30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ-قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًاؕ-قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْؕ-قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ(۱۲۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے کچھ باتوں سے آزمایا تو اس نے وہ پوری کر دکھائیں فرمایا میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں عرض کی اور میری اولاد سے فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کروجب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں کے ذریعے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کردیا (اللہ نے) فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ (ابراہیم نے) عرض کی اور میری اولاد میں سے بھی ۔فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
{وَ اِذِ ابْتَلٰى: اور جب آزمایا۔} یہود و نصاریٰ اور مشرکینِ عرب سب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے فضل وشرف کے معترف اور آپ کی نسل میں ہونے پر فخر کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالٰی نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وہ حالات بیان فرمائے ہیں جن سے سب پر اسلام کا قبو ل کرنا لازم ہوجاتا ہے کیونکہ جو چیزیں اللہ تعالٰی نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر واجب کیں وہ اسلام کی خصوصیات میں سے ہیں۔ابتلاء آزمائش کو کہتے ہیں ،خدائی آزمائش یہ ہے کہ بندے پر کوئی پابندی لازم فرما کر دوسروں پر اس کے کھرے کھوٹے ہونے کا اظہار کردیا جائے۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آزمائش میں بہت سے شرعی احکام بھی تھے اور راہِ خدا میں آپ کی ہجرت، بیوی بچوں کا بیابان میں تنہا چھوڑنا، فرزند کی قربانی وغیرہ سب شامل ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۱ / ۸۵-۸۶)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تمام امتحانوں میں پورا اترے اور اللہ تعالٰی نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو لوگوں کا پیشوا بنادیا،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خلیلُ اللہ قرار پائے، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے باپ ہوئے، تمام دینوں میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا تذکرہ ہوا، سب کے نزدیک محبوب ہوئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شرعی احکام اور تکالیف اللہ تعالٰی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں اور جو اِن آزمائشوں میں پورا اترتا ہے وہ دنیا و آخرت کے انعامات کا مستحق قرار پاتا ہے۔
{لِلنَّاسِ اِمَامًا: لوگوں کیلئے پیشوا۔}یہاں امامت سے مراد نبوت نہیں۔ کیونکہ نبوت تو پہلے ہی مل چکی تھی۔ تب ہی تو آپ کا امتحان لیا گیا بلکہ اس امامت سے مراددینی پیشوائی ہے جیسا کہ جلالین میں اس کی تفسیر’’قُدْوَۃً فِی الدِّینْ یعنی دین میں پیشوائی ‘‘سے کی گئی ہے۔ (جلالین مع جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۴، ۱ / ۱۵۳)
{وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ: اور میری اولاد میں سے۔} جب اللہ تعالٰی نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو امامت کا مقام عطا فرمایا تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اللہ تعالٰی سے اپنی اولاد کیلئے بھی عرض کیا۔ اس پر فرمایا گیا کہ آپ کی اولاد میں جو ظالم ہوں گے وہ امامت کا منصب نہ پائیں گے۔ کافر ہوئے تو دینی پیشوائی نہ ملے گی اور فاسق ہوئے تو نبوت نہ ملے گی اور قابل ہوئے تو اللہ تعالٰی اپنے کرم سے جسے جو چاہے گا عطا فرمائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر مسلمانوں کا پیشوا نہیں ہوسکتا اور مسلمانوں کو اس کی اتباع جائز نہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنی اولاد کے لئے دعاء خیر کرناسنت ِ انبیاء ہے، یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کوئی نعمت عطا فرمائے تو اولاد کیلئے بھی اس کی خواہش کرنی چاہیے۔
وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًاؕ-وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّىؕ-وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ(۱۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور یاد کروجب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسماعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لئے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور (یاد کرو) جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لئے مرجع اور امان بنایا اور (اے مسلمانو!)تم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل کو تاکید فرمائی کہ میرا گھر طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے خوب پاک صاف رکھو۔
{وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ: اور جب ہم نے اس گھر کو بنایا۔} بیت سے کعبہ شریف مراد ہے اور اس میں تمام حرم شریف داخل ہے۔ ’’مَثَابَةً‘‘ سے مراد بار بار لوٹنے کی جگہ ہے۔ یہاں مسلمان بار بار لوٹ کر حج و عمرہ وزیارت کیلئے جاتے ہیں اور جو نہ جاسکے وہ اس کی تمنا ضرور کرتے ہیں اور امن بنانے سے یہ مراد ہے کہ حرم کعبہ میں قتل و غارت حرام ہے یا یہ کہ وہاں شکار تک کو امن ہے یہاں تک کہ حرم شریف میں شیر بھیڑیے بھی شکار کا پیچھا نہیں کرتے بلکہ چھوڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ مومن اس میں داخل ہو کر عذاب سے مامون ہوجاتا ہے۔ حرم کو حرم اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس میں قتل، ظلم اور شکار حرام و ممنوع ہے، اگر کوئی مجرم بھی داخل ہوجائے تو وہاں اسے کچھ نہ کہا جائے گا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۱ / ۸۷، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ص۷۷، ملتقطاً)
{وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى: اورتم ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ کو نماز کا مقام بناؤ۔} مقامِ ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے کعبہ معظمہ کی تعمیر فرمائی اور اس میں آپ کے قدم مبارک کا نشان تھا، اسے نماز کا مقام بنانا مستحب ہے ۔ایک قول یہ بھی ہے کہ اس نماز سے طواف کے بعد پڑھی جانے والی دو واجب رکعتیں مراد ہیں۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۲۵، ۱ / ۳۹۸-۳۹۹)
انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے نسبت کی برکت:
اس سے معلوم ہوا کہ جس پتھر کو نبی کی قدم بوسی حاصل ہو جائے وہ عظمت والا ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعظیم توحید کے منافی نہیں کیونکہ مقام ابراہیم کا احترام تو عین نماز میں ہوتا ہے، لہٰذا عین نماز میں حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تعظیم نماز کو ناقص نہ کرے گی بلکہ کامل بنائے گی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جب پتھر نبی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قدم لگنے سے عظمت والا ہو گیا تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی ازواجِ مطہرات، اہلِ بیت اورصحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی عظمت کا کیا کہنا۔ اس سے تبرکات کی تعظیم کا بھی ثبوت ملتا ہے۔بزرگانِ دین کے آثار و تبرکات کی تعظیم اور ان کی زیارت کے سلسلے میں تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 21ویں جلد میں موجود رسالہ ’’بَدْرُ الْاَنْوَارْ فِیْ آدَابِ الآثَارْ (تبرکات کے بارے میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع