30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والے ان پر لعنت کرتے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو توبہ کریں اور اصلاح کرلیں اور ( چھپی ہوئی باتوں کو) ظاہر کردیں تو میں ان کی توبہ قبول فرماؤں گا اور میں ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہوں۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى:بیشک وہ لوگ جو ہماری اتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔} یہ آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو توریت شریف کے احکام اور اس میں موجود نعت مصطفٰی کی آیتیں چھپاتے تھے۔ (صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۱ / ۱۳۳)
دینی مسائل کوچھپانا گناہ ہے خواہ اس طرح کہ ضرورت کے وقت بتائے نہ جائیں یا اس طرح کہ غلط بتائے جائیں بلکہ غلط بتانے پر تو بہت سخت وعیدیں ہیں۔ یہ دونوں گناہ علماء یہود کرتے تھے کہ حضورپر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت بتاتے نہ تھے اور زنا کی سزا بدل دیتے تھے کہ بجائے رجم کے منہ کالا کراتے تھے۔(تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۹، ۱ / ۱۴۰)
سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 79میں بھی یہودیوں کی اس طرح کی حرکتوں کا بیان گزر چکا ہے۔
احادیث میں دینی مسائل چھپانے کی سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں ، چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ جس سے علم کی کوئی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے لیکن وہ اسے چھپاتا ہے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی۔‘‘(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی کتمان العلم، ۴ / ۲۹۵، الحدیث: ۲۶۵۸)
حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے،نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جو علم کے بغیر فتویٰ دے اس پر زمین و آسمان کے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔(ابن عساکر، محمد بن اسحاق بن ابراہیم۔۔۔ الخ، ۵۲ / ۲۰)
غلط مسائل بیان کرنے والوں ، بغیر پڑھے عالم و مفتی و محدث و مفسر کہلانے والوں اور قرآن و حدیث کی غلط تشریحات و توضیحات کرنے والوں کی آج کل کمی نہیں اور یہ سب مذکورہ آیت و احادیث کی وعید میں داخل ہیں۔ اسی وعید میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ہیں تو محض کوئی آرٹیکل یا کالم لکھنے والے لیکن دین کو بھی اپنے قلم سے تختہ مشق بناتے ہیں۔
{یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ: اللہ ان پر لعنت فرماتا ہے۔} اسلام کی حقانیت، حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت اور شریعت کے احکام چھپانے والوں پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے اور دیگر حضرات یعنی ملائکہ و مومنین کی بھی لعنت ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ(۱۶۱)
ترجمۂ کنزالایمان:بیشک وہ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں سب کی ۔
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور کافر ہی مرے ان پراللہ اور فرشتوں او ر انسانوں کی ،سب کی لعنت ہے۔
{وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ: اور جو حالتِ کفر میں مرے۔} سب سے بدبخت آدمی کفر پر مرنے والا ہے اگرچہ اس کی ساری زندگی اعلیٰ درجے کی عبادت و ریاضت اور تبلیغ و خدمت ِ دین میں گزری ہو ۔کفر پر مرنے والوں پراللہ تعالٰی کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا مرتے وقت ایمان کی دولت سے محروم رہ جاناسب سے بڑی بدبختی ہے اور اس وقت ایمان کاسلامت رہ جانا بہت بڑی سعادت ہے ،لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اگرچہ کتنا ہی نیک و پارسا،عبادت گزار اور پرہیزگار کیوں نہ ہواپنے برے خاتمے سے خوفزدہ رہے ۔ہمارے بزرگانِ دین کا بھی یہی طرز عمل رہا ہے کہ وہ سب سے زیادہ برے خاتمے کے بارے میں خوفزدہ رہتے تھے۔چنانچہ جب حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِکا وقت وصال آیا تو آپ نے رونا شروع کر دیا، ان سے کہا گیا: آپ امید رکھئے ،اللہ تعالٰی سب سے بڑھ کر گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: (تم کیاسمجھتے ہو کہ) کیا میں اپنے گناہوں کی وجہ سے آنسو بہا رہا ہوں ؟ اگر میں جانتا کہ اللہ تعالٰی کی وحدانیت پر قائم رہتے ہوئے مروں گا تو پھر مجھ پر پہاڑوں کے برابر بھی گناہ ڈال دئیے جاتے تو مجھے کوئی پروا نہ ہوتی۔ (یعنی ایمان پر موت ہوجائے تو مجھے کچھ ڈر نہیں۔)(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان الدواء الذی بہ یستجلب۔۔۔ الخ، ۴ / ۲۱۱)
حضرت امام احمد بن حنبلرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے انتقال کے وقت جب آپ کے صاحب زادے نے طبیعت دریافت کی تو فرمایا،’’ابھی جواب کا وقت نہیں ہے ، بس دعا کرو کہ اللہ تعالٰی میرا خاتمہ ایمان پر کر دے کیونکہ ابلیس لعین اپنے سر پر خاک ڈالتے ہوئے مجھ سے کہہ رہا ہے کہ ’’تیرا دنیاسے ایمان سلامت لے جانا میرے لئے باعث ِ ملال ہے۔ اور میں اس سے کہہ رہا ہوں کہ ابھی نہیں ، جب تک ایک بھی سانس باقی ہے میں خطرے میں ہوں ، میں (تجھ سے ) پرامن نہیں ہوسکتا ۔(تذکرۃ الاولیاء، ذکر امام احمد حنبل، ص۱۹۹، الجزء الاول)
حضور غوثِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اولیاء کے سردار ہیں لیکن خوف ِ خدا کا جو عالم تھااس کا اندازہ آپ کی طرف منسوب ان اشعار سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عید کے دن فرمایا :
خلق گوید کہ فردای روز عید است خوشی در روحِ ہر مومن پدید است
دراں روزے کہ باایماں بمیرم مرا در ملک خود آں روز عید است
یعنی لوگ کہہ رہے ہیں کہ کل عید ہے!کل عید ہے! اور سب خوش ہیں لیکن میں تو جس دن اس دنیاسے اپنا ایمان سلامت لے کر گیا میرے لئے تو وہی دن عید ہو گا۔
لعنت کرنے سے متعلق شرعی مسائل:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع