30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{ مَنْ كَانَ عَدُوًّا: جو دشمن ہو۔} شانِ نزول: یہودیوں کے ایک گروہ نے حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے کہا: آپ کے پاس آسمان سے کون فرشتہ آتا ہے؟نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’میرے پاس حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام آتے ہیں۔ابنِ صوریا یہودی پیشوا نے کہا: وہ ہمارا دشمن ہے، عذاب، شدت اور زمین میں دھنسانا وہی اتارتا ہے اور پہلے بھی کئی مرتبہ ہم سے دشمنی کر چکا ہے اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاس حضرت میکائیلعَلَیْہِ السَّلَام آتے تو ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آتے۔(قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۷، ۱ / ۲۸، الجزء الثانی، خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۷، ۱ / ۷۱)
یہودیوں کی یہ بات سراسر جہالت تھی کیونکہ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام تو جو چیز بھی لائے وہ اللہ تعالٰی کے حکم سے تھی تو حقیقت میں یہ اللہ تعالٰی سے دشمنی تھی، بلکہ اگر یہودی انصاف کرتے تو حضرت جبر یل امین عَلَیْہِ السَّلَام سے محبت کرتے اور ان کے شکر گزار ہوتے کہ وہ ایسی کتاب لائے جس سے ان کی کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے۔
مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓىٕكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:جو کوئی دشمن ہواللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کا تو اللہ دشمن ہے کافروں کا۔
ترجمۂ کنزالعرفان:جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اورجبرائیل اور میکائیل کا دشمن ہو تو اللہ کافروں کا دشمن ہے۔
{مَنْ كَانَ عَدُوًّا: جو کوئی دشمن ہو۔} اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرشتوں سے دشمنی کفر اور غضبِ الہٰی کاسبب ہے اور محبوبانِ حق سے دشمنی خداعَزَّوَجَلَّ سے دشمنی کرنا ہے۔حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامانبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے خادم ہیں ،ان کا دشمن رب تعالیٰٰ کا دشمن ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک فرشتے سے عداوت سارے فرشتوں سے عداوت ہے۔ یہی حال انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم سے عداوت رکھنے کا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَفرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایا: ’’جو میرے کسی ولی سے دشمنی کرے، اسے میں نے لڑائی کا اعلان کردیا۔(بخاری، کتاب الرقاق، باب التواضع، ۴ / ۲۴۸، الحدیث: ۵۶۰۲)
وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍۚ-وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ(۹۹)
ترجمۂ کنزالایمان:اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں اتاریں اور ان کے منکر نہ ہوں گے مگر فاسق لوگ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کیں اور ان کا انکار صرف نافرمان ہی کرتے ہیں۔
{وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ:اور بیشک ہم نے تمہاری طرف روشن آیتیں نازل کیں۔} ابن صوریا نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کہا کہ آپ کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جسے ہم پہچانتے ہوں اور آپ پر ایسی کوئی روشن آیت نازل نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ہم آپ کی پیروی کریں۔اللہ تعالٰی نے اس کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب!صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم نے آپ کی طرف روشن آیتیں نازل فرمائی ہیں جن میں حلال،حرام اور حدود وغیرہ کے احکام واضح اور تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اور ان آیتوں کا انکار وہی کرتا ہے جو ہمارے احکامات کی اطاعت نہیں کرتا۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۹، ۱ / ۷۲)
یاد رہے کہ یہاں فاسقوں سے مراد کافر اور منافق ہیں۔
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور کیا جب کبھی کوئی عہد کرتے ہیں ان میں ایک فریق اسے پھینک دیتا ہے بلکہ ان میں بہتیروں کو ایمان نہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور جب کبھی انہوں نے کوئی عہدکیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر مانتے ہی نہیں۔
{عٰهَدُوْا عَهْدًا: انہوں نے عہد کیا۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمافرماتے ہیں :جب حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے یہودیوں کو اللہ تعالٰی کے وہ عہد یاد دلائے جو حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق تھے تو مالک بن صیف نے کہا:خدا کی قسم !آپ کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا۔اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ یہودیوں نے جب کبھی کوئی عہدکیا تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو ویسے ہی پیٹھ پیچھے پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر یہودیوں کو تورات پر ایمان ہی نہیں اسی لئے وہ عہد توڑنے کو گناہ نہیں سمجھتے اور نہ ہی اس بات کی کوئی پرواہ کرتے ہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۷۲، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۱۸۹، ملتقطاً)
بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہودیوں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا ظہور ہو گا تو ہم ان پر ضرور ایمان لائیں گے اور عرب کے مشرکوں کے خلاف ہم ضرور ان کے ساتھ ہوں گے، لیکن جب حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو یہودیوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر ایمان لانے کی بجائے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۰، ۱ / ۳۱، الجزء الثانی)
وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَۗۙ-كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘(۱۰۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب ان کے پاس تشریف لایا اللہ کے یہاں سے ایک رسول ان کی کتابوں کی تصدیق فرماتا تو کتاب والوں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب پیٹھ پیچھے پھینک دی گویا وہ کچھ علم ہی نہیں رکھتے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول تشریف لایاجو ان کی کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہے تواہلِ کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے یوں پھینک دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں ہیں۔
{جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ: ان کے پاس رسول آیا۔} یہاں رسول سے مراد سرکارِ دوعالم، محمد مصطفٰی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ہیں اور چونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ توریت، زبور وغیرہ کی تصدیق فرماتے تھے اور خود ان کی کتابوں میں بھی حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اوصاف و احوال کا بیان تھا اس لیے حضور انور صَلَّی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع