خازن ،  الکافرون ،  تحت الآیۃ: ۶ ،  ۴  /  ۴۱۸)

سورۂ نَصر

سورۂ نصر کاتعارف

مقامِ نزول:

             سورۂ نصر مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔ (خازن ،  تفسیر سورۃ النصر ،  ۴  /  ۴۱۸)

رکوع اور آیات کی تعداد:

            اس سورت میں  1رکوع اور3آیتیں  ہیں ۔

’’نصر ‘‘نام رکھنے کی وجہ :

            عربی میں  مدد کونصر کہتے ہیں  اور اس سورت کی پہلی آیت میں  یہ لفظ موجود ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ نصر‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا ہے۔

 سورۂ نصر کے مضامین:

            اس سورۂ مبارکہ میں  حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی اور یہ بتایاگیا کہ عنقریب لوگ گروہ در گروہ دین ِاسلام میں  داخل ہوں  گے اور آخری آیت میں  نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو اللّٰہ تعالیٰ کی تعریف اور پاکی بیان کرتے رہنے اور امت کے لئے مغفرت کی دعا مانگنے کا حکم دیاگیا۔

سورۂ کافرون کے ساتھ مناسبت:

            سورۂ نصر کی اپنے سے ما قبل سورت ’’کافرون‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ کافرون میں  یہ بتایاگیا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جس دین کی دعوت دیتے ہیں  وہ کافروں  کے دین کے خلاف ہے اور اس سورت میں  خبر دی گئی ہے کہ کافروں  کا دین مٹ جائے گا اور دین ِاسلام کو غلبہ حاصل ہو گا۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن