30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے70,000افراد ہلاک ہو گئے تھے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۹،۱ / ۵۶)
یہاں طاعون کا ذکر ہوا،اس مناسبت سے طاعون سے متعلق 3احادیث ملاحظہ ہوں :
(1)…حضرت اسامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا:’’بے شک یہ طاعون ایک عذاب ہے جسے تم سے پہلے لوگوں پر مسلط کیا گیا تھا لہٰذا جب کسی جگہ طاعون ہو(اور تم وہاں موجود ہو) تو تم طاعون سے بھاگ کر وہاں سے نہ نکلو اور جب کسی جگہ طاعون ہو تو تم وہاں نہ جاؤ۔(مسلم، کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوہا، ص۱۲۱۶، الحدیث: ۹۴-۹۵(۲۲۱۸))
(2)…ایک اور روایت میں ہے ،نبیٔ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا’’طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کابقیہ ہے جب تمہارے شہر میں طاعون واقع ہو تو وہاں سے نہ بھاگو اوردوسرے شہر میں واقع ہو تو وہاں نہ جاؤ ۔(مسلم، کتاب السلام، باب الطاعون والطیرۃ والکھانۃ ونحوہا، ص۱۲۱۷، الحدیث: ۹۷(۲۲۱۸))
(3)…ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں :میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے طاعون کے بارے میں عرض کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ طاعون ایک عذاب ہے ،اللہ تعالٰی جس پر چاہتا ہے یہ عذاب بھیج دیتا ہے اور اللہ تعالٰی نے اسے اہل ایمان کے لئے رحمت بنایا ہے،کوئی مومن ایسا نہیں جو طاعون میں پھنس جائے لیکن اپنے شہر ہی میں صبر سے ٹھہرا رہے اور یہ سمجھے کہ جو اللہ تعالٰی نے لکھ دی ہے اس کے سوا کوئی تکلیف مجھے نہیں پہنچ سکتی ،تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ (بخاری، کتاب احادیث الانبیاء،۵۶ باب،۲ / ۴۶۸، الحدیث: ۳۴۷۴)
وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَؕ-فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًاؕ-قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْؕ-كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور جب موسٰی نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہ نکلے ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیو خدا کا دیا اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو ۔
ترجمۂ کنزالعرفان:اور یاد کرو،جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے فرمایا کہ پتھر پر اپنا عصا مارو ، تو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے (اور)ہر گروہ نے اپنے پانی پینے کی جگہ کو پہچان لیا (اور ہم نے فرمایاکہ)اللہ کا رزق کھاؤ اور پیواور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔
{وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ:اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا ۔}جب میدانِ تِیَہ میں بنی اسرائیل نے پانی نہ پایا تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی خدمت میں فریاد کی ۔ حضرت موسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو اللہ تعالٰی کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو،چنانچہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے عصا مارا تو اس پتھر سے پانی کے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور بنی اسرائیل کے بارہ گروہوں نے اپنے اپنے گھاٹ کو پہچان لیا۔
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر:
یہاں ایک نکتہ قابل ذکر ہے کہ پتھر سے چشمہ جاری کرنا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا عظیم معجزہ تھا جبکہ ہمارے آقا، حضور سید المُرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی مبارک انگلیوں سے پانی کے چشمے جاری فرمائے اور یہ اس سے بھی بڑھ کر معجزہ تھا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُوَالسَّلَامکا یہ معجزہ کہ وہ پتھر سے پانی رواں فرما دیتے اور پتھر سے چشمہ برآمد کرتے تو ہمارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے اپنی انگشت ہائے مبارک سے چشمہ جاری فرما دیا۔پتھر تو زمین ہی کی جنس سے ہے اور اس سے چشمے بہا کرتے ہیں لیکن اس کے برخلاف گوشت پوست سے پانی کا چشمہ جاری کرنا حد درجہ عظیم ہے۔(مدارج النبوۃ، باب پنجم درذکر فضائل وی صلی اللہ علیہ وسلم، ۱ / ۱۱۰)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تعالٰی عَلَیْہِ کیاخوب فرماتے ہیں :
انگلیاں ہیں فیض پر ٹوٹے ہیں پیاسے جھوم کر ندیاں پنج آب رحمت کی ہیں جاری واہ واہ
انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے مدد طلب کرنے کا ثبوت:
اس آیت میں لوگوں کا انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں استعانت کرنے اور انبیاء کرامعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ان کی مشکل کشائی فرمانے کا ثبوت بھی ہے۔تاجدار رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی سیرت مبارکہ میں ایسے کئی واقعات ہیں جن میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ میں حاضر ہو کر لوگوں نے اپنی مشکلات عرض کیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ان کی مشکل کشائی فرمائی ،ان میں سے دو واقعات درج ذیل ہیں :
(1)…حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں (میرے والد) حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُوفات پا گئے اور ان پر قرض تھا ’’ فَاسْتَعَنْتُ النَّبِیَّصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی غُرَمَائِہٖ اَنْ یَضَعُوْا مِنْ دَیْنِہٖ‘‘تو میں نے نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سے ان کے قرض خواہوں سے متعلق مدد طلب کی کہ وہ ان کاقرضہ کچھ کم کر دیں۔ حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے اس بارے میں ان سے بات کی تو انہوں نے ایسا نہ کیا۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا:تم جاؤ اور ہر قسم کی کھجوروں کی الگ الگ ڈھیریاں بنا ؤ اور پھر مجھے پیغام بھیج دینا۔ حضرت جابررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ فرماتے ہیں : میں نے ڈھیریاں بنادیں اور بارگاہ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ میں پیغام بھیج دیا ،آپ ان ڈھیریوں کے پاس تشریف فرما ہو گئے اور ارشادفرمایا:تم ماپ کر لوگوں کو دیتے جاؤ۔میں نے کھجوریں ماپ کر لوگوں کو دینا شروع کر دیں یہاں تک کہ سب کا قرضہ اتر گیا اور میری کھجوریں ایسے لگ رہی تھیں جیسے ان میں سے ایک کھجور بھی کم نہیں ہوئی۔(بخاری،کتاب البیوع، باب الکیل علی البائع والمعطی،۲ / ۲۶، الحدیث: ۲۱۲۷)
ْ(2)… حضرت سالم بن ابی جعدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے سامنے چمڑے کا ایک تھیلا تھا جس (میں موجود پانی) سے وضو فرما رہے تھے۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکے گرد حلقہ ڈال کر کھڑے ہو گئے تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع