دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

کردیا تو انہیں دگنا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت کر،جبکہ پیشوا اپنے پیروکاروں سے نفرت و بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ مضمون قرآن پاک میں متعدد جگہوں پر بیان کیا گیا ہے مثلاسورۂ احزاب آیت66تا 68 اور سورۂ سَبا آیت 31تا 33 وغیرہ۔

{وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ: اور سب رشتے ناتے کٹ جائیں گے۔}یعنی قیامت کے دن کافروں کے وہ تمام تعلقات جو دنیا میں ان کے مابین تھے خواہ وہ دوستیاں ہوں یا رشتہ داریاں یا باہمی موافقت کے عہدوہ سب ختم ہوجائیں گے اور ہر کوئی اپنے اعمال کا جوابدہ ہوگا ، کوئی کسی کا مددگار نہ بن سکے گا۔ یاد رہے کہ قیامت کے دن کفار کے رشتے تو ٹوٹ جائیں گے لیکن اولیاء و متقین و صالحین کے ساتھ مسلمانوں کا رشتہ باقی رہے گاجیسے قرآن پاک میں ہے:

اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ (الزخرف:۶۷)

ترجمۂ  کنزالعرفان: پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّاؕ-كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْؕ-وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠(۱۶۷)

 ترجمۂ  کنزالایمان: اور کہیں گے پیرو کاش ہمیں لوٹ کر جانا ہوتا (دنیا میں )تو ہم ان سے توڑ دیتے جیسے انہوں نے ہم سے توڑ دی، یونہی اللہ انہیں دکھائے گا ان کے کام ان پر حسرتیں ہوکر اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور پیروکار کہیں گے اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹ کرجانا مل جائے تو ہم ان پیشواؤں سے ایسے ہی بیزار ہوجاتے جیسے یہ ہم سے بیزار ہوئے ہیں۔ اللہ اسی طرح انہیں ان کے اعمال ان پر حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ دوزخ سے نکلنے والے نہیں۔

{لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً: اگر ہمیں ایک مرتبہ لوٹ کر جانا مل جاتا۔} کافر انتہائی تمنا کریں گے کہ کاش انہیں ایک مرتبہ دنیا میں لوٹ کر جانا مل جائے تو اولاً اپنے پیشواؤں سے بیزاری کا اظہار کرلیں ، مزید اپنے باطل معبودوں سے بیزار ہوجائیں اور تیسرا ایمان لا کر نیک اعمال کرلیں۔ کافروں کی موت کے وقت بھی ایسی ہی تمنائیں ہوتی ہیں جیسا کہ سورۂ مومنون آیت  99اور100میں ہے کہ کافر کہے گا ،اے اللہ مجھے واپس لوٹا دے تاکہ میں کچھ تو نیکی کرلوں۔ یونہی سورۂ زُمر آیت 58 میں ہے کہ کافر کہے گا ، اے کاش کہ مجھے ایک مرتبہ واپسی مل جائے تاکہ میں نیکیاں کرلوں۔ اس طرح کا مضمون پارہ 24 سورۂ زمراور سورۂ مومن میں کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔

نیک اعمال کی حسرت کرنے والے لوگ:

            یاد رہے کہ ایمان اور اعمالِ صالحہ کی اصل حسرت تو کافر ہی کو ہوگی لیکن مسلمان بھی نیکیوں کی کمی اور گناہوں میں ملوث ہونے پر حسرت کا اظہار کریں گے، جیسے حدیث مبارک ہے ’’ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ہر مرنے والے کو افسوس و ندامت ہوگی۔ صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی: یارسول اللہ!صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا ندامت ہوگی؟ فرمایا: ا گر نیک ہوگا تو زیادہ نیکیاں نہ کرنے پر نادم ہوگا اوراگر گنہگار ہوگا توگناہوں سے باز نہ آنے پر نادم ہوگا۔ (ترمذی، کتاب الزہد، ۵۹-باب، ۴ / ۱۸۱، الحدیث: ۲۴۱۱)

            حسرت کی اور بھی صورتیں ہوں گی جیسے دوسروں پر ظلم کرنے اور انہیں تکلیف دینے والوں کو ڈھیروں ڈھیر نیکیوں کے باوجود حسرت ہوگی کیونکہ ان کی نیکیاں دوسروں کو دیدی جائیں گی۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۵۹(۲۵۸۱)) جسے طلب علم کا موقع ملا لیکن علم حاصل نہ کیا اسے حسرت ہو گی۔(ابن عساکر، حرف المیم، محمد بن احمد بن جعفر۔۔۔ الخ،۵۱ / ۱۳۷) کسی جگہ جمع ہونے والے لوگ اللہ تعالٰی کا ذکر کئے بغیر اٹھ گئے تو وہ مجلس ان کے لئے حسرت ہوگی۔(مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب الزہد، کلام عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، ۸ / ۱۸۹، الحدیث: ۴)

{كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ: اللہ اسی طرح انہیں ان کے اعمال دکھائے گا۔} قیامت کے دن اللہ تعالٰی کافروں کے برے اعمال ان کے سامنے کرے گا تو انہیں نہایت حسرت ہوگی کہ انہوں نے یہ کام کیوں کئے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جنت کے مقامات دکھا کر ان سے کہا جائے گا کہ اگر تم اللہ تعالٰی کی فرمانبرداری کرتے تو یہ تمہارے لیے تھے، پھر جنت کی وہ عالیشان منزلیں مؤمنین کو دیدی جائیں گی ۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۶۷، ۱ / ۱۱۰)

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)

ترجمۂ  کنزالایمان: اے لوگوں کھاؤ جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اور شیطان کے قدم پر قدم نہ رکھو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔

{یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا: جو کچھ زمین میں حلال پاکیزہ ہے اس میں سے کھاؤ ۔} مشرکین نے اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو حرام قرار دیا ہوا تھا ،اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی کہ زمین میں پیدا شدہ چیزیں اللہ تعالٰی نے حلال کی ہیں اور لوگوں کے نفع کیلئے ہی انہیں پیدا کیا ہے لہٰذا صرف ان چیزوں سے بچو جنہیں اللہ تعالٰی نے خود منع فرما دیا اور جن چیزوں سے اللہ  تعالٰی نے منع نہیں فرمایا وہ سب حلال ہیں۔

 اللہ تعالٰی کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا کیسا ہے؟

            اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالٰی کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دینا اس کی رَزّاقِیَّت سے بغاوت ہے مسلم شریف کی حدیث ہے کہ اللہ  تعالٰی فرماتا ہے: جو مال میں اپنے بندوں کو عطا فرماتا ہوں وہ ان کے لیے حلال ہے۔ اور اسی حدیث میں ہے کہ’’ میں نے اپنے بندوں کو باطل سے بے تعلق پیدا کیا پھر ان کے پاس شیاطین آئے اور انہوں نے لوگوں کودین سے بہکایا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا اس کو حرام ٹھہرایا۔(مسلم، کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلہا، باب صفات التی یعرف بہا فی الدنیا اہل الجنۃ واہل النار، ص۱۵۳۲، الحدیث: ۶۳(۲۸۶۵))

حلال و طیب رزق سے کیا مراد ہے؟

            حلال و طیب سے مراد وہ چیز ہے جو بذات ِ خود بھی حلال ہے جیسے بکرے کا گوشت، سبزی، دال وغیرہ اور ہمیں حاصل بھی جائز ذریعے سے ہو یعنی چوری، رشوت، ڈکیتی وغیرہ کے ذریعے نہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن