30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک وتعالیٰٰ کو اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضا بہت پسند ہے اور اللہ تعالٰی اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضاکو پورا فرماتا ہے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’بے شک اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وجہ سے قبلہ تبدیل فرما یا اور اس آیت میں یوں نہیں فرمایا کہ ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں میری رضا ہے بلکہ یوں ارشاد فرمایا:
فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا
ترجمۂ کنزالعرفان:تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیردیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے۔
توگویا کہ ارشاد فرمایا: ’’اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہر کوئی میری رضا کا طلبگار ہے اور میں دونوں جہاں میں تیری رضا چاہتا ہوں۔(تفسیرکبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۲ / ۸۲)
اعلیٰ حضر ت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’بلاشبہہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اللہ تعالٰی کی مرضی کے تابع ہیں اور بلاشبہہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کوئی بات اللہ تعالٰی کے حکم کے خلاف نہیں فرماتے اور بلاشبہہ اللہ تعالٰی حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضاچاہتا ہے۔ (جب نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ تشریف لائے تو) اللہ تعالٰی کا حکم یہ تھا کہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے ، حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تابع فرمان تھے اور یہ حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی طرف سے اللہ تعالٰی کی رضا جوئی تھی مگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا قلب اقدس یہ چاہتا تھا کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی جائے ،اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مرضی مبارک کے لئے اپنا وہ حکم منسوخ فرمادیا اور حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جو چاہتے تھے قیامت تک کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فر مادیا، یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی رضاجوئی ہے، ان میں سے جس کا انکار ہو گا تو وہ قرآن عظیم کا انکار ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے عرض کرتی ہیں ’’مَا اُرٰی رَبَّکَ اِلاَّ یُسَارِعُ فِی ہَوَاکَ‘‘ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے رب عَزَّوَجَلَّ کو دیکھتی ہوں کہ وہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خواہش پوری کرنے میں جلدی فرماتا ہے۔(بخاری، کتاب التفسیر، باب ترجی من تشاء منہن۔۔۔ الخ، ۳ / ۳۰۳، الحدیث: ۴۷۸۸)
حدیثِ روز محشر میں ہے ،ربعَزَّوَجَلَّ اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے فرمائے گا:’’کُلُّھُمْ یَطْلُبُوْنَ رِضَائِیْ وَاَنَااَطْلُبُ رِضَاکَ یَامُحَمَّدْ‘‘ یہ سب میری رضاچاہتے ہیں اور اے محبوب! میں تمہاری رضا چاہتا ہوں۔(فتاوی رضویہ،۱۴ / ۲۷۵-۲۷۶، ملخصاً)
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد
نیز جس طرح اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے تا قیامت کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا،اسی طرح آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے آپ کی امت پر پچاس نمازوں کو کم کرکے پانچ فرض کی گئیں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے بدر و حنین میں فرشتے اترے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے معراج کی سیر کرائی گئی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خوشی کیلئے امتیو ں کے گناہ معاف ہوں گے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کیلئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو حوضِ کوثر عطا ہوا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خوشی کے لئے امتیوں کی نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے، پل صراط سے سلامتی سے گزریں گے اور جنت میں داخل ہوں گے۔ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
’’وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰى‘‘(الضحی:۵)
ترجمۂ کنزالعرفان: اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کیا خوب فرماتے ہیں :
تو جو چاہے تو ابھی میل میرے دل کے دھلیں کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا
اور فرماتے ہیں :
رضاؔ پل سے اب وجد کرتے گزریے کہ ہے رَبِّ سَلِّمْ صَدائے محمد
{وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ: اور اے مسلمانو!تم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرلو۔}یعنی اے مسلمانو! تم زمین کے جس حصے میں بھی ہواور وہاں نماز پڑھنے لگو تو اپنا منہ خانہ کعبہ کی طرف کر لو۔(مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۸۴)
استقبالِ قبلہ سے متعلق چند ضروری مسائل:
اس آیت میں مسلمانوں کو قبلہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیاگیا، اس لئے یہاں نماز میں استقبالِ قبلہ سے متعلق چند مسائل ذکر کئے جاتے ہیں :
(1) … نما زمیں کعبہ شریف کی طرف منہ کرنا شرط ہے۔
(2)…جو شخص عین کعبہ کی سمت ِ خاص معلوم کر سکتا ہے،اگرچہ کعبہ آڑ میں ہو جیسے مکہ معظمہ کے مکانوں میں جب کہ مثلاً چھت پر چڑھ کر کعبہ کو دیکھ سکتے ہیں تو عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے، جہت(کی طرف منہ کرنا) کافی نہیں اور جو شخص عین کعبہ کی سمت ِخاص معلوم نہیں کر سکتا اگرچہ وہ خاص مکہ معظمہ میں ہواس کے لئے کعبہ کی جہت کی طرف منہ کرنا کافی ہے۔
(3) …کعبہ کی جہت کی طرف منہ ہونے کا معنی یہ ہے کہ منہ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو ۔
(4)…اگر کسی شخص کو کسی جگہ قبلہ کی شناخت نہ ہو ،نہ کوئی ایسا مسلمان ہو جو بتا دے،نہ وہاں مسجدیں محرابیں ہیں ،نہ چاند ، سورج، ستارے نکلے ہوں یا نکلے تو ہوں مگر اس کو اتنا علم نہیں کہ ان سے قبلہ کی سمت معلوم کر سکے،تو ایسے کے لئے حکم ہے کہ وہ سوچے اور جدھر قبلہ ہونا دل پر جمے ادھر ہی منہ کرے،اس کے حق میں وہی قبلہ ہے۔ (بہار شریعت، نماز کی شرطوں کا بیان، ۱ / ۴۸۷-۴۸۹)
مزید تفصیل کے لئے بہار شریعت کے تیسرے حصے کا مطالعہ کریں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع