دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’کیا بات ہے؟صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے عرض کی : یارسول اللہ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہمارے پاس پانی نہیں ہے جس سے ہم وضو کریں اور اسے پی سکیں ،صرف وہی پانی ہے جو آپ کے سامنے موجود ہے۔حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اپنا دست مبارک اس تھیلے میں رکھ دیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک انگلیوں سے پانی چشموں کی طرح جوش مارنے لگا،پھر ہم نے پانی پیا اور وضو بھی کیا۔ حضرت سالم بن ابی جعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے پوچھا:آپ اس وقت کل کتنے آدمی تھے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کفایت کر جاتا لیکن ہم اس وقت صرف 1500 تھے۔(بخاری،کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲ / ۴۹۳-۴۹۴، الحدیث: ۳۵۷۶)

            انسانوں کے علاوہ حیوانات نے بھی اپنی تکالیف عرض کیں تو حضور پر نورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی تکالیف دور فرمائیں اور جمادات نے بھی اپنی مرادیں عرض کیں توسرکار دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کی مرادیں بھی پوری فرمائیں جیساکہ احادیث اور سیرت کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے ۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :

یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد، ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی دادہاں اِسی در پر شترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں

 { كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا:کھاؤ اور پیو۔} حضرت  موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم سے فرمایا گیا کہ آسمانی طعام مَن و سَلْوٰی کھاؤ اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الہٰی سے بغیر محنت کے میسر ہے اوراس بات کا خیال رکھو کہ فتنہ و فساد سے بچو اور گناہوں میں نہ پڑو۔ ہر امت کو یہی حکم تھا کہ اللہ  تعالٰی کا رزق کھاؤ لیکن فساد نہ پھیلاؤ۔ یعنی رزق کے استعمال سے منع نہیں فرمایا بلکہ حرام کمانے، حرام کھانے، کھاکر خدا کی ناشکری و نافرمانی سے منع کیا گیا ہے۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِ جْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآىٕهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَاؕ-قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌؕ-اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّاساَلْتُمْؕ-وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ  ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠(۶۱)

 ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب تم نے کہا اے  موسٰی ہم سے تو ایک کھانے پر ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعاء کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لئے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایاکیا ادنیٰ چیزکو بہتر کے بدلے مانگتے ہواچھا مصر یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری اور خدا کے غضب میں لوٹے یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور جب تم نے کہا :اے موسیٰ! ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے۔ لہٰذا آپ اپنے رب سے دعاکیجئے کہ ہمارے لئے وہ چیزیں نکالے جو زمین اگاتی ہے جیسے ساگ اور ککڑی اور گندم اور مسور کی دال اور پیاز۔ فرمایا: کیا تم بہتر چیز کے بدلے میں گھٹیا چیزیں مانگتے ہو۔ (اچھا پھر ) ملک ِمصریا کسی شہر میں قیام کرو، وہاں تمہیں وہ سب کچھ  ملے گا جو تم نے مانگا ہے اور ان پر ذلت اور غربت مسلط کردی گئی اوروہ خدا کے غضب کے مستحق ہوگئے۔ یہ ذلت و غربت اس وجہ سے تھی کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے تھے۔ (اور)یہ اس وجہ سے تھی کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ مسلسل سرکشی کررہے تھے۔

{لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ:ہم ایک کھانے پر ہرگز صبر نہیں کریں گے۔} بعض لوگوں کی طبیعت میں کم ہمتی، نالائقی اور نیچ پن ہوتا ہے ۔ آپ انہیں پکڑ کر بھی اوپر کرنا چاہیں تو وہ کم تر اور نیچے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ عموما زندگی کی لذتوں اور نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ بلند ہمت اور بہتر سے بہتر کے طالب ہی خالق و مخلوق کے ہاں پسندیدہ ہوتے ہیں۔بنی اسرائیل پر نعمتوں کے ذکر کے بعد یہاں سے ان کی کم ہمتی اور نالائقی ونافرمانی کے کچھ واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے: بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے، آپ دعا کریں کہ ہمیں زمین کی ترکاریاں اور دالیں وغیرہ ملیں۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں سمجھایا کہ تمہیں اتنا اچھا کھانا بغیر محنت کے مل رہا ہے ، کیا اس کی جگہ ادنیٰ قسم کا کھانا لینا چاہتے ہو؟ لیکن جب وہ نہ مانے تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بارگاہِ الہٰی میں دعا کی۔ اِس پر حکم ہوا کہ اے بنی اسرائیل!اگر تمہارایہی مطالبہ ہے تو پھر مصرجاؤ وہاں تمہیں وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم مطالبہ کررہے ہو۔ مصر سے مراد یا توملک ِمصر یا مطلقا کوئی بھی شہرہے۔

بڑوں سے نسبت رکھنے والے کو کیا کرنا چاہئے:

             یہاں اس بات کا خیال رکھیں کہ ساگ ککڑی وغیرہ جو چیزیں بنی اسرائیل نے مانگیں ان کا مطالبہ گناہ نہ تھا لیکن ’’ مَن وسلوٰی‘‘ جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کا میلانِ طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامایسے جلیل القدر، بلند ہمت انبیاء کے بعد توبنی اسرائیل کے نیچ پن اور کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا۔ جب بڑوں سے نسبت ہو تو دل و دماغ اور سوچ بھی بڑی بنانی چاہئے اور مسلمانوں کو تو بنی اسرائیل سے زیادہ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ  ان کی نسبت سب سے بڑی ہے۔

{وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ:ان پر ذلت و غربت مسلط کردی گئی۔} یعنی یہودیوں پر ان کے گھٹیا کردار کی وجہ سے ذلت و غربت مسلط کردی گئی۔ ان پر غضب ِ الہٰی کی صورت یہ ہوئی کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور صلحاء کی بدولت جورتبے انہیں حاصل ہوئے تھے وہ ان سے محروم ہوگئے، اس غضب کا باعث صرف یہی نہیں تھا کہ انہوں نے آسمانی غذاؤں کے بدلے زمینی پیداوار کی خواہش کی یا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں اُسی طرح کی اور خطائیں کیں بلکہ عہدِ نبوت سے دور ہونے اور زمانہ دراز گزرنے سے ان کی دینی صلاحیتیں باطل ہوگئیں ، اللہ تعالٰی کی آیتوں کے ساتھ کفر کا راستہ اختیار کیا، انہوں نے حضرت زکریا، حضرت یحیٰ اور حضرت شعیاعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو شہید کیا اور ایسا ناحق قتل کیا کہ اس کی وجہ خود یہ قاتل بھی نہیں بتاسکتے، انہوں نے نافرمانی اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا۔ الغرض ان کے عظیم جرائم اور قبیح ترین افعال کی وجہ سے ان پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہوئی، ان پر ذلت و غربت مسلط کی گئی اور وہ غضب ِ الہٰی کے مستحق ہوئے۔

بنی اسرائیل کی ذلت و غربت سے مسلمان بھی نصیحت حاصل کریں :

            بنی اسرائیل بلند مراتب پر فائز ہونے کے بعد جن وجوہات کی بنا پر ذلت و غربت کی گہری کھائی میں گرے، کاش ان وجوہات کو سامنے رکھتے ہوئے عبرت اور نصیحت کے لئے ایک مرتبہ مسلمان بھی اپنے اعمال و افعال کا جائزہ لے لیں اور اپنے ماضی و حال کا مشاہدہ کریں کہ جب تک مسلمانوں نے اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے احکامات کی پیروی کو

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن