30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تھا لیکن اہلِ کتاب کو تو کسی بھی صورت یہ اعتراض نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کے بہت سے احکام تو وہ بھی منسوخ مانتے ہیں جیسے بہن بھائی کا آپس میں نکاح، یونہی یہودیوں سے پہلے ہفتہ کے دن دنیوی کام حرام نہ تھے ،ان پر حرام ہوئے، نیز توریت میں ہے کہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی امت کے لئے تمام جانور حلال تھے جبکہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر بہت سے حرام کردیئے گئے۔ ان تمام چیزوں کے ہوتے ہوئے نسخ کا انکار کس طرح ممکن ہے۔
(1)…جس طرح کوئی آیت دوسری آیت سے منسوخ ہوتی ہے اسی طرح حدیث ِمتواتر سے بھی آیت منسوخ ہوتی ہے۔
(2)… کبھی صرف تلاوت منسوخ ہوتی ہے اورکبھی صرف حکم منسوخ ہوتاہے اور کبھی تلاوت و حکم دونوں منسوخ ہوتے ہیں۔بیہقی شریف میں ہے کہ ایک انصاری صحابی رات کو تہجد کے لیے اٹھے اور سورۂ فاتحہ کے بعد جو سورت ہمیشہ پڑھا کرتے تھے اس کو پڑھنا چاہا لیکن وہ بالکل یاد نہ آئی اور سوائے بسم اللہ کے کچھ نہ پڑھ سکے ۔صبح کو دوسرے ا صحاب سے اس کا ذکر کیا توان حضرات نے فرمایا :ہمارا بھی یہی حال ہے، وہ سورت ہمیں بھی یاد تھی اور اب ہمارے حافظہ میں بھی نہ رہی۔ سب نے بارگاہِ رسالت میں واقعہ عرض کیا تو حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: آج رات وہ سورت اٹھالی گئی۔ اس کے حکم و تلاوت دونوں منسوخ ہوئے جن کاغذوں پر وہ لکھی گئی تھی ان پر نقش تک باقی نہ رہے۔(دلائل النبوہ للبیہقی، باب ما جاء فی تألیف القرآن۔۔۔ الخ، ۷ / ۱۵۷، ملخصاً)
{نَاْتِ بِخَیْرٍ: ہم بہتر لے آئیں گے۔} فرمایا کہ ہم کسی آیت کو منسوخ فرمادیں یا بھلادیں تو اس کی جگہ زیادہ آساناور زیادہ ثواب والا یا کم از کم پہلے والے حکم کے برابر حکم لے آئیں گے۔پہلے سے زیادہ سہولت والے کی مثال ہے جیسے پہلے دس گنا تک کے لشکر سے جہاد کا حکم تھا پھر صرف دو گنا تک کے لشکر سے جہاد میں ڈٹے رہنے کا حکم نازل ہوا۔ زیادہ ثواب کی مثال ہے جیسے پہلے ایک قول کے مطابق روزے کی طاقت رکھنے والے کو بھی فدیہ دینے کی اجازت تھی لیکن بعد میں اس پر روزے کا حکم ہی متعین کردیا جو فدیہ سے زیادہ ثواب والا حکم ہے۔ سہولت میں برابر کے حکم کی مثال ہے جیسے بیت المقدس سے پھیر کر خانہ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا حالانکہ دونوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے میں برابر درجے کی سہولت ہے۔
اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ(۱۰۷)
ترجمۂ کنزالایمان:کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مددگار۔
ترجمۂ کنزالعرفان:کیا تجھے معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے مقابلے میں تمہارا نہ کوئی حمایتی ہے اور نہ ہی مددگار۔
{لَهٗ مُلْكُ: اسی کی بادشاہی ہے۔}اللہ تعالٰی کو اختیار ہے کہ اپنے ملک میں جو چاہے جب چاہے قانون جاری کرے، جب کائنات میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، دن جاتا ہے رات آتی ہے اور سارے جہان میں ہر طرح تبدیلی ہوتی رہتی ہے توشرعی قانون میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے اوریہ تبدیلی مخلوق کی مصلحت کی وجہ سے ہے۔
{مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ: اللہ کے مقابلے میں۔}اللہ تعالٰی کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا ۔ ہاں اللہ تعالٰی کی اجازت اور اختیار دینے سے مدد ہوسکتی ہے ، قرآن وحدیث میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بیماروں ، کوڑھیوں اور نابیناؤں کی مدد کرتے تھے۔ فرشتوں نے غزوہ بدر اور غزوہ حُنَین میں مسلمانوں کی مدد کی۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر نے تخت ِ بلقیس لا کر مدد کی۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے سینکڑوں مرتبہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کی کھانے، پینے، بیماریوں اور پریشانیوں میں مدد کی۔ حضور غوث ِ پاک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اولیاء کرام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کامدد کرنا لاکھوں لوگوں کے تجربات اور تواتر سے ثابت ہے۔
اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْــٴَـلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَاسىٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُؕ-وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان:کیا یہ چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے ویساسوال کرو جو پہلے موسٰی سے ہوا تھا اور جو ایمان کے بدلے کفر لے وہ ٹھیک راستہ بہک گیا۔
ترجمۂ کنزالعرفان: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے رسول سے ویسے ہی سوال کرو جیسے اس سے پہلے موسیٰ سے کئے گئے اور جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔
{كَمَاسىٕلَ مُوْسٰى: جیسے موسیٰ سے سوال کیا گیا۔}اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ یہودیوں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں عرض کیا:جس طرح حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تورات لے کر آئے تھے اسی طرح آپ بھی ہمارے پاس ایک ہی مرتبہ سارا قرآن لے آئیں۔بعض نے یوں کہا کہ ہم آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ اللہ تعالٰی اور فرشتوں کو ہمارے سامنے نہیں لے آتے۔ان کے سوالات کے جواب میں ان سے فرمایا گیا: کیاتم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے ویسے ہی سوال کر و جیسے محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے کئے گئے تھے۔اے یہودیو!جب میرے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نبوت کا درست ہونا دلائل اور معجزات سے ثابت ہو چکا تو پھر ایسے لا یعنی سوال کیوں کر رہے ہواور اے ایمان والو! بے شک یہودی دھوکے باز اور تم سے حسد کرنے والے ہیں اور ان کی تمنا یہ ہے کہ مسلمان کسی نہ کسی مشکل میں مبتلا ہوں لہٰذا ان کی کوئی ایسی بات قبول نہ کرو جو بظاہر نصیحت لگ رہی ہواور یاد رکھو کہ جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کر کے اپنے دین سے پھر گیا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱ / ۷۹)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ کفار مکہ نے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ سارا قرآن ایک ہی مرتبہ لے آئیں ، کسی نے کہا کہ اللہ تعالٰی( اور فرشتے )ہمارے سامنے اعلانیہ آجائیں ،کسی نے کہا کہ کوہِ صفا کو سونے کا بنادیں۔ ان کے سوالات کے جواب میں ان سے فرمایا گیا کہ تم بھی اپنے رسول محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے اسی طرح فضول سوال کر رہے ہو جس طرح ان سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی قوم نے ان سے کہا تھا کہ ہمیں اعلانیہ خدا دکھا دو، حالانکہ آیات ِ قرآنیہ کے نزول کے بعد دوسری نشانیوں کا مطالبہ کرناسیدھے راہ سے بھٹکنا ہے۔(طبری، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱ / ۵۳۰، در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱ / ۲۶۰-۲۶۱، جلالین مع صاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۸، ۱ / ۹۹-۱۰۰، ملتقطاً)
صحیح مقصد کے بغیر سوال کرنا منع ہے:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی صحیح مقصد کے بغیر سوال کرنا ممنوع ہے نیز فضول سوال کرنا بھی ممنوع ہے۔ لہٰذا عوام الناس کو چاہئے کہ اس بات کو پیش نظررکھیں کہ علماء اور مفتیانِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع