دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

             ان کے اطراف میں ایسی صرف ایک گائے تھی، اس کا حال یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک صالح شخص تھے ان کا ایک چھوٹا بچہ تھا اور ان کے پاس ایک گائے کے بچے کے علاوہ اور کچھ نہ رہا تھا، انہوں نے اس کی گردن پر مہر لگا کر اللہ تعالٰی کے نام پر چھوڑ دیا اور بارگاہِ حق میں عرض کی: یارب! عَزَّوَجَلَّ میں اس بچھیا کو اس فرزند کے لیے تیرے پاس ودیعت رکھتا ہوں تاکہ جب یہ فرزند بڑا ہو تویہ اس کے کام آئے۔ اس نیک شخص کا تو انتقال ہوگیا لیکن وہ بچھیا جنگل میں اللہ تعالٰی کی حفا ظت میں پرورش پاتی رہی، یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو صالح ومتقی بنا اور ماں کا فرمانبردار تھا۔ ایک دن اس کی والدہ نے کہا: اے نورِ نظر! تیرے باپ نے تیرے لئے فلاں جنگل میں خدا کے نام ایک بچھیا چھوڑی تھی وہ اب جوان ہوگئی ہوگی، اللہ تعالٰی سے دعا کرو کہ وہ تجھے عطا فرمائے اورتو اسے جنگل سے لے آ۔ لڑکا جنگل میں گیا اور اس نے گائے کو جنگل میں دیکھا اوروالدہ کی بتائی ہوئی علامتیں اس میں پائیں اور اس کو اللہ تعالٰی کی قسم دے کر بلایا تووہ حاضر ہوگئی۔ وہ جوان اس گائے کو والدہ کی خدمت میں لایا۔ والدہ نے بازار میں لے جا کر تین دینار پر فروخت کرنےکا حکم دیا اور یہ شرط کی کہ سودا ہونے پر پھر اس کی اجازت حاصل کی جائے، اس زمانہ میں گائے کی قیمت ان اطراف میں تین دینار ہی تھی۔ جوان جب اس گائے کو بازار میں لایا تو ایک فرشتہ خریدار کی صورت میں آیا اور اس نے گائے کی قیمت چھ دینار لگادی مگر یہ شرط رکھی کہ جوان اپنی والدہ سے اجازت نہیں لے گا۔ جوان نے یہ منظور نہ کیا اور والدہ سے تمام قصہ کہا، اس کی والدہ نے چھ دینار قیمت منظور کرنے کی تو اجازت دی مگر بیچنے میں پھر دوبارہ اپنی مرضی دریافت کرنے کی شرط لگادی۔ جوان پھر بازار میں آیا، اس مرتبہ فرشتہ نے بارہ دینار قیمت لگائی اور کہا کہ والدہ کی اجازت پر موقوف نہ رکھو۔ جو ان نے نہ مانا اور والدہ کو اطلاع دی وہ صاحب فراست عورت سمجھ گئی کہ یہ خریدار نہیں کوئی فرشتہ ہے جو آزمائش کے لیے آتا ہے۔ بیٹے سے کہا کہ اب کی مرتبہ اس خریدار سے یہ کہنا کہ آپ ہمیں اس گائے کے فروخت کرنے کا حکم دیتے ہیں یا نہیں ؟ لڑکے نے یہی کہا توفرشتے نے جواب دیا کہ ابھی اس کو روکے رہو، جب بنی اسرائیل خریدنے آئیں تو اس کی قیمت یہ مقرر کرنا کہ اس کی کھال میں سونا بھر دیا جائے۔ جوان گائے کو گھر لایا اور جب بنی اسرائیل جستجو کرتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچے تو یہی قیمت طے کی اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ضمانت پر وہ گائے بنی اسرائیل کے سپرد کی۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۷، ۱ / ۶۰-۶۱)

گائے ذبح کرنے والے واقعہ سے معلوم ہونے والے مسائل:

            اس واقعہ سے کئی چیزیں معلوم ہوئیں :

(1)… نبی کے فرمان پر بغیر ہچکچاہٹ عمل کرنا چاہیے اور عمل کرنے کی بجائے عقلی ڈھکوسلے بنانا بے ادبوں کا کام ہے۔

(2)… پیغمبر جھوٹ، دل لگی اورکسی کا مذاق اڑانا وغیرہ عیبوں سے پاک ہیں البتہ خوش طبعی ایک محمود صفت ہے یہ ان  میں پائی جاسکتی ہے۔

(3)… شرعی احکامات سے متعلق بے جا بحث مشقت کاسبب ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر بنی اسرائیل بحث نہ نکالتے تو جو گائے ذبح کردیتے وہی کافی ہوجاتی۔  (در منثور، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۷۰، ۱ / ۱۸۹)

(4)…اِنْ شَآءَ اللہ  کہنے کی بہت برکت ہے۔ حضورپرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا: اگر بنی اسرائیل وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ نہ کہتے تو کبھی وہ گائے نہ پاتے۔  (کشف الخفاء، حرف الشین المعجمۃ، ۲ / ۷، رقم: ۱۵۲۸)

(5)… جو اپنے عیال کو اللہ تعالٰی کے سپرد کرے اللہ تعالٰی اس کی عمدہ پرورش فرماتا ہے۔

(6)… جو اپنا مال اللہ تعالٰی کے بھروسہ پر اس کی امانت میں دے اللہ تعالٰی اس میں برکت دیتا ہے۔

(7)… والدین کی فرمانبرداری اللہ تعالٰی کو پسند ہے۔

(8)… ماں باپ کی خدمت و اطاعت کرنے والوں کو دونوں جہانوں میں ملتا ہے۔ 

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَۚ-مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَاؕ-قَالُوا الْـٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّؕ-فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠(۷۱)

ترجمۂ  کنزالایمان:کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں بولے اب آپ ٹھیک بات لائے تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:۔(موسٰی نے) فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جس سے یہ خدمت نہیں لی جاتی کہ وہ زمین میں ہل چلائے اور نہ وہ کھیتی کو پانی دیتی ہے۔ بالکل بے عیب ہے، اس میں کوئی داغ نہیں۔ (یہ سن کر) انہوں نے کہا: اب آپ بالکل صحیح بات لائے ہیں۔ پھر انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا حالانکہ وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔

{وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ: اور وہ ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔} بنی اسرائیل کے مسلسل سوالات اور اپنی رسوائی کے اندیشہ اور گائے کی گرانی قیمت سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ذبح کرنے کا قصد نہیں رکھتے مگر جب ان کے سوالات شافی جوابوں سے ختم کردیئے گئے تو انہیں ذبح کرنا ہی پڑا۔

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَاؕ-وَ اللّٰهُ مُخْرِ جٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ(۷۲)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے اور اللہ کو ظاہر کرناجو تم چھپاتے تھے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور یاد کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا پھر اس کا الزام کسی دوسرے پر ڈالنے لگے حالانکہ اللہ  ظاہر کرنے والا تھااس کو جسے تم چھپا رہے تھے۔

{وَ اِذْ قَتَلْتُمْ: اورجب تم نے قتل کیا۔} یہاں اسی پہلے قتل کا بیان ہے جس کا اوپر واقعہ گزرا۔

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَاؕ-كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰىۙ-وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ(۷۳)

ترجمۂ  کنزالایمان:تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو اللہ یونہی مردے جلائے گا اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:تو ہم نے فرمایا (کہ) اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو۔ اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ کرے گا۔ اور وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن