30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تسلیم خم کر دے اوراپنے نفس سے اٹھنے والی وہ آواز وہیں دبا دے جو اللہ تعالٰی کے حکم پر عمل کرنے کے معاملے میں اسے روک رہی ہو یا اس کے دل میں تنگی پیدا کر رہی ہو۔ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔
{وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ: اور اللہ کی یہ شان نہیں کہ تمہارا ایمان ضائع کردے ۔} قبلہ کی تبدیلی یہودیوں کو ہضم نہیں ہو رہی تھی اور یہ طرح طرح سے مسلمانوں کو اس کے خلاف بھڑکانے کی کوششیں کر رہے تھے،چنانچہ کچھ یہودیوں نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھی گئی نمازوں کے بارے میں مسلمانوں کے سامنے چند اعتراضات کئے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے زمانہ میں جن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے وفات پائی ان کی نمازوں کے درست ہونے پر مسلمانوں سے دلیل مانگی تو ان کے رشتہ داروں نے تاجدار ِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ان کی نمازوں کا حکم دریافت کیا کہ وہ نمازیں ہوئیں یا نہیں ؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اوراِنہیں اطمینان دلایا گیا کہ ان صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہم کی نمازیں ضائع نہیں ہوئیں ، ان پر انہیں ثواب ملے گا۔یاد رہے کہ اس آیت مبارکہ میں ایمان سے مراد نماز ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۴۳، ۱ / ۹۸، ملخصاً)
اصل الاصول چیز نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیروی ہے:
قبلہ کی تبدیلی سے پہلے مسلمانوں نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے جتنی نمازیں پڑھی تھیں انہیں صحیح قرار دیا گیا، کیونکہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے جو نمازیں پڑھی گئیں وہ بھی اتباعِ رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں ہی تھیں اور اب جوخانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں یہ بھی اطاعت ِ رسول میں پڑھتے ہیں لہٰذا ان سب کی نمازیں درست ہیں۔ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اور کوئی اس وقت خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے وہ بھی مردود ہے اور حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں اور کوئی اس وقت بیت المقدس کی طرف منہ کر کے پڑھے وہ بھی مردود ہے کہ اصلُ الاصول چیز تو حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اتباع ہے۔ اسی کو فرمایا:
’’لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِـعُ الرَّسُوْلَ‘‘ترجمۂ کنزالعرفان:تاکہ دیکھیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
ثابت ہواکہ جملہ فرائض فروع ہیں اصل الاصول بندگی اس تاجور کی ہے
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نماز کی بہت اہمیت ہے کہ قرآن میں اسے ایمان فرمایا گیا ہے کیونکہ اسے اداکرنا اور باجماعت پڑھنا کامل ایمان کی دلیل ہے۔حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’کفرا ور ایمان کے درمیان فرق نما زکا چھوڑنا ہے۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی ترک الصلاۃ، ۴ / ۲۸۱، الحدیث: ۲۶۲۷)
حضرت بُریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ہمارے اور ان (کافروں) کے درمیان عہد نماز ہی ہے،جس نے اسے چھوڑا تو اس نے کفر کیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی ترک الصلاۃ، ۴ / ۲۸۱، الحدیث: ۲۶۳۰)
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اسلام کی نشانی نماز ہے،تو جس نے نماز کے لئے دل کو فارغ کیا اور نماز کے تمام ارکان و شرائط،اس کے وقت اور اس کی سنتوں کے ساتھ اس پر مداومت کی تو وہ(کامل) مؤمن ہے۔(کنز العمال، حرف الصاد، کتاب الصلاۃ، الباب الاول، الفصل الاول، ۴ / ۱۱۳، الجزء السابع، الحدیث: ۱۸۸۶۶)
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ-فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪-فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِؕ-وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗؕ-وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ(۱۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان: ہم دیکھ رہے ہیں بار بار تمہارا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف اور اے مسلمانوتم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرو اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان: ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں تو ضرور ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس میں تمہاری خوشی ہے تو ابھی اپناچہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر دو اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہواپنا منہ اسی کی طرف کرلو اور بیشک وہ لوگ جنہیں کتاب عطا کی گئی ہے وہ ضرور جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں۔
{قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ: بیشک ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اٹھنا دیکھ رہے ہیں۔} جب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو انہیں بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اورنبیٔ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اللہ تعالٰی کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں۔ البتہ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے قلب اطہر کی خواہش یہ تھی کہ خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیاجائے، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ بیت المقدس کو قبلہ بنایاجانا حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو ناپسند تھا بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے علاوہ کثیر انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کاقبلہ تھا اور ایک وجہ یہ تھی بیت المقدس کی طرف منہ کر نماز پڑھنے کی وجہ سے یہودی فخر و غرور میں مبتلاء ہو گئے اور یوں کہنے لگے تھے کہ مسلمان ہمارے دین کی مخالفت کرتے ہیں لیکن نماز ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں۔ چنانچہ ایک دن نماز کی حالت میں حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اس امید میں باربار آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم آجائے، اس پر نماز کے دوران یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی رضا کو رضائے الہٰی قرار دیتے ہوئے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے چہرہ انور کے حسین انداز کو قرآن میں بیان کرتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خواہش اور خوشی کے مطابق خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنماز ہی میں خانہ کعبہ کی طرف پھر گئے، مسلمانوں نے بھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا اورظہر کی دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف ہوئیں اور دو رکعتیں خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع