30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ: اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے۔}آیت کے اس حصے میں نیکی کا تیسرا اور چوتھا طریقہ بیان کیا گیا کہ فرض نمازیں ان کے ارکان و شرائط کے ساتھ ادا کرے اور اس کے مال میں جو زکوٰۃ واجب ہواسے ادا کرے۔
{وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ: اور اپنے عہد پورا کرنے والے۔}یہاں نیکی کے پانچویں طریقے کابیان ہے اور اس آیت میں عہد سے سارے جائز وعدے مراد ہیں خواہ اللہ تعالٰی سے کئے ہوں یا رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے یا اپنے شیخ سے یا نکاح کے وقت بیوی سے یا کسی اور سے جیسے حکمرانوں کے وعدے عوام سے، بشرطیکہ جائز وعدے ہوں ، ناجائز وعدوں کو پورا کرنے کی اجازت نہیں۔
{وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ:اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبرکرنے والے۔} آیت کے اس حصے میں نیکی کے چھٹے طریقے کا بیان ہے کہ فَقر و فاقہ اور بیماری وغیرہ کی مصیبت و سختی میں اور راہ خدا میں ہونے والی جنگ میں قتال کے وقت صبر کیا جائے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۷، ۱ / ۱۱۵)
یاد رہے کہ اس آیت میں صبر کے چند مقامات بیان ہوئے ،ان کے علاوہ بھی صبر کے بہت سے مقامات ہیں ، نیز صبر کے فضائل سورہ ٔبقرہ کی آیت نمبر 153کے تحت گزر چکے ہیں۔
{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ: یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔ }یعنی صحیح عقائد رکھنے والے اور نماز، زکوٰۃ، صدقات کے عامل، صبر کے عادی، وعدے کے پابند اور نیک اعمال کرنے والے ہی اپنےدعوی ایمان میں کامل طور پرسچے ہیں جو کفر اور دیگرتمام گناہوں سے بچنے والے ہیں۔ اللہ تعالٰی ہمیں بھی اپنے ایمان کا دعویٰ پرکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰىؕ-اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰىؕ-فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍؕ-ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌؕ-فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ (۱۷۸)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو! تم پر فرض ہے کہ جو ناحق مارے جائیں ان کے خون کا بدلہ لو آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی ہوئی تو بھلائی سے تقا ضا ہواور اچھی طرح ادا یہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارا بوجھ ہلکا کرنا ہے اور تم پر رحمت تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے خون کا بدلہ لینا فرض کردیا گیا، آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت، تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دیدی جائے تو اچھے طریقے سے مطالبہ ہواور وارث کو اچھے طریقے سے ادائیگی ہو۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے آسانی اور رحمت ہے ۔ تو اس کے بعد جو زیادتی کرے اس کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
{ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى: تم پر مقتولوں کے خون کا بدلہ لینا فرض کردیا گیا۔} یہ آیت اَوس اور خَزرج کے بارے میں نازل ہوئی ،ان میں سے ایک قبیلہ دوسرے سے قوت، تعداد، مال و شرف میں زیادہ تھا۔ اُس نے قسم کھائی تھی کہ وہ اپنے غلام کے بدلے دوسرے قبیلہ کے آزاد کو اور عورت کے بدلے مرد کو اور ایک کے بدلے دو کو قتل کرے گا، زمانہ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی زیادتیوں کے عادی تھے۔ عہد اسلام میں یہ معاملہ حضور سید الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں پیش ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی اور عدل و مساوات کا حکم دیا گیا ۔اس پر وہ لوگ راضی ہوئے۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸،۱ / ۲۱۳)
قرآن کریم میں قصاص کا مسئلہ کئی آیتوں میں بیان ہوا ہے، اس آیت میں قصاص اور معافی دونوں مسئلے ہیں اور اللہ تعالٰی کے اس احسان کا بیان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو قصاص اورمعافی میں اختیار دیا ہے۔اس آیت ِ مبارکہ اور اس کے شانِ نزول سے اسلام کی نظر میں خونِ انسان کی حرمت کا بھی علم ہوتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ قتلِ عمد کی صورت میں قاتل پر قصاص واجب ہے خواہ اس نے آزاد کو قتل کیا ہو یا غلام کو، مرد کو قتل کیا ہو یا عورت کو کیونکہ آیت میں ’’قَتْلٰى‘‘ کا لفظ جو قتیل کی جمع ہے وہ سب کو شامل ہے۔ البتہ کچھ افراد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جن کی تفصیل فقہی کتابوں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ نیز اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو قتل کرے گا وہی قتل کیا جائے گاخواہ آزاد ہو یا غلام ،مرد ہو یا عورت اور زمانۂ جاہلیت کی طرح نہیں کیا جائے گا ، ان میں رائج تھا کہ آزادوں میں لڑائی ہوتی تو وہ ایک کے بدلے دو کو قتل کرتے، غلاموں میں ہوتی تو بجائے غلام کے آزاد کو مارتے، عورتوں میں ہوتی تو عورت کے بدلے مرد کو قتل کرتے اور محض قاتل کے قتل پر اکتفا نہ کرتے بلکہ بعض اوقات بہت بڑی تعداد میں قتل و غارت گری کاسلسلہ جاری رکھتے۔ ان سب چیزوں سے منع کردیا گیا ۔
{فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ: تو جس کے لئے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دیدی جائے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جس قاتل کو مقتول کے اولیاء کچھ معاف کریں جیسے مال کے بدلے معاف کرنے کا کہیں تو یہاں قاتل اور اولیاءِ مقتول دونوں کو اچھا طریقہ اختیار کرنے کا فرمایا گیا ہے۔ مقتول کے اولیاء سے فرمایا کہ اچھے انداز میں مطالبہ کریں ، شدت و سختی نہ کریں اور قاتل سے فرمایا کہ وہ خون بہاکی ادائیگی میں اچھا طریقہ اختیار کرے ۔ آیت میں قاتل اور مقتول کے وارث کو بھائی کہا گیا اس سے معلوم ہوا کہ قتل اگرچہ بڑاگناہ ہے مگر اس سے ایمانی بھائی چارہ ختم نہیں ہوجاتا۔ اس میں خارجیوں کے مذہب کی تردید ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر کہتے ہیں۔اہلسنّت کا عقیدہ یہ ہے کہ گناہ ِ کبیرہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے کافر نہیں۔
(1)… مقتول کے ولی کو اختیار ہے کہ خواہ قاتل کو بغیر عوض معاف کردے یامال پر صلح کرے اوراگر وہ اس پر راضی نہ ہواور قصاص چاہے تو قصاص ہی فرض رہے گا۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸،۱ / ۲۱۳)
(2) …اگر مال پر صلح کریں تو قصاص ساقط ہوجاتا ہے اور مال واجب ہوتا ہے۔(تفسیرات احمدیہ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۸، ص۵۲)
مزید تفصیلات کیلئے بہارِ شریعت حصہ 17کا مطالعہ فرمائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع