30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محفوظ رکھ کر پہنچا دئیے ہیں اور اللّٰہ تعالیٰ کووہ سب کچھ معلوم ہے جو ان رسولوں اور فرشتوں کے پاس ہے تو ان کے اُمور میں سے کوئی چیز بھی اللّٰہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اور اس نے اپنی پیدا کی ہوئی ہر چیز کی گنتی شمار کر رکھی ہے ۔( روح البیان، الجن، تحت الآیۃ: ۲۸، ۱۰ / ۲۰۲، خازن، الجن، تحت الآیۃ: ۲۸، ۴ / ۳۲۰، ملتقطاً)
سورۂ مزمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن ، تفسیر سورۃ المزمل ، ۴ / ۳۲۰)
اس سورت میں 2رکوع اور 20آیتیں ہیں ۔
مزمل کا معنی ہے چادر اوڑھنے والا اور اس سورت کی پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ فرما کر ندا کی ہے،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ مزمل‘‘ کہتے ہیں ۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عبادت، وظائف اور اَذکار سے متعلق کلام کیاگیا ہے اور اس میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں ۔
اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے بڑے لطف و کرم والے انداز میں خطاب فرمایا اور انہیں رات کے کچھ حصے میں اپنی عبادت کرنے،خوب ٹھہر ٹھہر کرقرآنِ مجید کی تلاوت کرنے کا حکم دیا اور انہیں بتایاکہ ہم عنقریب آپ پر ایک انتہائی عظمت،جلالت اور قدر والا کلام نازل فرمائیں گے ۔
(1)…یہ بتایا گیا کہ دن کے مقابلے میں رات کے وقت عبادت کرنے میں زیادہ دل جمعی حاصل ہوتی ہے۔
(2)…کافر وں کی گستاخیوں پررسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو صبر کرنے کی تلقین کی گئی اور آپ سے فرمایا گیا کہ جو لوگ آپ کواور قرآنِ مجید کو جھٹلا رہے ہیں آپ کی طرف سے انہیں اللّٰہ تعالیٰ کافی ہے۔
(3)…قیامت کے دن کفار کے عذاب کی کَیفِیّت بیان کی گئی اور کفارِ مکہ کو بتایاگیا کہ جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف رسول بھیجے اسی طرح اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری طرف بھی ایک رسول بھیجے جوتم پر گواہ ہیں اور اگر تم بھی ان کی نافرمانی کرتے رہے تو تمہیں فرعون سے زیادہ سخت عذاب میں مبتلا کیاجاسکتا ہے ۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ دنیا و آخرت کے عذاب سے ڈرانے والی آیات مخلوق کے لئے نصیحت ہیں اور جو چاہے ان سے نصیحت حاصل کرے۔
(5)…اس سورت کے آخر میں امت سے تہجد کی فرضِیّت منسوخ کر دی گئی اور عبادت کے معاملے میں آسانی فرما دی گئی۔
سورۂ مزمل کی اپنے سے ما قبل سورت ’’جن‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جن کے آخر میں وحی کی عظمت بیان ہوئی اور سورۂ مزمل میں بھی وحی کی عظمت بیان کی گئی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُۙ(۱) قُمِ الَّیْلَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ(۲) نِّصْفَهٗۤ اَوِ انْقُصْ مِنْهُ قَلِیْلًاۙ(۳) اَوْ زِدْ عَلَیْهِ وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًاؕ(۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اے جھرمٹ مارنے والے۔ رات میں قیام فرماسوا کچھ رات کے۔ آدھی رات یا اس سےکچھ کم کرو۔یا اس پر کچھ بڑھاؤ اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کے تھوڑے سے حصے کے سوا قیام کرو۔آدھی رات (قیام کرو) یا اس سے کچھ کم کرلو۔ یا اس پر کچھ اضافہ کرلو اور قرآن خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔
{یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ: اے چادر اوڑھنے والے۔} اس آیت کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ وحی نازل ہونے کے ابتدائی زمانے میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ خوف سے اپنے کپڑوں میں لپٹ جاتے تھے ،ایسی حالت میں حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ کہہ کر ندا کی ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ایک مرتبہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چادر شریف میں لپٹے ہوئے آرام فرما رہے تھے، اس حالت میں آپ کو ندا کی گئی ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ ۔( خازن ، المزمل ، تحت الآیۃ: ۱ ، ۴ / ۳۲۰ ، ابو سعود ، المزمل ، تحت الآیۃ: ۱ ، ۵ / ۷۸۲-۷۸۳)
آیت ’’یٰۤاَیُّهَا الْمُزَّمِّلُ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع