30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ تکبُّر یعنی اپنی بڑائی کا اظہار کرے بلکہ بندے کیلئے شایاں یہ ہے کہ وہ عاجزی اور اِنکساری کااظہار کرے ۔
(10)… اللّٰہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے پاک ہے۔( خازن ، الحشر ، تحت الآیۃ: ۲۳ ، ۴ / ۲۵۴ ، مدارک ، الحشر ، تحت الآیۃ: ۲۳ ، ص۱۲۲۸ ، ملتقطاً)
هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىؕ-یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے اللّٰہ بنانے والا پیدا کرنے والا ہر ایک کو صورت دینے والا اُسی کے ہیں سب اچھے نام اُس کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہی عزت و حکمت والا ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی اللّٰہ بنانے والا، پیدا کرنے والا، ہر ایک کو صورت دینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں ۔ آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز اسی کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی بہت عزت والا، بڑا حکمت والا ہے۔
{هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ: وہی اللّٰہ بنانے والا۔} یعنی وہی اللّٰہ ہے جس کی شان یہ ہے کہ وہ بنانے والا،عدم سے وجود میں لانے والا اور ہر ایک کو جیسی چاہے ویسی صورت دینے والا ہے، سب اچھے نام اسی کے ہیں جو کہ اس کی بلند صفات پر دلالت کرتے ہیں ،آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز تمام عیوب ونقائص سے اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور وہی حقیقی طور پر عزت والا، حکمت والا ہے۔( مدارک ، الحشر ، تحت الآیۃ: ۲۴ ، ص۱۲۲۸-۱۲۲۹ ، خازن ، الحشر ، تحت الآیۃ: ۲۴ ، ۴ / ۲۵۴-۲۵۵ ، ملتقطاً)
سورہِ حشر کی آخری تین آیات کی فضیلت:
سورہِ حشر کی آخری تین آیات کی بڑی فضیلت ہے ،حضرت معقل بن یسار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ جس نے صبح کے وقت تین مرتبہ ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمْ‘‘ کہا اور سورۂ حشر کی آخری تین آیات کی تلاوت کی تو اللّٰہ تعالیٰ 70,000 فرشتے مقرر کر دیتا ہے جوشام تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور اگر اسی دن انتقال کر جائے تو شہید کی موت مرے گا اور جو شخص شام کے وقت اُسے پڑھے تو اس کا بھی یہی مرتبہ ہے۔( ترمذی ، کتاب فضائل القرآن ، ۲۲-باب ، ۴ / ۴۲۳ ، الحدیث: ۲۹۳۱)
اس کی دوسری فضیلت ملاحظہ ہو،
حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے رات یادن میں سورہِ حشرکی آخری(تین) آیتیں پڑھیں اوراسی رات یادن میں اس کا انتقال ہو گیا تو اس نے جنت کو واجب کر لیا۔( شعب الایمان ، التاسع عشر من شعب الایمان۔۔۔ الخ ، فصل فی فضائل السور والآیات ، ۲ / ۴۹۲ ، الحدیث: ۲۵۰۱)
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کا تعارف
سورۂ مُمْتَحِنَہْ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن ، تفسیر سورۃ الممتحنۃ ، ۴ / ۲۵۵)
اس سورت میں 2 رکوع اور 13آیتیں ہیں ۔
’’مُمْتَحِنَہْ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
ایک قول یہ ہے کہ اس سورت کا نام ’’مُمْتَحِنَہْ‘‘ ہے،اس صورت میں اس کامعنی ہوگاعورتوں کاامتحان لینے والی سورت۔دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا نام ’’مُمْتَحَنَہْ‘‘ ہے ،یعنی اس سورت میں ان عورتوں کا ذکر ہے جن کاامتحان لیا گیا ہے۔ اس سورت کانام اس کی آیت نمبر10کے کلمہ ’’فَامْتَحِنُوْهُنَّ‘‘ سے ماخوذہے۔
سورۂ مُمْتَحِنَہْ کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں ان مشرکین کے اَحکام بیان کئے گئے جنہوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کیا اور جنہوں نے مسلمانوں سے جنگ نہیں کی نیز اس میں مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ آنے والی مومنہ عورتوں کے ایمان کا امتحان لینے کا حکم دیاگیا ہے ۔ اس سورت میں مزیدیہ مضامین بیان کئے گئے ہیں :
(1) …اس سورت کی ابتداء میں مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دوستی کرنے اور ان سے محبت رکھنے سے منع کیاگیا اور انہیں بتایا گیا کہ کفار کو جب بھی موقع ملے گا توتمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کمی نہیں کریں گے اور یہ بھی بتایاگیا کہ قیامت کے دن کافر اولاد اور کافر رشتہ دار کوئی فائدہ نہیں دیں گے بلکہ اس دن ایمان اور نیک اعمال کام آئیں گے ۔
(2) …اس کی مثال کے طور پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے ساتھیوں کی سیرت بیان کی گئی کہ کس طرح انہوں نے اپنی مشرک قوم سے بیزاری کا اظہار کیا تاکہ مسلمان حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سیرت کو اپنے لئے مشعلِ راہ بنائیں ۔
(3) …یہودیوں اور مشرکوں سے تعلُّقات کے بارے میں اصول بیان کئے گئے اور مدینہ منورہ ہجرت کر کے پہنچنے والی مومنہ عورتوں کا امتحان لینے کا حکم دیاگیا اور ان کے بارے میں شرعی حکم بیان کیا گیا۔
(4) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع