دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی عظمت:

            اس واقعہ سے شانِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بھی ظاہر ہوئی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے ’’ہم آپ کا یقین نہیں کریں گے ‘‘ کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کئے گئے اور اسی سے حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانے والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جناب میں ترکِ ادب غضب الہٰی کا باعث ہوتا ہے لہٰذا اس سے ڈرتے رہیں۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ  تعالٰی اپنے مقبولانِ بارگاہ کی دعاسے مردے بھی زندہ فرمادیتا ہے۔

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۵۷)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور ہم نے اَبر کو تمہاراسائبان کیااور تم پرمَنْ اور سلویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کا بگاڑ کرتے تھے ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور ہم نے تمہارے اوپر بادل کو سایہ بنا دیا اور تمہارے او پر من اور سلویٰ اتارا (کہ)ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور انہوں نے ہمارا کچھ نہ بگاڑا بلکہ اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے رہے۔

{وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ:اور ہم نے تمہارے اوپر بادل کو سایہ بنا دیا ۔} فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل دوبارہ مصر میں آباد ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں حکمِ الہٰی سنایا کہ ملک ِشام حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اوراسی میں بیت المقدس ہے، اُسے عمالِقہ قبیلے سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ۔ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل کیلئے بڑا تکلیف دہ تھا۔ شروع میں تو انہوں نے ٹال مٹول کی لیکن جب مجبور ہوکر حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی مَعِیَّت میں روانہ ہونا ہی پڑا توراستے میں جو کوئی سختی اور دشواری پیش آتی توحضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے شکایتیں کرتے۔ جب اُس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا، نہ سایہ اور نہ غلہ ،تو وہاں پہنچ کر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے دھوپ کی، گرمی اور بھوک کی شکایت کرنے لگے۔حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے دعا فرمائی اور اللہ تعالٰی نے اُس دعا کی برکت سے ایک سفید بادل کو ان پر سائبان بنادیا جو رات دن ان کے ساتھ چلتا اوران پر ایک نوری ستون نازل فرمایا جو کہ آسمان کی جانب سے ان کے قریب ہو گیا اور ان کے ساتھ چلتا اورجب رات کے وقت چاند کی روشنی نہ ہوتی تووہ ان کے لئے چاند کی طرح روشن ہوتا۔ ان کے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے، ناخن اور بال نہ بڑھتے۔(تفسیر جمل ، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱ / ۸۱، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱ / ۱۴۱-۱۴۲)

{وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى  :اور تم پر من اور سلویٰ اتارا ۔} اُس صحرا میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی برکت سے ان کے کھانے کا انتظام یوں ہوا کہ انہیں مَن و سَلْویٰ ملنا شروع ہوگیا۔من و سلوی کے بارے میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں :

            ’’من‘‘ کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ترنجبین کی طرح ایک میٹھی چیز تھی جو روزانہ صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہر شخص کے لیے ایک صاع(یعنی تقریباً چار کلو) کی بقدر اترتی اور لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ’’من ‘‘ سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو اللہ  تعالٰی نے اپنے بندوں کو کسی مشقت اور کاشتکاری کے بغیر عطا کر کے ان پر احسان فرمایا۔’’ سلویٰ‘‘ کے بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ ایک چھوٹا پرندہ تھا، اور اس کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ پرندہ بھنا ہوابنی اسرائیل کے پاس آتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ جنوبی ہوا اس پرندے کو لاتی اور بنی اسرائیل اس کا شکار کر کے کھاتے۔ یہ دونوں چیزیں ہفتے کوبالکل نہ آتیں ،باقی ہر روز پہنچتیں ، جمعہ کودگنی آتیں اور حکم یہ تھا کہ جمعہ کو ہفتے کے لیے بھی جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو۔ بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی اورذخیرے جمع کیے، وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم ہوئے اور آخرت میں سزاکے مستحق ہوئے۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷،۱ / ۵۶، روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۷، ۱ / ۱۴۲)

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸)

 ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤپھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہواور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور جب ہم نے انہیں کہا کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازے میں سجدہ کرتے داخل ہونااور کہتے رہنا، ہمارے گناہ معاف ہوں ، ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔

{وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ:اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہوجاؤ۔ }اس شہر سے ’’بیتُ المقدس‘‘ مراد ہے یا اَرِیحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور وہ اسے خالی کر گئے تھے ،وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔اس بستی کے دروازے میں داخل ہونے کا فرمایا گیا اور یہ دروازہ ان کے لیے کعبہ کی طرح تھا اور اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا گناہوں کی معافی کاسبب تھا ۔ بنی اسرائیل کو حکم یہ تھا کہ دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ’’حِطَّةٌ‘‘ کہتے جائیں (یہ کلمہ استغفار تھا۔) انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی اورسجدہ کرتے ہوئے داخل ہونے کی بجائے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور توبہ و استغفار کا کلمہ پڑھنے کی بجائے مذاق کے طور پر’’حَبَّۃٌ فِی شَعْرۃٍ ‘‘ کہنے لگے جس کا معنیٰ تھا: بال میں دانہ۔ اس مذاق اور نافرمانی کی سزا میں ان پر طاعون مسلط کیا گیا جس سے ہزاروں اسرائیلی ہلاک ہو گئے ۔(تفسیرخازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸،۱ / ۵۶، مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۸، ص۵۳، تفسیر عزیزی (مترجم)،۱ / ۴۵۶-۴۵۷، ملتقطاً)

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠(۵۹)

ترجمۂ  کنزالایمان:تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حُکمی کا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: پھر ان ظالموں نے جو اُن سے کہا گیا تھا اسے ایک دوسری بات سے بدل دیاتو ہم نے آسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیاکیونکہ یہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔

{فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ:تو ہم نے آسمان سے ان ظالموں پر عذاب نازل کردیا۔ }بنی اسرائیل پر طاعون کا عذاب مسلط کیا گیا اور اس کی وجہ سے ایک ساعت میں ان

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن