30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{فَقُلْنَا: تو ہم نے فرمایا۔ } بنی اسرائیل نے گائے ذبح کرکے اس کے کسی عضو سے مردہ کو مارا وہ بحکمِ الہٰی زندہ ہوگیا، اس کے حلق سے خون کا فوارہ جاری تھا، اس نے اپنے چچازاد بھائی کے بارے میں بتایا کہ اس نے مجھے قتل کیا اب اس کو بھی اقرار کرنا پڑا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس پر قصاص کا حکم فرمایا۔ اس آیت ِ مبارکہ میں اللہ تعالٰی نے مردے کو زندہ کرنے کے اس واقعے سے قیامت کے دن اٹھائے جانے پر دلیل قائم کی کہ تم سمجھ لو کہ جیسے اللہ تعالٰی نے اس مردے کو زندہ کیا اسی طرح وہ قیامت کے دن بھی مردوں کو زندہ فرمائے گا کیونکہ وہ مردے زندہ کرنے پر قادر ہے اور روز ِجزا مردوں کو زندہ کرنا اور حساب لینا حق ہے۔
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةًؕ-وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُ جُ مِنْهُ الْمَآءُؕ-وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(۷۴)
ترجمۂ کنزالایمان:پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کَرّے اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں جو پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے کوتکوں سے بے خبر نہیں۔
ترجمۂ کنزالعرفان:پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے تو وہ پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور پتھروں میں تو کچھ وہ ہیں جن سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ وہ ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں اور اللہ تمہارے اعمال سے ہرگز بے خبر نہیں۔
{ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ: پھر تمہارے دل سخت ہوگئے۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے میں موجود یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اپنے آباؤ اجداد کے عبرت انگیز واقعات سننے کے بعد تمہارے دل حق بات کو قبول کرنے کے معاملے میں سخت ہوگئے اور وہ شدت و سختی میں پتھروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ کچھ پتھروں سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ جب پھٹ جاتے ہیں تو ان سے پانی نکلتا ہے اور کچھ وہ ہیں جو اللہ تعالٰی کے ڈر سے اوپر سے نیچے گر پڑتے ہیں جبکہ تمہارے دل اطاعت کے لئے جھکتے ہیں نہ نرم ہوتے ہیں ، نہ اللہ تعالٰی سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی وہ کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی تمہارے اعمال سے ہرگز بے خبر نہیں بلکہ وہ تمہیں ایک خاص وقت تک کے لئے مہلت دے رہا ہے۔(روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۴، ۱ / ۱۶۳-۱۶۴، جلالین، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۱۲، ملتقطاً)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں بنی اسرائیل کے وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے زمانے میں موجود تھے، ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ بڑی بڑی نشانیاں اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے معجزات دیکھ کر بھی انہوں نے عبرت حاصل نہ کی، ان کے دل پتھروں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت کیونکہ پتھر بھی اثر قبول کرتے ہیں کہ ان میں کسی سے ندیاں بہہ نکلتی ہیں ، کوئی پتھرپھٹ جاتا ہے تو اس سے پانی بہتا ہے اور کوئی خوف ِ الہٰی سے گرجاتا ہے جیسے اللہ تعالٰی کو منظور ہوتا ہے لیکن انسان جسے بے پناہ اِدراک و شعور دیا گیا ہے، حواس قوی ہیں ، عقل کامل ہے، دلائل ظاہر ہیں ، عبرت و نصیحت کے مواقع موجود ہیں لیکن پھر بھی اللہ تعالٰی کی اطاعت و بندگی کی طرف نہیں آتا۔
اس سے معلوم ہواکہ دل کی سختی بہت خطرناک ہے۔اللہ تعالٰی ارشاد فرماتاہے:
’’اَفَمَنْ شَرَحَ اللّٰهُ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ فَهُوَ عَلٰى نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-فَوَیْلٌ لِّلْقٰسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ مِّنْ ذِكْرِ اللّٰهِؕ-اُولٰٓىٕكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘‘(زمر: ۲۲)
ترجمۂ کنزالعرفان: تو کیا وہ جس کاسینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے (اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے) تو خرابی ہے ان کیلئے جن کے دل اللہ کے ذکر کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں۔وہ کھلی گمراہی میں ہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا:’’اللہ تعالٰی کے ذکر کے علاوہ زیادہ کلام نہ کیا کرو کیونکہ اللہ تعالٰی کے ذکر کے علاوہ کلام کی کثرت دل کو سخت کر دیتی ہے اور لوگوں میں اللہ تعالٰی سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہو۔(ترمذی، کتاب الزہد، ۶۲-باب منہ، ۴ / ۱۸۴، الحدیث: ۲۴۱۹)
دل کی سختی سے متعلق مزید کلام سورۂ حدید کی آیت نمبر16،17کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(۷۵)
ترجمۂ کنزالایمان:تو اے مسلمانو کیا تمہیں یہ طمع ہے کہ یہ یہودی تمہارا یقین لائیں گے اور ان میں کا تو ایک گروہ وہ تھا کہ اللہ کا کلام سنتے پھر سمجھنے کے بعد اسے دانستہ بدل دیتے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:تو اے مسلمانو!کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ تمہاری وجہ سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ تھا کہ وہ اللہ کا کلام سنتے تھے اور پھراسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے۔
{اَفَتَطْمَعُوْنَ: کیا تمہیں یہ امید ہے۔} انصار صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو اس بات کی بہت حرص تھی کہ یہودی اسلام قبول کر لیں کیونکہ وہ یہودیوں کے حلیف تھے اور ان کے پڑوسی بھی تھے، اس پر اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا کہ اے مسلمانو! کیا تم یہ امید رکھتے ہو کہ یہ یہودی تمہارا یقین کریں گے یا تمہاری تبلیغ کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے حالانکہ ان میں ایک گروہ وہ تھا جوصرف علماء پر مشتمل تھا، وہ اللہ تعالٰی کا کلام یعنی تورات سنتے تھے اور پھر اسے سمجھ لینے کے بعد جان بوجھ کر بدل دیتے تھے، اسی طرح ان یہودیوں نے بھی تورات میں تحریف کی اور رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت بدل ڈالی، توایسے لوگ کہاں ایمان لائیں گے؟ لہٰذا تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ (قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱ / ۳-۴، الجزء الثانی، بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۵، ۱ / ۳۴۷-۳۴۸، ملتقطاً)
عالم کابگڑنا زیادہ تباہ کن ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع