دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

۶۲۲، الحدیث: ۱۸۹۰)

            عمومی طور پر تمام اکابرصحابہ او ربالخصوص شہدائے بدر واحد واصحابِ بیعت رضوان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمراہِ خدا میں موت سے محبت رکھتے تھے، حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایران والوں کوجو خط بھیجا اس میں تحریر فرمایا تھا: ’’اِنَّ مَعِیَ قَوْمًا  یُّحِبُّوْنَ الْقَتْلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ کَمَا یُحِبُّ الْفَارَسُ الْخَمْرَ‘‘ یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو اللہ تعالٰی کی راہ میں شہید ہو جانے کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا ایرانی لوگ شراب سے محبت رکھتے ہیں۔(معجم الکبیر، باب من اسمہ خالد، ۴ / ۱۰۵، الحدیث: ۳۸۰۶)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس طرح کا خط حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایرانی لشکر کےسپہ سالار رستم بن فرخ زاد کے پاس بھیجا تھا اوراس میں تحریر فرمایا تھا: ’’اِنَّ مَعِیَ قَوْمًا  یُّحِبُّوْنَ الْمَوْتَ کَمَا یُحِبُّ الَْفارَسُ الْخَمْرَ‘‘  یعنی میرے ساتھ ایسی قوم ہے جو موت کو اتنا محبوب رکھتی ہے جتنا عجمی شراب کو مرغوب رکھتے ہیں۔(تفسیر عزیزی (مترجم)، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۴، ۲ / ۶۰۳)

                اس میں لطیف اشارہ تھا کہ شراب کی ناقص مستی کو محبت ِ دنیا کے دیوانے پسند کرتے ہیں اور اللہ والے موت کو محبوب حقیقی کے وصال کا ذریعہ سمجھ کر محبوب جانتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اہلِ ایمان آخرت کی رغبت رکھتے ہیں اور اگرلمبی عمر کی تمنا بھی کریں تو وہ اس لیے ہوتی ہے کہ نیکیاں کرنے کے لیے کچھ اور عرصہ مل جائے جس سے آخرت کے لیے ذخیرئہ سعادت زیادہ کرسکیں اوراگر گزشتہ زندگی میں گناہ ہوئے ہیں تو ان سے توبہ و استغفار کرلیں البتہ دنیوی مصائب سے تنگ آکر وہ کبھی موت کی تمنا نہیں کرتے۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’ کوئی دنیوی مصیبت سے پریشان ہو کر موت کی تمنا نہ کرے اور اگر موت کی تمنا کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو یوں دعا کرے کہ اے اللہ!عَزَّوَجَلَّ، جب تک زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لئے وفات بہتر ہواس وقت مجھے وفات دیدے۔(بخاری، کتاب المرضی، باب تمنی الموت، ۴ / ۱۳، الحدیث: ۵۶۷۱)اور درحقیقت دنیوی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی دعا کرنا صبر و رضاو تسلیم و توکل کے خلاف ہے اورناجائز ہے۔

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۹۵)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور ہرگز کبھی اس کی آرزو نہ کریں گے ان بداعمالیوں کے سبب جو آگے کرچکے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اوراپنی بداعمالیوں کی وجہ سے یہ ہرگز کبھی موت کی تمنا نہ کریں گے اور اللہ  ظالموں کوخوب جانتا ہے۔

{وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ: اورہرگز موت کی تمنا نہ کریں گے۔ }یہ غیب کی خبر اور معجزہ ہے کہ یہود ی نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاور اسلام کی شدید مخالفت کے باوجود بھی موت کی تمنا کا لفظ زبان پر نہ لاسکے۔

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍۚۛ-وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْاۚۛ-یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍۚ-وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠(۹۶)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں سے ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے اور وہ اسے عذاب سے دور نہ کرے گا اتنی عمر دیا جانا اور اللہ  ان کے کوتک دیکھ رہا ہے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں اور مشرکوں میں سے ایک (گروہ)تمنا کرتاہے کہ کاش اسے ہزار سال کی زندگی دیدی جائے حالانکہ اتنی عمر کا دیا جانابھی اسے عذاب سے دور نہ کرسکے گا اور اللہ ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔

{اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ:  لوگوں میں سب سے زیادہ جینے کی ہوس۔} مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں سلام کے موقع پر کہتے ہیں ’’زِہ ہزار سال ‘‘ یعنی ہزار برس جیو ۔ان کے اس قول کے پیشِ نظر آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں اوریہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں جینے کی ہوس سب سے زیادہ ہے حالانکہ اتنی عمر کا دیا جانابھی اسے جہنم کے عذاب سے دور نہ کرسکے گا اور اللہ  تعالٰی ان کے تمام اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے اور ان کا کوئی حال اللہ تعالٰی سے چھپا ہوا نہیں۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۹۶، ۱ / ۷۱)

دنیوی زندگی کے حریص کون؟

            یاد رہے کہ کفار دنیاوی زندگی پر حریص ہوتے ہیں اور موت سے بہت بھاگتے ہیں جبکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اگر زندگی چاہتا ہے تو صرف اس لئے کہ زیادہ نیکیاں کرے، آخرت کا توشہ جمع کرے اور آخرت کا زادِ راہ جمع کرنے کے لئے زندگی چاہنا اچھا ہے کہ یہ زندگی کی ہوس نہیں بلکہ آخرت کی تیاری ہے۔نیز لمبی عمر اور زیادہ مال اللہ تعالٰی کے راضی ہونے کی علامت نہیں بلکہ یہ تو بعض اوقات وبال کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔حضرت ابوبکرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کی:یا رسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ،لوگوں میں سب سے بہترین کون ہے؟ ارشاد فرمایا’’جس کی عمر لمبی ہواور عمل نیک ہو۔ اس شخص نے پھر عرض کی:لوگوں میں سب سے برا کون ہے؟ ارشاد فرمایا: جس کی عمر لمبی ہواور عمل برا ہو۔ (ترمذی، کتاب الزہد عن رسول اللہ، باب منہ، ۴ / ۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۷)

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ(۹۷)

ترجمۂ  کنزالایمان:تم فرمادو جو کوئی جبریل کا دشمن ہو تو اس نے تو تمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ قرآن اتارا اگلی کتابوں کی تصدیق فرماتا اور ہدایت و بشارت مسلمانوں کو۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اے محبوب!تم فرمادو :جو کوئی جبرئیل کا دشمن ہو(توہو)پس بیشک اس نے توتمہارے دل پر اللہ کے حکم سے یہ اتارا ہے، جو اپنے سے پہلے موجود کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہے اور ایمان والوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن