30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حقوقِ والدین کی تفصیل جاننے کیلئے فتاویٰ رضویہ کی 24 ویں جلد میں موجود اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ کا رسالہ ’’اَلْحُقُوقْ لِطَرْحِ الْعُقُوقْ(والدین، زوجین اور اساتذہ کے حقوق)‘‘ کامطالعہ فرمائیں۔ ([1])
{وَ ذِی الْقُرْبٰى: اور رشتے داروں سے۔}حقوق العباد میں سب سے مقدم ماں باپ کا حق ہے پھر دوسرے رشتے داروں کا اورپھر غیروں کا۔ غیروں میں بے کس یتیم سب سے مقدم ہے پھر دوسرے مساکین۔
اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت:
اس آیت میں والدین اور دیگر لوگوں کے حقوق بیان کرنے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دینِ اسلام میں حقوق العباد کی بہت زیادہ اہمیت ہے، بلکہ احادیث میں یہاں تک ہے کہ حقوقُ اللہ پورا کرنے کے باوجود بہت سے لوگ حقوق العباد میں کمی کی وجہ سے جہنم کے مستحق ہوں گے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے، حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا تم جانتے ہو کہ مُفلِس کون ہے؟صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی:ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور سازو سامان نہ ہو۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ (وغیرہ اعمال) لے کر آئے اور اس کا حال یہ ہو کہ اس نے(دنیا میں ) کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا مال کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا اور کسی کو مارا تھا تو اِن میں سے ہر ایک کو ا ُس کی نیکیاں دے دی جائیں گی اور اُن کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اگر اس کی نیکیاں (اس کے پاس سے) ختم ہوگئیں تو اُن کے گناہ اِس پر ڈال دئیے جائیں گے،پھر اسے جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔([2]) (مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۵۹ (۲۵۸۱((
{وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا: اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔} اچھی بات سے مراد نیکی کی دعوت اور برائیوں سے روکنا ہے۔ نیکی کی دعوت میں اس کے تمام طریقے داخل ہیں ، جیسے بیان کرنا، درس دینا، وعظ و نصیحت کرناوغیرہ ۔ نیز اچھی بات کہنے میں اللہ تعالٰی کی عظمت، حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی شان، اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے مقام ومرتبہ کا بیان اور نیکیوں اور برائیوں کے متعلق سمجھاناسب شامل ہیں۔([3])
{اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ: مگر تم میں سے تھوڑے۔}بنی اسرائیل کی اکثریت اللہ تعالٰی سے عہدو پیمان کرنے کے بعد اپنے عہد سے پھر گئی اور گناہوں کے راستے پر چل پڑی، البتہ کچھ لوگ صحیح راستے پر ثابت قدم رہے اور اسی گروہ والے ہمارے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کا زمانہ پا کر ایمان لے آئے۔
بنی اسرائیل کی بد عہدی کو سامنے رکھ کرمسلمان بھی اپنی حالت پر غور کریں :
اس آیت میں بنی اسرائیل کی جو حالت بیان کی گئی افسوس کہ فی زمانہ مسلمانوں کی حالت بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔ کاش کہ ہم بھی غور کریں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے کلمہ پڑھ کر ہم نے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اطاعت ِ الہٰی، اطاعت ِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، حقوقُ اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی پابندی کا جو عہد اللہ تعالٰی کے ساتھ کیا ہوا ہے کیا ہم بھی اسے پورا کرتے ہیں یا نہیں ؟
وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(۸۴)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ اپنوں کا خون نہ کرنا اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اس کا اقرار کیا اور تم گواہ ہو۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا کہ آپس میں کسی کا خون نہ بہانا اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا پھر تم نے اقرار بھی کرلیا اور تم (خوداس کے) گواہ ہو۔
{وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ:اور یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا۔} یعنی اے یہودیو! وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تمہارے آباؤ اجداد سے تورات میں یہ عہد لیا کہ تم آپس میں کسی کا خون نہ بہانا اور اپنے لوگوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالنا ،پھر انہوں نے اس عہدکا اقرار کرلیا اور تم خود بھی اپنے آباؤاجداد کے اس اقرارکے گواہ ہو۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۸۴، ۱ / ۱۷۴)
ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ٘-تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِؕ-وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْؕ-اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍۚ-فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۸۵) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ٘-فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠(۸۶)
ترجمۂ کنزالایمان:پھر یہ جو تم ہواپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہوان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں اور اگر وہ قیدی ہو کر تمہارے پاس آئیں تو بدلا دے کر چھڑا لیتے ہواور ان کا نکالنا تم پر حرام ہے تو کیا خدا کے کچھ حکموں پر ایمان لاتے اور کچھ سے انکار کرتے ہو تو جو تم میں ایسا کرے اس کا بدلہ کیا ہے مگر یہ کہ دنیا میں رسوا ہواور قیامت میں سخت تر عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی مول لی تو نہ ان پر سے عذاب ہلکا اور نہ ان کی مدد کی جائے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:پھر یہ تم ہی ہو جو اپنے لوگوں کو قتل (بھی) کرنے لگے اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے وطن سے (بھی) نکالنے لگے، تم ان کے خلاف گناہ اور زیادتی کے کاموں میں مدد (بھی)
[1] ۔۔۔ نیز امیرِ اہلِسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ،، سمندری گنبد،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) پڑھنا بھی بہت مفید ہے۔
[2] ۔۔۔ امیرِ اہلِسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم الْعَالیہ کا اس موضوع پر رسالہ،، ظلم کا انجام،، (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
[3] ۔۔۔ نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے ،، دعوتِ اسلامی،، کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہونے میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع