30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مفید رسالہ)‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
{اَنْ طَهِّرَا: کہ پاک صاف رکھو۔} حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیلعَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بیتُ اللہ شریف کو پاک و صاف رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خانہ کعبہ اور مسجد ِحرام شریف کو حاجیوں ، عمرہ کرنے والوں ، طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور نمازیوں کیلئے پاک وصاف رکھا جائے، یہی حکم مسجدوں کو پاک و صاف رکھنے کا ہے، وہاں گندگی اور بدبودار چیز نہ لائی جائے، یہ سنت ِانبیاء ہے، یہ بھی معلوم ہواکہ اعتکاف عبادت ہے اور گزشتہ امتوں میں رائج تھا نیز پچھلی امتوں کی نمازوں میں رکوع سجود دونوں تھے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں کا متولی ہونا چاہیے اور متولی صالح انسان اور مسجد کی صحیح خدمت کرنے والاہو۔
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۱۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب عرض کی ابراہیم نے کہ اے رب میرے اس شہر کو امان والا کردے اور اس کے رہنے والوں کو طرح طرح کے پھلوں سے روزی دے جو ان میں سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں فرمایا اور جو کافر ہوا تھوڑا برتنے کو اسے بھی دوں گا پھر اسے عذاب ِ دوزخ کی طرف مجبور کروں گا اور وہ بہت بری جگہ ہے پلٹنے کی۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس میں رہنے والے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں انہیں مختلف پھلوں کا رزق عطا فرما۔ (اللہ نے) فرمایا: اور جو کافر ہوتو میں اسے بھی تھوڑی سی مدت کے لئے نفع اٹھانے دوں گا پھر اسے دوزخ کے عذاب کی طرف مجبور کردوں گا اور وہ پلٹنے کی بہت بری جگہ ہے۔
{وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ: اور جب ابراہیم نے کہا۔}حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے تعمیر ِکعبہ کے بعد متعدد دعائیں مانگیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کر کے قبولیت کی دعا کرناسنت ِخلیل ہے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اولاد کیلئے امامت مانگی تھی تو فرمایا گیا کہ ظالموں کو نہیں ملے گی اس لیے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بعد میں جب یہ دعا کی تو اس میں مومنین کو خاص فرمایاکہ مومنوں کو رزق دے اور یہی ادب کا تقاضا تھا۔ اللہ تعالٰی نے کرم کیا، دعا قبول فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ رزق سب کو دیا جائے گا مومن کو بھی اور کافر کو بھی لیکن کافر کا رزق تھوڑا ہے یعنی صرف دنیوی زندگی میں اسے ملے گا۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے خانہ کعبہ کیلئے رزق کی فراوانی کی دعا مانگی تھی، اُس دعا کی قبولیت ہرشخص اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور کھانے یہاں بکثرت ملتے ہیں۔
وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُؕ-رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب اٹھاتا تھا ابراہیم اس گھر کی نیویں اور اسمٰعیل یہ کہتے ہوئے کہ اے رب ہمارے ہم سے قبول فرما بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور جب ابراہیم اور اسماعیل اس گھر کی بنیادیں بلند کررہے تھے(یہ دعا کرتے ہوئے) اے ہمارے رب! ہم سے قبول فرما ،بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
{وَ اِذْ یَرْفَعُ: اور جب بلند کررہے تھے۔} پہلی مرتبہ خانہ کعبہ کی بنیاد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے رکھی اور طوفانِ نوح کے بعد پھر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اسی بنیاد پر تعمیر فرمایا۔ یہ تعمیر خاص آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دستِ مبارک سے ہوئی، اس کے لیے پتھر اٹھا کر لانے کی خدمت و سعادت حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو میسر ہوئی، دونوں حضرات نے اس وقت یہ دعا کی کہ یارب !عَزَّوَجَلَّ،ہماری یہ طاعت و خدمت قبول فرما۔علامہ قَسْطَلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بخاری کی شرح میں تحریر فرمایا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیردس مرتبہ کی گئی۔(ارشاد الساری، کتاب الحج، باب فضل مکۃ وبنیانھا۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۰۳، تحت الحدیث: ۱۵۸۲)
اسے نقل کرنے کے بعد علامہ سلیمان جملرَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ۱۰۳۹ ہجری کے بعد بھی بعض بادشاہوں نے تعمیرِکعبہ کی جیساکہ اسے بعض تاریخ دانوں نے نقل کیا ہے ۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۷، ۱ / ۱۶۰)
مسجد تعمیر کرنا اعلٰی عبادت ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسجدوں کی تعمیر نہایت اعلیٰ عبادت اور انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے مسجد ِ نبوی شریف کی تعمیر میں بذات ِ خود حصہ لیا تھا۔(بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ہجرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینۃ، ۲ / ۵۹۵، الحدیث: ۳۹۰۶)
مسجد تعمیر کرنے کے فضائل سورۂ توبہ آیت نمبر18کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔
رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ۪-وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَاۚ-اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۱۲۸)
ترجمۂ کنزالایمان:اے رب ہمارے اور کر ہمیں تیرے حضور گردن رکھنے والے اور ہماری اولاد میں سے ایک امت تیری فرمانبردار اور ہمیں ہماری عبادت کے قاعدے بتا اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اے ہمارے رب:اورہم دونوں کو اپنا فرمانبردار رکھ اور ہماری اولاد میں سے ایک ایسی امت بنا جو تیری فرمانبردار ہواور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا دے اور ہم پر اپنی رحمت کے ساتھ رجوع فرما بیشک تو ہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
{وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ: اور ہمیں فرمانبردار رکھ۔} سبحان اللہ ،وہ حضرات اللہ تعالٰی کے مطیع و مخلص بندے تھے پھر بھی یہ دعا اس لیے مانگ رہے ہیں کہ مزید اطاعت و عبادت و اخلاص اور کمال نصیب ہو۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام معصوم ہیں ،آپ کی طرف سے توبہ تواضع یعنی عاجزی ہے اور اللہوالوں کے لیے تعلیم ہے۔ خانہ کعبہ اور اس کا قرب قبولیت کا مقام ہے ،یہاں دعا اور توبہ کرناسنت ِابراہیمی ہے۔
{وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا: اور ہمیں ہماری عبادت کے طریقے دکھا۔} معلوم ہوا کہ عبادت کے طریقے سیکھنا حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی سنت ہے۔اس کیلئے دعا بھی کرنی چاہیے اور کوشش بھی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع