30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یقیناً تمہیں معلوم ہیں وہ لوگ جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں سرکشی کی۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔
{اَلَّذِیْنَ اعْتَدَوْا:جنہوں نے سرکشی کی۔} شہر اَیْلَہ میں بنی اسرائیل آباد تھے انہیں حکم تھا کہ ہفتے کا دن عبادت کے لیے خاص کردیں اوراس روز شکار نہ کریں اور دنیاوی مشاغل ترک کردیں۔ ان کے ایک گروہ نے یہ چال چلی کہ وہ جمعہ کے دن شام کے وقت دریا کے کنارے کنارے بہت سے گڑھے کھودتے اور ہفتہ کے دن ان گڑھوں تک نالیاں بناتے جن کے ذریعہ پانی کے ساتھ آکر مچھلیاں گڑھوں میں قید ہوجاتیں اور اتوار کے دن انہیں نکالتے اور کہتے کہ ہم مچھلی کو پانی سے ہفتے کے دن تو نہیں نکالتے، یہ کہہ کر وہ اپنے دل کو تسلی دے لیتے۔ چالیس یاستر سال تک ان کا یہی عمل رہا اور جب حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نبوت کازمانہ آیا توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں اس سے منع کیااور فرمایا کہ قید کرنا ہی شکار ہے جو تم ہفتے ہی کو کر رہے ہو۔ جب وہ باز نہ آئے تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان پر لعنت فرمائی اور اللہ تعالٰی نے انہیں بندروں کی شکل میں مسخ کردیا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ نوجوان بندروں کی شکل میں اور بوڑھے خنزیروں کی شکل میں مسخ ہوگئے، ان کی عقل اور حواس تو باقی رہے مگر قوت گویائی زائل ہوگئی اور بدنوں سے بدبو نکلنے لگی، وہ اپنے اس حال پر روتے رہے یہاں تک کہ تین دن میں سب ہلاک ہوگئے، ان کی نسل باقی نہ رہی اور یہ لوگ ستر ہزار کے قریب تھے۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۶۵، ۱ / ۱۵۶-۱۵۷، تفسیر عزیزی (مترجم)، ۲ / ۴۹۲-۴۹۴، ملتقطاً)
اس واقعہ کی مزید تفصیل سورۂ اعراف کی آیت 163تا 166 میں آئے گی۔
یاد رہے کہ حکم ِشرعی کو باطل کرنے کیلئے حیلہ کرنا حرام ہے جیسا کہ یہاں مذکور ہوا اور حکمِ شرعی کو کسی دوسرے شرعی طریقے سے حاصل کرنے کیلئے حیلہ کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن پاک میں حضرت ایوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا اس طرح کا عمل سورۂ ص آیت44میں مذکور ہے۔
فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ(۶۶)
ترجمۂ کنزالایمان:تو ہم نے (اس بستی کا)یہ واقعہ اس کے آگے اور پیچھے والوں کے لئے عبرت کردیا اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔
ترجمۂ کنزالعرفان:تو ہم نے یہ واقعہ اس وقت کے لوگوں اور ان کے بعد والوں کے لیے عبرت اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحت بنادیا۔
{نَكَالًا: عبرت۔ }اس سے معلوم ہوا کہ قرآن پاک میں عذاب کے واقعات ہماری عبرت و نصیحت کیلئے بیان کئے گئے ہیں لہٰذا قرآن پاک کے حقوق میں سے ہے کہ اس طرح کے واقعات و آیات پڑھ کر اپنی اصلاح کی طرف بھی توجہ کی جائے۔
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًاؕ-قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ(۶۷)قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ؕ-قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌؕ-عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَؕ-فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ(۶۸)قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَاؕ-قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُۙ-فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ(۶۹)قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَۙ-اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَاؕ-وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ(۷۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب موسٰی نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں۔بولے اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَوْسَربلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے۔ بولے اپنے رب سے دعاء کیجئے ہمیں بتادے اس کا رنگ کیا ہے کہا وہ فرماتا ہے وہ ایک پیلی گائے ہے جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی۔بولے اپنے رب سے دعاکیجئے کہ ہمارے لئے صاف بیان کرے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اوریاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو انہوں نے کہا کہ کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ موسیٰ نے فرمایا، ’’میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ انہوں نے کہا کہ آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہے جو نہ توبوڑھی ہے اور نہ بالکل کم عمربلکہ ان دونوں کے درمیان درمیان ہو۔ تو وہ کرو جس کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے، اس گائے کا رنگ کیا ہے؟ فرمایاکہ اللہ فرماتا ہے کہ وہ پیلے رنگ کی گائے ہے جس کا رنگ بہت گہرا ہے۔ وہ گائے دیکھنے والوں کو خوشی دیتی ہے۔ انہوں نے کہا: آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے واضح طور پر بیان کردے کہ وہ گائے کیسی ہے؟ کیونکہ بیشک گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور اگراللہ چاہے گا تو یقیناً ہم راہ پالیں گے۔
{وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب موسیٰ نے فرمایا۔}ان آیات میں یہودیوں کو جو واقعہ یاد دلایا جا رہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص عامیل کو اس کے عزیز نے خفیہ طور پر قتل کر کے دوسرے محلہ میں ڈال دیا تا کہ اس کی میراث بھی لے اور خون بہا بھی اور پھر دعویٰ کر دیا کہ مجھے خون بہا دلوایا جائے۔ قاتل کا پتہ نہ چلتا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے درخواست کی کہ آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالٰی حقیقت حال ظاہر فرمائے، اس پر حکم ہوا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کا کوئی حصہ مقتول کے ماریں ، وہ زندہ ہو کر قاتل کے بارے میں بتادے گا۔ لوگوں نے حیرانی سے کہا کہ کیا آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہم سے مذاق کررہے ہیں کیونکہ مقتول کا حال معلوم ہونے اور گائے کے ذبح کرنے میں کوئی مناسبت معلوم نہیں ہوتی۔ اس پر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے جواب دیا، ’’میں اس بات سے اللہ تعالٰی کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں مذاق کر کے جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔ جب بنی اسرائیل نے سمجھ لیا کہ گائے کا ذبح کرنا مذاق نہیں بلکہ باقاعدہ حکم ہے تو انہوں نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے اس کے اوصاف دریافت کیے اور بار بار سوال کرکے وہ لوگ قیدیں بڑھاتے گئے اور بالآخر یہ حکم ہوا کہ ایسی گائے ذبح کرو جو نہ بوڑھی ہواور نہ بہت کم عمر بلکہ درمیانی عمر کی ہو، بدن پر کوئی داغ نہ ہو، ایک ہی رنگ کی ہو، رنگ آنکھوں کو بھانے والا ہو، اس گائے نے کبھی کھیتی باڑی کی ہو نہ کبھی کھیتی کو پانی دیا ہو۔ آخری سوال میں انہوں نے کہا کہ اب ہم ان شآء اللہ راہ پالیں گے۔ بہر حال جب سب کچھ طے ہوگیا تو ان کی تسلی ہوگئی پھر انہوں نے گائے کی تلاش شروع کر دی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع