دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

بغیر طریقہ سیکھے عبادت کرنا اکثر عبادت کو ضائع کرتا ہے۔حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ ہر مسلمان پر علم سیکھنا فرض ہے۔(ابن ماجہ، کتاب السنّۃ، باب فضل العلماء۔۔۔ الخ، ۱ / ۱۴۶، الحدیث: ۲۲۴) فرض عبادت کا طریقہ و مسائل سیکھنا بھی اسی میں داخل ہے۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠(۱۲۹)

ترجمۂ  کنزالایمان:اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائےاور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرماوے بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اے ہمارے رب! اور ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جواِن پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔ بیشک تو ہی غالب حکمت والاہے۔

{رَبَّنَا وَ ابْعَثْ: اے ہمارے رب !اوربھیج۔} حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دُعاسید ِ انبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لیے تھی۔خانہ کعبہ کی تعمیر کی عظیم خدمت بجالانے اور توبہ و استغفار کرنے کے بعد حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے یہ دعا کی کہ یارب!عَزَّوَجَلَّ، اپنے حبیب ،نبی آخر الزماں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ہماری نسل میں ظاہر فرما اور یہ شرف ہمیں عنایت فرما۔ یہ دعا قبول ہوئی اور ان دونوں بزرگوں کی نسل میں حضور پر نور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری ہوئی۔ امام بغوی نے ایک حدیث روایت کی کہ حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’میں اللہ تعالٰی کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھاحالانکہ حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا خمیر تیارہورہا تھا، میں تمہیں اپنے ابتدائے حال کی خبر دوں ،میں دعائے ابراہیم ہوں ،بشارت عیسیٰ ہوں ، اپنی والدہ کے اس خواب کی تعبیر ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھی اور ان کے لیے ایک بلند نورظاہر ہوا جس سے ملک شام کے ایوان اور محلات ان کے لیے روشن ہوگئے۔(شرح السنۃ، کتاب الفضائل، باب فضائل سید الاولین والآخرین محمد صلی اللہ علیہ وسلم، ۷ / ۱۳، الحدیث: ۳۵۲۰)

اس حدیث میں دعائے ابراہیم سے یہی دعا مراد ہے جو اس آیت میں مذکور ہے، اللہ تعالٰی نے یہ دعا قبول فرمائی اور آخر زمانہ میں حضور سید الانبیاء محمد مصطفٰی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو مبعوث فرمایا ۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۱ / ۹۱)  اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَانِہٖ

{وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ: اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے ۔} آیت میں کتاب سے مراد قرآن پاک اور اس کی تعلیم سے اس کے حقائق و معانی کاسکھانا مراد ہے۔اور حکمت میں سنت، احکامِ شریعت اور اسرار وغیرہ سب داخل ہیں۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے متعلق بہت سی دعائیں مانگیں جو رب تعالیٰٰ نے لفظ بلفظ قبول فرمائیں۔ حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمومن جماعت میں ، مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے، رسول ہوئے، صاحب ِ کتاب ہوئے، آیات کی تلاوت فرمائی، امت کو کتابُ اللہ سکھائی، حکمت عطا فرمائی، ان کے نفسوں کا تزکیہ کیا، اسرارِ الہٰی پر مطلع کیا ۔

آیت’’وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:

             اس آیت سے صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی بھی شان معلوم ہوئی کہ حضوراکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے جن کو کتاب وحکمت سکھائی اور جنہیں پاک و صاف کیا ان کے اولین مصداق صحابہ ہی تو تھے۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ پورا  قرآن آسان نہیں ورنہ اس کی تعلیم کے لئے حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنہ بھیجے جاتے۔ جو کہے کہ قرآن سمجھنا بہت آسان ہے اسے کسی بڑے عالم کے پاس لے جائیں ، پندرہ منٹ میں حال ظاہر ہوجائے گا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کے ساتھ حدیث کی بھی ضرورت ہے۔ ’’اَلْحِكْمَةَ‘‘ کا ایک معنیٰ سنت بھی کیا گیاہے جیسا کہ مشہور مفسرحضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ حکمت سنت ہی ہے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۹، ۱ / ۹۲)

{وَ یُزَكِّیْهِمْ:  اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔} ستھرا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ نفس کو گناہوں کی آلودگیوں ، شہوات و خواہشات کی آلائشوں اور ارواح کی کدورتوں سے پاک و صاف کرکے آئینہ دل کو تجلیات و انوارِ الہٰیہ دیکھنے کے قابل کردیں تاکہ اسرارِ الہٰی اور انوارِ باری تعالیٰٰ اس میں جلوہ گر ہوسکیں۔ تمام غوث، قطب، ابدال،اولیاء ، اصفیاء، صوفیاء، فقہاء و علماء کا تزکیہ اِسی مقدس بارگاہ سے ہوتا ہے۔ اعلی حضرت رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

آسمان خوان ، زمین خوان ، زمانہ مہمان         صاحب ِ خانہ لقب کس کا ہے آقا تیرا

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗؕ-وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَاۚ-وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۱۳۰)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور ابراہیم کے دین سے کون منہ پھیرے سوا اس کے جو دل کا احمق ہے اور بیشک ضرور ہم نے دنیا میں اسے چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارے خاص قرب کی قابلیت والوں میں ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور ابراہیم کے دین سے وہی منہ پھیرے گا جس نے خود کواحمق بنا رکھا ہواور بیشک ہم نے اسے دنیا میں چن لیا اور بیشک وہ آخرت میں ہمارا خاص قرب پانے والوں میں سے ہے۔

{وَ مَنْ یَّرْغَبُ: اور جو منہ پھیرے۔} علماء یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسلام لانے کے بعد اپنے دو بھتیجوں مہاجر و سلمہ کو اسلام کی دعوت دی اور ان سے فرمایا کہ تم کو معلوم ہے کہ اللہ  تعالٰی نے توریت میں فرمایا ہے کہ میں اولادِ اسمٰعیل سے ایک نبی پیدا کروں گا جن کا نام احمد ہوگا ،جو اُن پر ایمان لائے گا وہ کامیاب ہے اور جو ایمان نہ لائے گا وہ ملعون ہے۔یہ سن کر سلمہ ایمان لے آئے اور مہاجر نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اس پر اللہ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے خود اس رسول معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے مبعوث ہونے کی دعا فرمائی تو جواُن کے دین سے پھرے وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دین سے پھرا۔ اس میں یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ عرب پر اشارۃً کلام ہے جو اپنے آپ کوفخر کے طور پر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف منسوب کرتے تھے کہ جب یہ لوگ دین ابراہیمی سے پھر گئے تو پھر ان کی عظمت و شرافت کہاں رہی۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۳۰، ۱ / ۱۶۱-۱۶۲)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن