30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)… انسان اپنے اختیاری کام میں مختار ہے ۔
(2)… انسان کا اختیار مستقل نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت کے تابع ہے۔
(3)… دنیا کا ہر کام اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت اورارادے سے ہے مگر اس کی پسندیدگی سے نہیں ۔
(4)… اللّٰہ تعالیٰ بندے کے ہر کام کا ارادہ فرماتا ہے مگر اسے برے کام کی رغبت یا مشورہ نہیں دیتا بلکہ اس سے منع فرماتا ہے ، برے کاموں کی رغبت ابلیس لعین دیتا ہے۔
سورۂ اِنفطار مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن ، تفسیر سورۃ الانفطار ، ۴ / ۳۵۸)
اس سورت میں 1رکوع اور 19آیتیں ہیں ۔
’’اِنفطار ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
اِنفطار کا معنی ہے پھٹ جانا اور اس سورت کا یہ نام اس کی پہلی آیت میں مذکور لفظ ’’اِنْفَطَرَتْ‘‘ سے ماخوذ ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں قیامت کی علامات بیان کی گئی ہیں اور اس سورت میں یہ مضامین بیان ہوئے ہیں
(1)…اس سورت کی ابتداء میں قیامت قائم ہوتے وقت کائنات میں ہونے والی ہیبت ناک تبدیلیاں بیان کر کے فرمایا گیا کہ اس وقت ہر جان کو وہ سب کچھ معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو اس نے پیچھے چھوڑا۔
(2)…انسان کو عطا کی جانے والی نعمتیں بیان کر کے اسے جھنجوڑا گیا کہ کس چیز نے تجھے اپنے کرم والے رب عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا اور تو نے اس کی نافرمانی شروع کر دی۔
(3)… یہ بتایا گیا کہ ہر انسان پر کراماً کاتبین دو فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اَعمال اور اَقوال کے نگہبان ہیں اور وہ اس کے تمام اعمال جانتے ہیں ۔
(4)…اس سورت کے آخر میں نیکوں اور بدکاروں کا انجام بیان کیا گیا اور قیامت کے دن کے احوال بیان کئے گئے۔
سورۂ اِنفطار کی اپنے سے ما قبل سورت’’تکویر‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قیامت کی ہَولْناکیاں اور اَحوال بیان کئے گئے ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ(۱) وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ(۲) وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ(۳) وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ(۴) عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ(۵)
ترجمۂ کنزالایمان: جب آسمان پھٹ پڑے اور جب تارے جھڑ پڑیں اور جب سمندر بہادئیے جائیں اور جب قبریں کریدی جائیں ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب آسمان پھٹ جائے گا۔اور جب ستارے جھڑ پڑیں گے۔اور جب سمندر بہادیے جائیں گے۔اور جب قبریں کریدی جائیں گی۔ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔
{اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ: جب آسمان پھٹ جائے گا۔} اس آیت اوراس کے بعد والی 4آیات میں قیامت کےاَحوال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب آسمان فرشتوں کے نازل ہونے کے لئے پھٹ جائے گا اور جب ستارے اپنی جگہوں سے اس طرح جھڑ کے گر پڑیں گے جس طرح پروئے ہوئے موتی ڈوری سے گرتے ہیں اور جب سمندروں میں قائم آڑ دور کرکے انہیں بہادیا جائے گا اور میٹھے اور کھاری سمندر مل کر ایک ہوجائیں گے اور جب قبریں کریدی جائیں گی اور ان کے مردے زندہ کر کے نکال دئیے جائیں گے تو اس دن ہر جان کو معلوم ہوجائے گا جو اس نے نیک یا برا عمل آگے بھیجا اور جو نیکی بدی پیچھے چھوڑی۔ ایک قول یہ ہے کہ جو آگے بھیجا اس سے صدقات مراد ہیں اور جو پیچھے چھوڑ ااس سے میراث مراد ہے۔( روح البیان ، الانفطار ، تحت الآیۃ: ۱-۵ ، ۱۰ / ۳۵۵-۳۵۶ ، خازن ، الانفطار ، تحت الآیۃ: ۱-۵ ، ۴ / ۳۵۸ ، ملتقطاً)
اوریہ جاننا اعمال نامے پڑھنے کے ذریعے ہو گا جیسا کہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓىٕرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖؕ-وَ نُخْرِ جُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا(۱۳) اِقْرَاْ كِتٰبَكَؕ-كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًا ‘‘(بنی اسرائیل:۱۳ ، ۱۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہر انسان کی قسمت ہم نے اس کے گلے میں لگادی ہے اورہم اس کیلئے قیامت کے دن ایک نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ کھلا ہوا پائے گا۔ (فرمایا جائے گا کہ) اپنا نامہ اعمال پڑھ، آج اپنے متعلق حساب کرنے کیلئے تو خود ہی کافی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع