دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

کرام سے وہی سوال کئے جائیں جن کی حاجت ہو، زمین پر بیٹھ کر خواہ مخواہ چاندپر رہائش کے سوال نہ کئے جائیں۔بعض لوگ علماء کو پریشان کرنے یا ان کا امتحان لینے یا ان کی لاعلمی ظاہر کرنے کیلئے سوال کرتے ہیں ،یہ سب ناجائز ہے۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’میں تمہیں جس کام سے منع کروں اس سے رک جاؤ اور جس کام کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق کرو، تم سے پہلے لوگوں کو محض ان کے سوالات کی کثرت اوراپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے اختلاف کرنے نے ہلاک کیا۔ (مسلم، کتاب الفضائل، باب توقیرہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ الخ، ص ۱۲۸۲، الحدیث: ۱۳۰ (۱۳۳۷))

من پسند حکم کا مطالبہ کرنایہودیوں کا طریقہ ہے:

            اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ معلوم کرکے عمل کرنے کی بجائے خواہ مخواہ بال کی کھال اتارتے رہنا اور اپنے من پسند حکم کا مطالبہ کرنا یہودیوں اور مشرکوں کا طریقہ ہے۔ہمارے معاشرے میں بھی لوگوں کی ایک تعداد ایسی ہے جن کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ معاملات یا عبادات میں جو صورت انہیں درپیش ہے اس میں فتویٰ ان کی مرضی اور پسند کے عین مطابق ملے اور اگر انہیں کہیں سے کوئی ایک ایسی دلیل مل جاتی ہے جو ان کے مقصد و مفادکو پورا کر رہی ہوتی ہے تو وہ اسی پر اڑ جاتے ہیں اگرچہ اس کے خلاف ہزار دلائل موجود ہوں لیکن وہ چونکہ ان کی مراد کے خلاف ہوتے ہیں اس لئے انہیں قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے اور ان کے بارے میں طرح طرح کی الٹی سیدھی تاویلیں پیش کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے۔

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا ۚۖ-حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّۚ-فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۰۹)

ترجمۂ  کنزالایمان:بہت کتابیوں نے چاہا کاش تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں اپنے دلوں کی جلن سے بعد اس کے کہ حق ان پر خوب ظاہر ہوچکا ہے تو تم چھوڑو اور درگزر کرو یہاں تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اہل کتاب میں سے بہت سے لوگو ں نے اس کے بعد کہ ان پر حق خوب ظاہر ہوچکا ہے اپنے دلی حسد کی وجہ سے یہ چاہا کہ کاش وہ تمہیں ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیردیں۔ تو تم (انہیں )چھوڑدو اور (ان سے) درگزر کرتے رہو یہاں تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

{وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: بہت سے اہلِ کتاب نے چاہا۔}جنگ ِاحد کے بعد یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو معاذاللہ مرتد ہونے کی دعوت دی۔ ان بزرگوں نے سختی سے رد کردیا اور پھر حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس واقعہ کی خبر دی۔حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: تم نے بہتر کیا اور فلاح پائی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔           (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۱ / ۷۹)

{حَسَدًا: حسد کی وجہ سے۔} اسلام کی حقانیت جاننے کے بعد یہودیوں کا مسلمانوں کے کفر و ارتداد کی تمنا کرنااور یہ چاہنا کہ وہ ایمان سے محروم ہو جائیں حسدکی وجہ سے تھا۔ اس سے معلوم ہواکہ حسد بہت بڑا عیب ہے اور اس کی وجہ سے انسان نہ صرف خود بھلائی سے رک جاتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی بھلائی سے روکنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتا ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، رسول  اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’حسد سے دور رہو کیونکہ حسدنیکیوں کو اس طرح کھاجاتاہے جس طرح آگ خشک لکڑیوں کو‘‘یافرمایا: ’’گھاس کوکھاجاتی ہے۔‘‘(ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی الحسد، ۴ / ۳۶۱، الحدیث: ۴۹۰۳)

             حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :حسد سے بچو،کیونکہ یہ پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے آسمان میں اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی گئی اور یہی پہلا گناہ ہے جس کے ذریعے زمین میں اللہ تعالٰی کی نافرمانی کی گئی ۔(تنبیہ المغترین، الباب الثالث فی جملۃ اخری من الاخلاق، ومن اخلاقہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم عدم الحسد لاحد من المسلمین۔۔۔ الخ، ص۱۸۸)

            یاد رہے کہ حسد حرام ہے البتہ اگر کوئی شخص اپنے مال و دولت یا اثر ووجاہت سے گمراہی اور بے دینی پھیلاتا ہو تو اس کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لیے اس کی نعمت کے زوال کی تمنا حسد میں داخل نہیں اور حرام بھی نہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۹، ۱ / ۷۹-۸۰)

{فَاعْفُوْا: تو تم معاف کرو۔} کفار کے ساتھ جنگ کے ذریعے بدلے لینے کی بجائے نرمی کی تمام آیات کا یہ حکم ہے کہ وہ جہاد کی آیتوں سے منسوخ ہیں جیسااس حکم کے آخر میں خود فرمادیا ’’یہاں تک کہ اللہ  اپنا حکم لائے‘‘ اور وہ حکم جہاد وقتال کا ہے۔

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَؕ-وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۱۱۰)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اپنی جانوں کے لئے جو بھلائی تم آگے بھیجو گے اسے اللہ کے یہاں پاؤ گے بیشک اللہ تمہارے سب کام دیکھ رہا ہے۔

{وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ: اور نماز قائم کرو۔} یہاں مسلمانوں کو اپنی اصلاحِ نفس کا حکم دیا جارہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کسی بھی دینی یا دنیوی اہم کام میں مصروف ہواسے اپنے نفس کی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ عین حالت ِ جہاد میں بھی نمازِ خوف کا حکم موجود ہے۔ طلاق کے مسائل بیان کرتے ہوئے بھی اللہ تعالٰی نے نماز اور تقویٰ کے احکام بیان فرمائے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی نیکی کی دعوت میں یا علمِ دین کے حصول یا کسی دوسرے اہم دینی کام میں مشغول ہے تو اسے اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰىؕ-تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْؕ-قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۱۱)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور اہل کتاب بولے، ہرگز جنت میں نہ جائے گا مگر وہ جو یہودی یا نصرانی ہو یہ ان کی خیال بندیاں ہیں تم فرماؤ لا ؤ اپنی دلیل اگر سچے ہو۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور اہل کتاب نے کہا: ہرگز جنت میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو یہودی ہو یاعیسائی۔ یہ ان کی من گھڑت تمنائیں ہیں۔ تم فرمادو: اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل لاؤ۔

{لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ: ہر گز جنت میں داخل نہ ہوں گے۔}یہودی مسلمانوں سے کہتے تھے کہ جنت میں صرف یہودی جائیں گے اور عیسائی کہتے تھے کہ صرف وہی جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ گفتگو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن