دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

{وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ: اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے۔}حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانہ سے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تک متواتر انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آتے رہے، ان کی تعداد چار ہزار بیان کی گئی ہے، یہ سب حضرات حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی شریعت کے محافظ اور اس کے احکام جاری کرنے والے تھے اور چونکہ ہمارے آقا، خاتَمُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بعد نبوت کسی کو نہیں مل سکتی اس لیے شریعت ِمحمدیہ کی حفاظت و اشاعت کی خدمت علماء ربانی اور مجددین کو عطا ہوئی۔

{وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ: عیسیٰ بن مریم کو ہم نے نشانیاں دیں۔}ان نشانیوں سے مراد حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے معجزات ہیں جیسے مردوں کو زندہ کرنا، اندھوں اور برص والوں کوصحت دینا، پرندوں کی صورتوں میں جان ڈال دینا، غیب کی خبریں دینا وغیرہ جیسا کہ سورۂ  آلِ عمران آیت 49میں ہے۔

{ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ: اور پاک روح کے ذریعے اس کی مدد کی۔}روح القدس سے حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام مراد ہیں کہ وہ روحانی ہیں اور ایسی وحی لاتے ہیں جس سے دلوں کو حیات یعنی زندگی ملتی ہے۔ حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکو حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ رہنے کا حکم تھا۔ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے آسمان پر اٹھائے جانے تک حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام سفر وحضر میں کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے اور حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کی تائید حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی بہت بڑی فضیلت ہے۔ حضور سید المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے صدقہ میں آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے بعض امتیوں کو بھی روح القدس کی تائید میسر ہوئی چنانچہ بخاری ، ابوداؤد اور معجم کبیر کی حدیث ہے کہ حضرت حسان  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُکے لیے منبر بچھایا جاتا اوروہ نعت شریف پڑھتے۔حضور پر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ان کے لیے دعا فرماتے ’’اَللّٰھُمَّ اَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدُس‘‘اے اللہ!  روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما۔(بخاری، کتاب الصلاۃ، باب الشعر فی المسجد، ۱ / ۱۷۲، الحدیث: ۴۵۳، ابو داؤد، کتاب الادب، باب ماجاء فی الشعر، ۴ / ۳۹۴-۳۹۵، الحدیث: ۵۰۱۵، معجم الکبیر، ۴ / ۳۷، الحدیث: ۳۵۸۰، واللفظ للمعجم)

  غیر خدا کا مدد کرنا شرک نہیں :

              اس تفسیر سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیرِ خدا کی مدد شرک نہیں ، اللہ تعالٰی نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَامکے ذریعہ فرمائی اور جب حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَاممدد کر سکتے ہیں تو حضور پرنور  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ بھی اللہ تعالٰی کی عطا کی ہوئی طاقت و قدرت سے یقیناً مدد فرماسکتے ہیں ، حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا اپنی ظاہری حیات مبارکہ میں مدد فرمانے کا تو کثیر احادیث میں ذکر ہے، البتہ ہم یہاں 2 ایسے واقعات ذکر کرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنے وصالِ ظاہری کے بعد اپنی بارگاہ میں حاضر ہو کر فریاد کرنے والوں کی مدد فرمائی۔

(1)… مشہور محدثین امام ابو بکر بن مقری، ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی اور امام ابو شیخ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْنے مزار پر انوار پر حاضر ہو کر بھوک کی فریاد کی تو رسول کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ایک عَلوی کے ذریعے انہیں کھانا بھجوایا اور اس علوی نے کہا:آپ لوگوں نے بارگاہ رسالت میں فریاد کی تھی تو مجھے خواب میں حضور اقدس  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی زیارت ہوئی اورحضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھے حکم فرمایا کہ میں آپ لوگوں تک کھانا پہنچا دوں۔(وفاء الوفاء، الباب الثامن فی زیارۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الفصل الثالث، ۲ / ۱۳۸۰، الجزء الرابع)

(2)…ابو قاسم ثابت بن احمد بغدادی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں : میں نے تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے شہر اقدس مدینہ منورہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے روضہ انور کے قریب صبح کی اذان دی اور جب اس نے ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمْ‘‘ کہا تو یہ سن کر مسجد نبوی کے خادموں میں سے ایک خادم آیا اور اِس نے اُسے تھپڑ مار دیا۔ وہ شخص رونے لگا اور اس نے فریاد کی: یارسول اللہ !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کی موجودگی میں اس شخص نے میرے ساتھ ایسا کیا ہے۔ (اس کی فریاد جیسے ہی ختم ہوئی ) تو اس خادم پر فالج گرا اور لوگ اسے اٹھا کر اس کے گھر لے گئے، تین دن بعد وہ خادم مر گیا۔  (ابن عساکر، حرف الثاء، ذکر من اسمہ ثابت، ۱۱ / ۱۰۴)

            یاد رہے کہ علامہ نور الدین علی بن احمد سمہودی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اپنی مشہور کتاب ’’وَفَاء الْوَفَاء بِاَخْبَارِ دَارِ الْمُصْطَفٰی‘‘ کے چوتھے حصے میں صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا ور اولیاء عظام رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْکے ایسے کئی واقعات  بیان فرمائے ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ انہوں نے سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے روضہ انور پر حاضر ہو کر اپنی حاجت بیان کی اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی مدد کرتے ہوئے ان کی حاجت پوری فرما دی اور امام محمد بن موسیٰ بن نعمان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے تو اس موضوع پر ’’مِصْبَاحُ الظَّلَامْ فِی الْمُسْتَغِیْثِیْنَ بِخَیْرِ الْاَنَامْ‘‘ کے نام سے باقاعدہ ایک کتاب بھی لکھی ہے۔

{لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ:  تمہارے دل پسند نہیں کرتے۔ }یہودی لوگ، پیغمبروں کے احکام اپنی خواہشوں کے خلاف پا کر انہیں جھٹلاتے اور موقع پاتے توان انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو قتل کر ڈالتے تھے جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، حضرت یحیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اوران کے علاوہ بہت سے انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا، حتّٰی کہ ہمارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے بھی دَرپے رہے، کبھی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر جادو  کیا، کبھی زہر دیا اور ان کے علاوہ آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو شہید کرنے کیلئے طرح طرح کے فریب کرتے رہے۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہواکہ احکامِ الہٰی پر اپنی خواہشات کو ترجیح دینا یہودیوں جبکہ حکمِ الہٰی کے سامنے اپنے نفس کو کچل دینا کامل الایمان لوگوں کی نشانی ہے۔

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌؕ-بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ(۸۸)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور یہودی بولے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہیں بلکہ اللہ نے ان پر لعنت کی ان کے کفر کے سبب تو ان میں تھوڑے ایمان لاتے ہیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور یہودیوں نے کہا: ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی ہے تو ان میں سے تھوڑے لوگ ہی ایمان لاتے ہیں۔

{ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ: ہمارے دلوں پر پردے ہیں۔} یہودیوں نے مذاق اڑانے کے طور پر کہا تھا کہ ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کی مراد یہ تھی کہ حضور اقدس  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی ہدایت ان کے دلوں تک نہیں پہنچتی۔ اللہ تعالٰی نے اس کا رد فرمایا کہ یہ جھوٹے ہیں ، اللہ تعالٰی نے دلوں کوفطرت پر پیدا فرمایااور ان میں حق قبول کرنے کی صلاحیت رکھی ہے۔ یہودیوں کا ایمان نہ لانا ان کے کفر کی شامت ہے کہ انہوں نے سید المُرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت پہچان لینے کے بعد انکار کیا تواللہ تعالٰی نے ان پر لعنت فرمائی ،اس کا یہ اثر ہے کہ وہ قبولِ حق

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن