30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تلاوت کرتا تو دوسرا آدھے قرآن کی ۔ اللہتعالیٰٰ ہمیں بھی نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی توفیق اور جذبہ عطا فرمائے۔ ([1])
{اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا:تم جہاں کہیں بھی ہوگے۔} یعنی اے مسلمانو اور اہل کتاب !تم جہاں کہیں بھی ہو گے ،قیامت کے دن اللہ تعالٰی تم سب کو اکٹھا کر لائے گا اور وہ اطاعت گزار بندوں کو ثواب دے گا اور نافرمانوں کو عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ بیشک اللہ تعالٰی ہرشے پر قدرت رکھنے والا ہے تو وہ مخلوق کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے ،اطاعت گزاروں کو ثواب دینے اور سزا کے مستحق افراد کو عذاب دینے پر بھی قادر ہے۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۸، ۱ / ۱۰۱)
وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۱۴۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور وہ ضرور تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور (اے حبیب!) تم جہاں سے آؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور بیشک یہ یقیناً تمہارے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے غافل نہیں۔
{وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ: اور تم جہاں سے آؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ خواہ کسی شہر سے سفر کے لیے نکلیں بہرحال نماز میں اپنا منہ مسجد حرام ( یعنی کعبہ) کی طرف کریں ، کیونکہ جس طرح حالت اقامت میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کاحکم ہے اسی طرح سفرمیں بھی یہی حکم ہے اور بے شک کعبہ کو قبلہ بنایا جانا ضرور آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حق اور حکمت کے عین موافق ہے اور اے مسلمانو! اللہ تعالٰی تمہارے اعمال سے غافل نہیں ، اس لئے وہ تمہیں اس عمل کی بہترین جزا دے گا۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۹، ۱ / ۲۵۴)
وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗۙ-لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌۗۙ-اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْۗ-فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْۗ-وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ(۱۵۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب! تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو !تم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرو کہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو ان میں ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور یہ اس لئے ہے کہ میں اپنی نعمت تم پر پوری کروں اور کسی طرح تم ہدایت پاؤ۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اور اے حبیب! تم جہاں سے آ ؤ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرو اور اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرو تاکہ لوگوں کو تم پر کوئی حجت نہ رہے مگر جو اُن میں سے ناانصافی کریں تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اورتاکہ میں اپنی نعمت تم پر مکمل کردوں اورتاکہ تم ہدایت پاؤ۔
{وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ: اور تم جہاں سے آؤ۔}اس رکوع میں تین مرتبہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور مسلمانوں کو مسجد حرام یعنی کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے ،اس سے بظاہر ایسالگتا ہے کہ یہ تکرا ر ہے لیکن در حقیقت یہ تکرار نہیں کیونکہ ہر بار کے حکم کی علت جدا ہے ، پہلی بار جب نماز میں مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس کی علت یہ بیان ہوئی کہ اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضا جوئی کے لئے مسجد حرام کو قبلہ بنایا اورنماز میں اس کی طرف منہ کرنے کاحکم دیا۔دوسری مرتبہ جب مسجد حرام کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالٰی نے ہرامت کا الگ الگ قبلہ بنایا ہے جس کی طرف منہ کر کے وہ نماز پڑھتے ہیں ، اور جب امت ِمحمدِیَّہ بھی ایک امت ہے تو ان کا قبلہ مسجد حرام کو بنایا اور اس کی طرف منہ کر کے انہیں نماز پڑھنے کا حکم دیاگیا۔تیسری مرتبہ جب یہ حکم دیاگیا تو اس کی یہ علت بیان فرمائی کہ قبلہ کے معاملے میں یہودی مسلمانوں کے خلاف حجت قائم نہ کر سکیں۔(تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۲ / ۱۱۹، ملخصاً)
{وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ: اور اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرو ۔} اس آیت میں مجموعی طور لوگوں سے فرما دیا گیا کہ تم حالت ِ سفر میں ہو یا حالت ِ اقامت میں ، جنگل و بیابان میں ہو یا شہر میں ، ہر جگہ ہر حالت میں اور ہر وقت تم سب نے نماز میں خانہ کعبہ ہی کی طرف منہ کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو اس اعتراض کا حق نہ رہے کہ ان کی کتابوں میں تو قبلہ کی تبدیلی کالکھا ہوا تھا لیکن اِس نبی نے تو ایسا کیا ہی نہیں ،یا وہ یہ اعتراض نہ کرسکیں کہ یہ نبی ہمارے دین کی تو مخالفت کرتے ہیں لیکن قبلہ ہمارے والا ہی مانتے ہیں اور مشرکین کو یہ اعتراض کرنے کا موقع نہ ملے کہ نبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے قریش کی مخالفت میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیلعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قبلہ بھی چھوڑ دیا حالانکہ نبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَان کی اولاد میں سے ہیں اور ان کی عظمت و بزرگی مانتے بھی ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۱ / ۱۰۱)
{ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ: مگر جو ان میں ناانصافی کریں۔} یعنی اللہ تعالٰی کی طرف سے توحجت پوری ہوچکی، اب بھی اگر کوئی اعتراض کرتا ہے تو وہ خود ظالم ہے۔ یاد رہے کہ دین کی راہ میں طعنے سننا انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سنت رہی ہے۔
{فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ: تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔}اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیاجا رہا ہے کہ تم کعبہ کی طرف منہ کر نماز پڑھنے کی وجہ سے کفار کی طرف سے ہونے والے اعتراضات سے نہ ڈرو،ان کے طعنے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے اور تم میرے حکم کو پورا کرنے کے معاملے میں مجھ سے ڈرو اور میرے حکم کی مخالفت نہ کرو، بے شک میں تمہارا مددگار ہوں۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۰، ۱ / ۲۵۵)
اللہ تعالٰی کا عذاب ہر وقت پیش نظر رکھنا چاہئے:
اس آیت سے معلوم ہواکہ انسان کو ہر وقت اللہتعالیٰٰ کا عذاب پیش نظر رکھنا چاہئے اور کسی بھی کام کو کرنے یا نہ کرنے سے پہلے اس بات پر غور ضرور کر لینا چاہئے کہ یہ کام کرنے یا نہ کرنے سے اللہتعالیٰٰ کی رضاحاصل ہو گی یا اس کا نتیجہ اللہ تعالٰی کی ناراضی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔مروی ہے کہ جب حضرت معاذبن جبلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے ۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رُلایا ؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّکی قسم! میں نہ تو موت کی گھبراہٹ سے رو رہاہوں اور نہ ہی دنیاسے رخصتی کے غم میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع