30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہتعالیٰٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔(جلالین، البقرۃ، تحت الایۃ: ۱۵۶، ص۲۲)
’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھنے کے فضائل:
احادیث میں مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھنے کے بہت فضائل بیان کئے گئے ہیں ، ان میں سے 5فضائل یہ ہیں :
(1)…اُم المؤمنین حضرت ام سلمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :میں نے سید المرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہتعالیٰٰ کے حکم کے مطابق ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ (پڑھے اور یہ دعا کرے) ’’اللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا‘‘’’اے اللہ!میری اس مصیبت پر مجھے اجر عطا فرما اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما ‘‘تو اللہتعالیٰٰ اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا۔ حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :جب حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فوت ہو گئے تو میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بہتر کون ہو گا؟ وہ تو پہلے گھر والے ہیں جنہوں نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی طرف ہجرت کی۔ بہر حال میں نے یہ دعاکہہ لی، چنانچہ اللہ تعالٰی نے ان کے بدلے مجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ عطا فرما دئیے (جو کہ حضرت ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے بہت بہتر تھے) (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ، ص۴۵۷، الحدیث: ۳(۹۱۸))
(2)…حضرت امام حسین بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس مسلمان مرد یا عورت پر کوئی مصیبت پہنچی اور وہ اسے یاد کر کے ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ کہے، اگرچہ مصیبت کا زمانہ دراز ہو گیا ہو تو اللہتعالیٰٰ اُس پر نیا ثواب عطا فرماتا ہے اور ویسا ہی ثواب دیتا ہے جیسا اس دن دیا تھا جس دن مصیبت پہنچی تھی ۔(مسند امام احمد، حدیث الحسین بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ، ۱ / ۴۲۹، الحدیث: ۱۷۳۴)
(3)…ایک مرتبہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا چراغ بجھ گیا تو آپ نے ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا۔ عرض کی گئی کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ ارشاد فرمایا: جی ہاں ! اور ہر وہ چیزجو مومن کو اَذِیَّت دے وہ اس کے لئے مصیبت ہے اور اس پر اجر ہے۔(در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۶، ۱ / ۳۸۰)
(4)…ایک اورحدیث شریف میں ہے کہ مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھنا رحمت ِالہٰی کاسبب ہوتا ہے۔(کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۱۲۲، الجزء الثالث، الحدیث: ۶۶۴۶)
(5)…حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کو ایک ایسی چیز دی گئی ہے جو پہلی امتوں میں سے کسی کو نہیں دی گئی ،وہ چیز مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھنا ہے۔(معجم الکبیر، ۱۲ / ۳۲، الحدیث: ۱۲۴۱۱)
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی درو دیں ہیں اور رحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔
{اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت۔} صبر کرنے والے اللہ تعالٰی کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔
مصیبت پر صبر کرنے کے کئی آداب ہیں ، ان میں سے 4آداب یہ ہیں جنہیں علامہ ابن قدامہ مقدسی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِنے اپنی کتاب’’مختصر مِنہاجُ القَاصِدین‘‘ کے صفحہ277 پر ذکر فرمایا ہے۔
(1)… جب مصیبت پہنچے تو اسی وقت صبر و اِستِقلال سے کام لیا جائے، جیسا کہ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’ صبر صدمہ کی ابتداء میں ہوتاہے۔(بخاری، کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، ۱ / ۴۳۳، الحدیث: ۱۲۸۳)
(2)… مصیبت کے وقت ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا جائے ،جیسا کہ حضرت ام سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا عمل اوپر گزرا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے انتقال پر ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا۔
(3)… مصیبت آنے پرزبان اور دیگر اعضاسے کوئی ایسا کلام یا فعل نہ کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہو جیسے زبان سے اللہتعالیٰٰ کی بارگاہ میں شکوہ و شکایت کے کلمات بولنا، سینہ پیٹنا اورگریبان چاک کر لینا وغیرہ۔
(4)…صبر کی سب سے بہترین صورت یہ ہے کہ مصیبت زدہ پر مصیبت کے آثار ظاہر نہ ہوں جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بطن سے حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا ایک لڑکا فوت ہو گیا۔ حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے گھر والوں سے کہا:حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو ان کے بیٹے کے انتقال کی خبر اس وقت تک نہ دینا جب تک میں خود انہیں نہ بتا دوں۔ جب حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے تو حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے انہیں شام کا کھانا پیش کیا،انہوں نے کھانا کھایا اور پانی پیا،پھر حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے پہلے کی بہ نسبت زیادہ اچھا بناؤ سنگھار کیا۔حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے ازدواجی عمل کیا جب حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے دیکھا کہ وہ سیر ہو گئے اور اپنی فطری خواہش بھی پوری کر لی ہے تو پھر انہوں نے کہا:اے ابو طلحہ!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، یہ بتائیں کہ اگر کچھ لوگ کسی کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں پھر وہ اپنی چیز واپس لے لیں تو کیا وہ ان کو منع کر سکتے ہیں ؟ حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا :نہیں۔ حضرت ام سُلَیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کہا تو پھر آپ اپنے بیٹے کے متعلق یہی گمان کر لیں (کہ وہ ہمارے پاس اللہتعالیٰٰ کی امانت تھا جو اس نے واپس لے لی یعنی اس کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع