دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

میں یہ خبریں یہودیوں کی کتابوں اور ان کی گھڑی ہوئی باتوں میں سے ہیں۔ اور راجح یہی ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں اللہ تعالٰی نے مخلوق کی آزمائش کے لئے مقرر فرمایا کہ جو جادو سیکھنا چاہے اسے نصیحت کریں کہ ’’اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ‘‘ ہم توآزمائش ہی کے لئے مقررہوئے ہیں توکفرنہ کر۔ اور جو ان کی بات نہ مانے وہ اپنے پاؤں پہ چل کے خودجہنم میں جائے،یہ فرشتے اگر اسے جادو سکھاتے ہیں تو وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں نہ کہ نافرمانی کر رہے ہیں۔(الشفاء، فصل فی القول فی عصمۃ الملائکۃ، ص۱۷۵-۱۷۶، الجزء الثانی، فتاوی رضویہ، کتاب الشتی، ۲۶ / ۳۹۷)

فرشتوں کی عصمت کا بیان:

            فرشتوں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:

’’لَا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘ (تحریم: ۶)

ترجمۂ  کنزالعرفان:وہ (فرشتے)اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

اور ارشاد فرمایا:

’’ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۹)یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩(۵۰)‘‘(نحل: ۴۹-۵۰)

ترجمۂ  کنزالعرفان:اورفرشتے غرور نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتاہے۔

            امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے تمام گناہوں سے معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالٰی کا یہ فرمانا کہ وہ غرور نہیں کرتے اس بات کی دلیل ہے کہ فرشتے اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے اطاعت گزار ہیں اور وہ کسی بات اور کسی کام میں بھی اللہ تعالٰی کی مخالفت نہیں کرتے۔(تفسیر کبیر، النحل، تحت الآیۃ: ۵۰، ۷ / ۲۱۷۔۲۱۸)

{فَلَا تَكْفُرْ: تو کفر نہ کر۔} ہاروت و ماروت کے پاس جو شخص جادو سیکھنے آتا تو یہ سکھانے سے پہلے اسے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے کہ جادو سیکھ کر اور اس پر عمل کرکے اور اس کوجائز و حلال سمجھ کر اپنا ایمان ضائع نہ کر۔اگر وہ ان کی بات نہ مانتا تو یہ اسے جادو سکھا دیتے۔

 جادو کی تعریف اور اس کی مذمت:

            علماء کرام نے جادو کی کئی تعریفیں بیان کی ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ کسی شریر اور بدکار شخص کا مخصوص عمل کے ذریعے عام عادت کے خلاف کوئی کا م کرناجادو کہلاتا ہے۔  (شرح المقاصد، المقصد السادس، الفصل الاول فی النبوۃ، ۵ / ۷۹)

            جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے اور لوگوں کی آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے،جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اُس جادو میں ایمان کے خلاف کلمات اور افعال ہوں اوراگر کفریہ کلمات و افعال نہ ہوں تو کفر کا حکم نہیں ہے۔

            یہاں مزید تین مسئلے یاد رکھیں :

 (1)…جو جادو کفر ہے اس کا عامل اگر مردہوتو اسے قتل کردیا جائے گا۔

 (2) …جو جادو کفر نہیں مگر اس سے جانیں ہلاک کی جاتی ہیں تو اس کا عامل ڈاکو کے حکم میں ہے مردہو یا عورت۔ یعنی اس کی سزا بھی قتل ہے۔

(3)…اگر جادو گر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ص ۶۹)

             احادیث میں جادو کی بہت مذمت کی گئی ہے ،چنانچہ حضرت عثمان بن ابی عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ، میں نے حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو ارشاد فرماتے سنا: ’’اللہ تعالٰی کے نبی حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رات کی ایک گھڑی اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے اور ارشاد فرماتے:’’اے آلِ داؤد! اٹھو اور نماز پڑھو کیونکہ اس گھڑی اللہ تعالٰی جادو گر اور (ناحق) ٹیکس لینے والے کے علاوہ ہرایک کی دُعا قبول فرماتا ہے۔ (مسند امام احمد، مسند المدنیین، حدیث عثمان بن ابی العاص الثقفی، ۵ / ۴۹۲، الحدیث: ۱۶۲۸۱)

            حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’شراب کا عادی، جادو پریقین رکھنے والا اور قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب الکھانۃ والسحر، ۷ / ۶۴۸، الحدیث: ۶۱۰۴)

            یاد رہے کہ یہاں جادو گر کے بارے میں جو سزائیں بیان کی گئیں یہ سزائیں دینا صرف اِسلامی حکومت کا کام ہے، عوامُ النَّاس کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں ، البتہ ہر ایک کو چاہئے کہ جادو کرنے والوں سے دور رہے۔ نیزجادو سے متعلق مزید تفصیل جاننے کے لئے کتاب ’’جہنم میں لے جانے والے اعمال‘‘ کی دوسری جلد کا مطالعہ فرمائیں۔

{وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ: اور وہ نقصان پہنچانے والے نہیں۔}اس آیت سے چند مسائل معلوم ہوئے:

(1)… مؤثرِ حقیقی اللہ تعالٰی ہے اور اسباب کی تاثیر اللہ  تعالٰی کی مَشِیَّت یعنی چاہنے کے تحت ہے۔ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو ہی کوئی شے اثر کرسکتی ہے،اگر اللہ  تعالٰی نہ چاہے تو آگ جلا نہ سکے، پانی پیاس نہ بجھاسکے اوردوا شِفا نہ دے سکے۔

(2)… جادو میں اثر ہے اگرچہ اس میں کفریہ کلمے ہوں۔

(3)… جب جادو میں نقصان کی تاثیر ہے تو قرآنی آیات میں ضرور شفا کی تاثیر ہے۔یونہی جب کفار جادو سے نقصان پہنچاسکتے ہیں تو خدا کے بندے بھی کرامت کے ذریعہ نفع پہنچاسکتے ہیں۔ جیسے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا بیماروں ، اندھوں او رکوڑھیوں کو شفا بخشنا خود قرآن مجید میں موجود ہے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠(۱۰۳)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیزگاری کرتے تو اللہ کے یہاں کا ثواب بہت اچھا ہے کسی طرح انہیں علم ہوتا۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن