30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالعرفان:اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیارکرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے،اگر یہ جانتے۔
{وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا: اگر وہ ایمان لاتے۔} فرمایا گیا کہ اگر یہودی حضور، سید ِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ اور قرآنِ پاک پرایمان لاتے تو اللہ تعالٰی کے ہاں کا ثواب ان کیلئے بہت اچھا ہوتا کیونکہ آخرت کی تھوڑی سی نعمت دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت سے اعلیٰ ہے۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اے ایمان والوراعنا نہ کہواور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اے ایمان والو!راعنا نہ کہواور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
{لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا: راعنا نہ کہو۔ }شان نزول: جب حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو کچھ تعلیم و تلقین فرماتے تو وہ کبھی کبھی درمیان میں عرض کیا کرتے۔ ’’رَاعِنَا یارسول اللہ‘‘ اس کے یہ معنی تھے کہیا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہمارے حال کی رعایت فرمائیے یعنی کلامِ اقدس کو اچھی طرح سمجھ لینے کا موقع دیجئے۔ یہودیوں کی لغت میں یہ کلمہ بے ادبی کامعنی رکھتا تھا اور انہوں نے اسی بری نیت سے کہنا شروع کردیا۔ حضرت سعد بن معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیہودیوں کی اصطلاح سے واقف تھے۔ آپ نے ایک روز یہ کلمہ ان کی زبان سے سن کر فرمایا: اے دشمنانِ خدا !تم پر اللہ کی لعنت، اگر میں نے اب کسی کی زبان سے یہ کلمہ سناتو اس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہودیوں نے کہا: ہم پر تو آپ برہم ہوتے ہیں جبکہ مسلمان بھی تو یہی کہتے ہیں ، اس پر آپ رنجیدہ ہو کر سرکار ِ دوعالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوئے ہی تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جس میں ’’رَاعِنَا‘‘ کہنے کی ممانعت فرمادی گئی اور اس معنی کا دوسرا لفظ ’’اُنْظُرْنَا‘‘ کہنے کا حکم ہوا ۔ (قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱ / ۴۴-۴۵، الجزء الثانی، تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱ / ۶۳۴، تفسیر عزیزی(مترجم)۲ / ۶۶۹، ملتقطاً)
آیت’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا‘‘ سے معلوم ہونے والے احکام:
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں ادب کا لحاظ کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ایسے الفاظ کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ جس لفظ کے دو معنی ہوں اچھے اور برے اور لفظ بولنے میں اس برے معنیٰ کی طرف بھی ذہن جاتا ہو تو وہ بھی اللہ تعالٰی اور حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے لئے استعمال نہ کئے جائیں۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ کا ادب ربُّ العالَمین خود سکھاتا ہے اور تعظیم کے متعلق احکام کو خود جاری فرماتا ہے۔
{وَ اسْمَعُوْا: اور غور سے سنو۔} یعنی حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے کلام فرمانے کے وقت ہمہ تن گوش ہو جاؤ تاکہ یہ عرض کرنے کی ضرورت ہی نہ رہے کہ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَتوجہ فرمائیں کیونکہ دربارِ نبوت کا یہی ادب ہے۔
{وَ لِلْكٰفِرِیْنَ: اور کافروں کیلئے۔} یعنی جو یہودی سید المرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی توہین کر رہے ہیں اور ان کے بارے میں بے ادبی والے الفاظ استعمال کر رہے ہیں ان یہودیوں کے لئے درد ناک عذاب ہے۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۴، ۱ / ۹۷)
یاد رہے کہ اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے ۔
مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ(۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان:وہ جو کافر ہیں کتابی یا مشرک وہ نہیں چاہتے کہ تم پر کوئی بھلائی اترے تمہارے رب کے پاس سے اور اللہ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:(اے مسلمانو!)نہ تو اہلِ کتاب کے کافر چاہتے ہیں اور نہ ہی مشرک کہ تمہارے او پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی اتاری جائے حالانکہ اللہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص فرمالیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
{مَا یَوَدُّ : کافر نہیں چاہتے ۔}شانِ نزول :یہودیوں کی ایک جماعت مسلمانوں کے ساتھ دوستی اور خیر خواہی کا اظہار کرتی تھی ان کی تکذیب میں یہ آیت نازل ہوئی اورمسلمانوں کو بتایا گیا کہ یہ کفار خیر خواہی کے دعوے میں جھوٹے ہیں۔
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَاؕ-اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ(۱۰۶)
ترجمۂ کنزالایمان:جب کوئی آیت ہم منسوخ فرمائیں یا بھلا دیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی لے آئیں گے کیا تجھے خبر نہیں کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:جب ہم کوئی آیت منسوخ کرتے ہیں یا لوگوں کو بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس جیسی اور آیت لے آتے ہیں۔(اے مخاطب!)کیا تجھے معلوم نہیں کہ اللہ ہر شے پر قادر ہے۔
{مَا نَنْسَخْ: ہم جو منسوخ فرمائیں۔} نسخ کا معنیٰ ہے: سابقہ حکم کو کسی بعد والی دلیلِ شرعی سے اٹھا دینا۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۱ / ۷۷)
اور یہ حقیقت میں سابقہ حکم کی مدت کی انتہاء کا بیان ہوتا ہے۔ اس آیت کاشان نزول یہ ہے کہ قرآن کریم نے گزشتہ شریعتوں اور کتابوں کو منسوخ فرمایا تو کفار کو بڑی وحشت ہوئی اور انہوں نے اس پر اعتراضات کئے، اس پر یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ منسوخ بھی اللہ تعالٰی کی طرف سے ہے اور ناسِخْ بھی، دونوں عین حکمت ہیں اور ناسخ کبھی منسوخ سے زیادہ آسان اور نفع بخش ہوتا ہے لہٰذا قدرت ِالہٰی پر یقین رکھنے والے کو اس میں تَرَدُّد کی کوئی گنجائش نہیں۔ کائنات میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالٰی دن سے رات کو، گرماسے سرما کو ،جوانی سے بچپن کو، بیماری سے تندرستی کو ،بہار سے خزاں کو منسوخ فرماتا ہے۔یہ تمام نسخ و تبدیل اس کی قدرت کے دلائل ہیں تو ایک آیت اور ایک حکم کے منسوخ ہونے میں کیا تعجب ؟ نسخ حقیقت میں سابقہ حکم کی مدت کا بیا ن ہو تا ہے کہ وہ حکم اس مدت کے لیے تھا اور اب وہ مدت پوری ہوگئی ۔ صرف یہ تھا کہ ہمیں وہ مدت معلوم نہ تھی اور ناسخ کے آنے سے معلوم ہوگئی۔ کفار کا اعتراض تو جہالت و ناسمجھی کی وجہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع