30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا وجود مبارک ہی ان کتابوں کی تصدیق ہے ،لہٰذااس بات کا تقاضا تو یہ تھا کہ حضور اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی آمد پر اہل کتاب کا ایمان اپنی کتابوں کے ساتھ اور زیادہ پختہ ہوتا مگر اس کے برعکس انہوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ بھی کفر کیا۔ مشہور مفسرسُدِی کا قول ہے کہ جب رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی تشریف آوری ہوئی تو یہودیوں نے توریت اور قرآن کا تقابل کیا اور جب دونوں کوایک دوسرے کے مطابق پایا تو انہوں نے توریت کو بھی چھوڑ دیا۔(در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۱ / ۲۳۳)
{ وَ رَآءَ ظُهُوْرِهِمْ: اپنی پشتوں کے پیچھے۔} پیٹھ پیچھے پھینکنے سے مراد ہے اس کتاب کی طرف بے التفاتی کرنا۔ حضرت سفیان بن عُیَینَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کافرمان ہے کہ یہودیوں نے توریت کو ریشمی غلافوں میں سونے چاندی کے ساتھ مزین کرکے رکھ لیا اور اس کے احکام کو نہ مانا۔ (تفسیر جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۱ / ۱۲۷)
قرآن مجید سے متعلق مسلمانوں کی حالت زار:
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی کی کتاب پر عمل نہ کرنا اسے پیٹھ پیچھے پھینکنے کے مترادف ہے اگرچہ اسے روز پڑھے اور اچھے کپڑوں میں لپیٹ کر رکھے جیسے یہودی توریت کی بہت تعظیم کرتے تھے مگر حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان نہ لائے تو اس پر عمل نہ کیا گیا گویا اسے پسِ پشت ڈال دیا۔ آج کے مسلمانوں کا حال بھی اس سے بہت مشابہ ہے کہ قرآن پاک کے عمدہ سے عمدہ اورنفیس نسخے گھروں اورمسجدوں میں الماریوں کی زینت تو ہیں ، ریشمی غلاف بھی ان پر موجود ہیں لیکن پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی حالت یہ ہے کہ ان الماریوں اور ریشمی غلافوں پر گرد کی تہہ جم چکی ہے اور حقیقتا وہ گرد ان غلافوں پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں پر جمی ہوئی ہے۔آج کہاں ہیں وہ مسلمان جنہیں قرآن کے حلال وحرام کا علم ہو؟جنہیں اسلامی اخلاق کا پتہ ہو؟ جن کے دل اللہ تعالٰی کی آیات سن کر ڈر جاتے ہوں اور ان کے اعضا اللہ تعالٰی کے خوف سے کانپ اٹھتے ہوں ؟ جن کے دل و دماغ پر قرآن کے انوار چھائے ہوئے ہوں۔ افسوس!
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
اس آیت سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قرآن شریف کی طرف پیٹھ نہیں کرنی چاہیے کہ یہ بے رخی اور بے تَوَجُّہی کی علامت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ بے عمل آدمی جاہل کی طرح ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔
وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَۚ-وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَۗ-وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَؕ-وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْؕ-فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖؕ-وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِؕ-وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْؕ-وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ﳴ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْؕ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اس کے پیرو ہوئے جو شیطان پڑھا کرتے تھے سلطنت سلیمان کے زمانہ میں اور سلیمان نے کفر نہ کیا ہاں شیطان کافر ہوئے لوگوں کو جادو سکھاتے ہیں اور وہ (جادو)جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر اترا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو نری آزمائش ہیں تو اپنا ایمان نہ کھو تو ان سے سیکھتے وہ جس سے جدائی ڈالیں مرد اور اس کی عورت میں اور اس سے ضرر نہیں پہنچاسکتے کسی کو مگر خدا کے حکم سے اور وہ سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان دے گا نفع نہ دے گا اور بیشک ضرور انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور بیشک کیا بری چیز ہے وہ جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانیں بیچیں کسی طرح انہیں علم ہوتا۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یہ سلیمان کے عہدِ حکومت میں اس جادو کے پیچھے پڑگئے جو شیاطین پڑھا کرتے تھے اور سلیمان نے کفر نہ کیابلکہ شیطان کافر ہوئے جو لوگوں کو جادو سکھاتے تھے اور (یہ تو اس جادو کے پیچھے بھی پڑگئے تھے)جو بابل شہر میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پراتارا گیاتھا اور وہ دونوں کسی کو کچھ نہ سکھاتے جب تک یہ نہ کہہ لیتے کہ ہم تو صرف(لوگوں کا) امتحان ہیں تو(اے لوگو!تم ) اپنا ایمان ضائع نہ کرو۔وہ لوگ ان فرشتوں سے ایسا جادوسیکھتے جس کے ذریعے مرد اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال دیں حالانکہ وہ اس کے ذریعے کسی کو اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے تھے اور یہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو انہیں نقصان دے اور انہیں نفع نہ دے اور یقیناً انہیں معلوم ہے کہ جس نے یہ سودا لیا ہے آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کا کتنا براسودا کیا ہے، کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جانتے۔
{وَ اتَّبَعُوْا: وہ جادو کے پیچھے پڑ گئے۔} شان نزول: حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکال کر لوگوں سے کہا کہ حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں اور علماء نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جاہل لوگ جادو کو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا علم مان کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر ملامت شروع کی۔ہمارے آقا محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے تک یہی حال رہا اور اللہ تعالٰی نے حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے ذریعے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جادو سے براء ت کا اظہار فرمایا۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۷۳ )
{وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ: اور سلیمان نے کفر نہ کیا۔}اس آیت سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں سے دشمنوں کے الزام دور کرنا اللہ تعالٰی کی سنت ہے جیسا کہ لوگوں نے حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر جادو گری کی تہمت لگائی اور اللہ تعالٰی نے اس آیت میں اس تہمت کو دور فرمایا۔نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جادو کرنا کبھی کفر بھی ہوتا ہے جبکہ اس میں کفریہ الفاظ ہوں۔
{هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ: ہاروت اور ماروت۔}ہاروت، ماروت دو فرشتے ہیں جنہیں بنی اسرائیل کی آزمائش کیلئے اللہ تعالٰی نے بھیجا تھا۔ ان کے بارے میں غلط قصے بہت مشہور ہیں اور وہ سب باطل ہیں۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲، ۱ / ۷۵)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے ہاروت اور ماروت کے بارے میں جو کلام فرمایا اس کا خلاصہیہ ہے کہ ’’ہاروت اور ماروت کا واقعہ جس طرح عوام میں مشہور ہے آئمہ کرام اس کا شدید اور سخت انکار کرتے ہیں ، اس کی تفصیل شفاء شریف اور اس کی شروحات میں موجود ہے، یہاں تک کہ امام اجل قاضی عیاض رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’ہاروت اور ماروت کے بارے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع