دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

مسلمانوں کو بہکانے کے لئے تھی، ان کی تردید میں یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی، جس میں فرمایا گیا کہ ان کی یہ بات ان کی اپنی رائے سے ہے، توریت و انجیل میں ایسا کچھ نہیں فرمایا گیا،اگر وہ سچے ہیں تو اپنی اس بات پر کوئی دلیل لائیں۔

{اَمَانِیُّهُمْ: ان کی من گھڑت تمنائیں۔ }بغیر کسی بنیاد کے جنت میں داخلے کے زبانی دعوے کرنا جہالت و حماقت ہے۔ ایک امید ہے جسے عربی میں ’’رَجا‘‘ کہتے ہیں اور ایک خام خیالی ہے جسے عربی میں ’’اُمْنِیَّہْ‘‘ کہتے ہیں۔ امام غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اس موضوع پر بڑا پیاراکلام ارشاد فرمایا ہے۔ اس کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : رجاء یعنی امیددل کی اس راحت کا نام ہے جو محبوب چیز کے انتظار سے حاصل ہوتی ہے لیکن یہ محبوب جس کی توقع کی جا رہی ہے اس کا کوئی سبب ہونا چاہئے لہٰذا اگر اس کا انتظار اکثر اسباب کے ساتھ ہے تو اسے ’’رجا‘‘ یعنی امید کہتے ہیں اور اگر اسباب بالکل نہ ہوں یا اضطراب کے ساتھ ہوں تو اسے امید نہیں بلکہ دھوکہ اور بیوقوفی کہا جائے گا اور اگر اسباب کے ہونے یا نہ ہونے کا علم نہ ہو تو اس انتظار کو’’تمنا‘‘ کہتے ہیں۔ اہلِ دل حضرات جانتے ہیں کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور دل زمین کی طرح ہے ،ایمان اس میں بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور عبادت زمین کو الٹ پلٹ کرنے، صاف کرنے اور نہر یں کھودنے اور ان زمینوں میں پانی جاری کرنے کی طرح ہیں اور دل جو دنیا میں غرق اور ڈوبا ہوا ہے اس بنجر زمین کی طرح ہے جس میں بیج کوئی پھل نہیں لاتااور قیامت کا دن فصل کاٹنے کا دن ہے اور ہر شخص وہی کاٹے گا جو اس نے بویا ہو گا اور کھیتی کا بڑھنا ایمان کے بیج کے بغیر ناممکن ہے اور جب دل میں خباثت اور برے اخلاق ہوں تو ایمان بہت کم نفع دیتا ہے جیسے بنجر زمین میں بیج سے فصل پیدا نہیں ہوتی تو مناسب یہی ہے کہ آدمی کے مغفرت کی امید رکھنے کو کھیتی والے پر قیاس کیا جائے یعنی جو شخص اچھی زمین حاصل کرتا ہے اور اس میں عمدہ بیج ڈالتا ہے جو نہ توخراب ہوتا ہے اور نہ ہی بدبودار اور پھر اس کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ ضروریات سے مراد وقت پر پانیدینا،زمین کو کانٹوں اور گھاس پھونس نیز ان تمام خرابیوں سے پاک کرنا جو بیج کو بڑھنے سے روکتی ہیں یا خراب کر دیتی ہیں۔ تو جو یہ سب کام کرے پھر اللہ  تعالٰی کے فضل کا منتظر ہو کر بیٹھ جائے کہ وہ زمین کو بجلی کی گرج اور دیگر آفات سے بچائے گا یہاں تک کہ کھیتی اپنی تکمیل کو پہنچ جائے تو اس انتظار کورجا یعنی امید کہتے ہیں اور اگر سخت زمین میں بیج ڈالے جو شور زیادہ ہواور بلندی پر ہو جس تک پانی نہیں پہنچ سکتا اور بیج کی پروا بھی نہ کرے اورپھر اس کے کٹنے کا انتظار کرے تو اس انتظار کو بیوقوفی اور دھوکہ کہتے ہیں امید نہیں کہتے اور اگر اچھی زمین میں بیج ڈالالیکن اس میں پانی نہیں ہے اب وہ بارش کے انتظار میں ہے اور یہ ایسا وقت ہے جس میں عام طور پر بارش نہیں برستی تو اس انتظار کو تمنا کہتے ہیں ’’رجا‘‘ نہیں کہتے تو گویا رجاکا لفظ کسی ایسی پسندیدہ چیز کے انتظار پر صادق آتا ہے جس کے لئے وہ تمام اسباب تیار کر دئیے گئے ہوں جو بندے کے اختیار میں ہیں ، صرف وہی اسبا ب باقی رہ گئے جو بندے کے اختیار میں نہیں ہیں اور وہ اللہ تعالٰی کا فضل ہے جس کی وجہ سے تمام نقصان دہ اور فاسدکرنے والے اسباب کھیتی سے دور ہو جاتے ہیں پس جب بندہ ایمان کا بیج ڈالتا ہے اوراس کو عبادات کا پانی پلاتا ہے ،دل کو بد اخلاقی کے کانٹوں سے پاک کرتا ہے اور اللہتعالیٰٰ کے فضل کا مرتے دم تک منتظر رہتا ہے، مغفرت تک پہنچانے والے اچھے خاتمے کا انتظار کرتا ہے تو یہ انتظار حقیقی رجا (امید ) ہے یہ ذاتی طور پر قابلِ تعریف ہے اوراگر ایمان کے بیج کو عبادات کا پانی نہ دیا جائے یا دل کو برے اخلاق سے ملوث چھوڑدیا جائے اور دنیاوی لذت میں منہمک ہو جائے اورپھر مغفرت کا انتظار کرے تو اس کا انتظار ایک بیوقوف اور دھوکے میں مبتلاشخص کا انتظار ہے۔نبیٔ اکرم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’اَلْاَحْمَقُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہٗ ہَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلَی اللہ  الْاَمَانِیَّ‘‘ بے وقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لاتا ہے اور(اس کے باوجود) اللہ تعالٰی سے تمنائیں کرتا ہے(کہ وہ بڑا کریم اور غفور و رحیم ہے،اس سے اور اس کے اعمال سے بے پرواہ ہے اس لئے اللہ تعالٰی اسے کوئی سزا نہیں دے گا بلکہ جنت میں داخل کر دے گا اور وہ اس کی من چاہی چیزیں اسے دے گا)۔(فیض القدیر، حرف الہمزۃ، ۲ / ۴۴۵، تحت الحدیث: ۲۰۲۵، احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان حقیقۃ الرجاء، ۴ / ۱۷۵)

بَلٰىۗ-مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ ۪-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠(۱۱۲)

ترجمۂ  کنزالایمان:ہاں کیوں نہیں جس نے اپنا منہ جھکایا اللہ کے لئے اور وہ نکو کار ہے تو اس کا نیگ اس کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہواور نہ کچھ غم۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:ہاں کیوں نہیں ؟ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لئے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا بھی ہو تو اس کااجر اس کے رب کے پاس ہے اور ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

{بَلٰى : کیوں نہیں۔}جنت میں داخلے کا حقیقی معیار ایمانِ صحیح اور عملِ صالح ہے اور کسی بھی زمانے اور کسی بھی نسل و قوم کا آدمی اگر صحیح ایمان و عمل رکھتا ہے تو وہ جنت میں جائے گا۔ البتہ یہ یاد رہے کہ نبیٔ کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اعلانِ نبوت کے بعد آپ کی نبوت نہ ماننے والے کا ایمان قطعاً صحیح نہیں ہوسکتا اور کوئی بھی عمل ایمان کے بغیر صالح نہیں ہوسکتا،گویا جو حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان رکھے اور عملِ صالح کرے وہ جنت کا مستحق ہے۔

 چونکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا تھا کہ ان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہیں ہوگا تو اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ ان کے علاوہ کوئی جنت میں کیوں داخل نہیں ہوگا جبکہ اللہ  تعالٰی کا قانون یہ ہے کہ جو بھی ایمان صحیح اور عمل صالح لے کر آئے گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ ۪-وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍۙ-وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْۚ-فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ(۱۱۳)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور یہودی بولے نصرانی کچھ نہیں اور نصرانی بولے یہودی کچھ نہیں حالانکہ وہ کتاب پڑھتے ہیں اسی طرح جاہلوں نے ان کی سی بات کہی تو اللہ قیامت کے دن ان میں فیصلہ کردے گا جس بات میں جھگڑ رہے ہیں۔

 ترجمۂ  کنزالعرفان:اور یہودیوں نے کہا: عیسائی کسی شے پر نہیں اور عیسائیوں نے کہا : یہودی کسی شے پر نہیں حالانکہ یہ کتاب پڑھتے ہیں اسی طرح جاہلوں نے ان (پہلوں )جیسی بات کہی تو اللہ قیامت کے دن ان میں اس بات کا فیصلہ کردے گا جس میں یہ جھگڑ رہے ہیں۔

{قَالَتِ الْیَهُوْدُ: یہودی بولے۔} ایک بار نجران کے عیسائیوں اور( مدینہ منورہ )کے یہودیوں کے علماء کی بارگاہ مصطفوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں آپس میں بحث ہوگئی۔ بحث کے دوران دونوں نے خوب شور مچایا۔ یہودی کہتے تھے کہ عیسائیوں کا دین کچھ نہیں اور عیسائی کہتے تھے کہ یہودیوں کا دین کچھ نہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔  (تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۱۳، ۲ / ۹)

{یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ: وہ کتاب پڑھتے ہیں۔} یعنی علم ہونے کے باوجود یہودو نصاریٰ نے ایسی جاہلانہ گفتگو کی حالانکہ انجیل شریف جس کو نصاریٰ مانتے ہیں اس میں توریت شریف اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن