30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کی تصدیق ہے اور توریت جس کو یہودی مانتے ہیں اس میں حضرت عیسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی نبوت اور ان تمام احکام کی تصدیق ہے جو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ تعالٰی کی طرف سے عطا ہوئے۔
قرآن پڑھ کر عمل نہ کرنے والے مسلمانوں کو تنبیہ:
یہودیوں اور عیسائیوں کی اس روش کے بیان میں سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی امت کے ان مسلمانوں کے لئے بھی تنبیہ ہے کہ جو قرآن مجید پڑھتے ہیں اور اس میں بیان کئے گئے احکام سے آگاہ بھی ہیں اوراس کے باو جود ان احکام پر عمل نہیں کرتے اور اگر عمل کرتے بھی ہیں تو فقط ان احکام پر جو ان کی خواہشات کے موافق ہوں اور جو احکام ان کی خواہش کے موافق نہیں اُن پر عمل نہیں کرتے۔
حضرت زیاد بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے کسی بات کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا ’’یہ اس وقت ہو گا جب کہ علم اٹھ جائے گا۔میں نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، علم کیسے اٹھ جائے گا حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنی اولاد کو پڑھاتے ہیں اور وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں گے، اسی طرح یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اے زیاد!تیری ماں تجھے گم پائے،میں تمہیں مدینہ کے فہیم لوگوں میں شمار کرتا تھا کیا یہودی اور عیسائی تورات اور انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں سے کوئی بھی اس پر عمل نہیں کرتا۔(اسی طرح مسلمان قرآن تو پڑھیں گے لیکن اس پر عمل نہیں کریں گے اور جو اپنے علم پر عمل نہ کرے وہ اور جاہل دونوں برابر ہیں )(ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب ذہاب القرآن والعلم، ۴ / ۳۸۳، الحدیث: ۴۰۴۸) اللہ تعالٰی مسلمانوں کو قرآن مجید کی تلاوت کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے احکام و تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین۔
{كَذٰلِكَ قَالَ: اسی طرح کہا۔} اہلِ کتاب کے علماء کی طرح جاہل بت پرستوں اور آتش پرستوں نے ہر دین کوجھٹلانا شروع کردیا اور کہنے لگے کہ دین کچھ نہیں۔ انہیں جاہلوں میں سے مشرکین عرب بھی ہیں جنہوں نے نبی کر یم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اورآپ کے دین کے بارے ایسے ہی کلمات کہے۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لئے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔انہیں مسجدوں میں داخل ہونا مناسب نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔
{وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون۔} یہ آیت بیت المقدس کی بے حرمتی کے متعلق نازل ہوئی جس کا مختصر واقعہ یہ ہے کہ روم کے عیسائیوں نے یہودیوں پر حملہ کرکے ان کے جنگجوؤں کو قتل کردیا، ان کے بیوی بچوں کو قید کرلیا، توریت کو جلادیا، بیت المقدس کو ویران کردیا، اس میں نجاستیں ڈالیں ، خنزیر ذبح کیے، یوں بیت المقدس خلافت ِفاروقی تک اسی ویرانی میں رہا۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے عہد مبارک میں مسلمانوں نے اسے بنایا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے ابتدائے اسلام میں حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور آپ کے اصحاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہم کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے روکا تھا اور صلح حدیبیہ کے وقت اس میں نماز و حج سے منع کیا تھا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۴، ۱ / ۸۱)
{اَنْ یُّذْكَرَ: کہ ذکر کیا جائے۔} ذکر میں نماز، خطبہ، تسبیح ،وعظ، نعت شریف اور صالحین کے حالات کا بیان سب داخل ہیں۔ ذکر اللہ کو منع کرنا ہر جگہ ہی برا ہے لیکن مسجدوں میں خصوصاً زیادہ برا ہے کہ وہ تو اسی کام کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ مسجد کو کسی بھی طرح ویران کرنے والا ظالم ہے۔ بلاوجہ لوگوں کو مسجد میں آنے یا مسجد کی تعمیر سے روکنے والا، مسجد یا اس کے کسی حصے پرقبضہ کرنے والا، مسجد کو ذاتی استعمال میں لے لینے والا، مسجد کے کسی حصے کو مسجد سے خارج کرنے والا یہ سب لوگ اس آیت کی وعید میں داخل ہیں۔ تفصیل کیلئے فتاویٰ رضویہ شریف کے کتاب الوقف کا مطالعہ کریں۔البتہ یہ یاد رہے کہ جنبی (یعنی جس پر غسل فرض ہو)، منہ کی بدبو والے ، لہسن پیازوغیرہ بدبودار چیزوں کی بو جس کے منہ سے آرہی ہواسے روکنااس میں داخل نہیں کہ یہ حقیقت میں مسجد سے تکلیف دہ یا نامناسب چیزوں کو دور کرنے کے حکم میں آتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ مسجد کے نزدیک دوسری مسجد اس نیت سے بنانا کہ پہلی مسجد ویران ہو جائے حرام ہے کہ یہ بھی مسجد کی ویرانی میں کوشش کرنا ہے البتہ اگر کوئی مسجد بنائے تو اس کی نیت پر ہم حکم نہیں لگاسکتے ہیں کہ اس نے بری نیت سے ہی مسجد بنائی ہے۔
{اِلَّا خَآىٕفِیْنَ: مگر ڈرتے ہوئے۔} مسجد میں ادب و تعظیم اور خوف ِ خدا کے ساتھ داخل ہونا چاہیے، نڈر و بیباک ہو کر اور آداب ِ مسجد کو پامال کرتے ہوئے داخل ہونا مسلمان کا کام نہیں۔
{فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ: دنیا میں رسوائی۔} بیت المقدس ویران کرنے والوں کو دنیا میں یہ رسوائی پہنچی کہ قتل کئے گئے، گرفتار ہوئے، جلا وطن کئے گئے۔ خلافت فاروقی و عثمانی میں ملک ِشام ان کے قبضہ سے نکل گیا اور بیت المقدس سے ذلت کے ساتھ نکالے گئے۔ مسجدوں اور مسجدوں سے تعلق رکھنے والوں سے نفرت کرنے والوں کویہ وعید اپنے پیشِ نظر رکھنی چاہیے۔
وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۱۱۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اور پورب پچھم سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر وجہ اللہ (خدا کی رحمت تمہاری طرف متوجہ) ہے بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور مشرق و مغرب سب اللہ ہی کا ہے تو تم جدھر منہ کرو ادھر ہی اللہ کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہے۔ بیشک اللہ وسعت والا علم والا ہے۔
{وَ لِلّٰهِ: اور اللہ ہی کیلئے ہے۔}اس آیت کے بہت سے شانِ نزول بیان کئے گئے ہیں۔
(1)…ایک مرتبہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمتاریک رات میں سفر میں تھے،قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوسکی، ہر شخص نےجس طرف اس کا دل جما، نماز پڑھ لی، صبح کو بارگاہِ رسالت میں حال عرض کیا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔(ترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ البقرۃ، ۴ / ۴۴۵، الحدیث: ۲۹۶۸)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع