دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق توبہ کی تو اللہ تعالٰی نے انہیں معاف کر دیا ۔ ان مُرتَد ہونے والوں کی توبہ کا بیان آیت نمبر53کے بعد آرہا ہے۔

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۵۳)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب ہم نے  موسٰی کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ پر آؤ ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اوریاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں فرق کرناتاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔

{اَلْفُرْقَانَ: فرق کرنا۔} فرقان کے کئی معانی کئے گئے ہیں : (1) فرقان سے مراد بھی تورات ہی ہے۔ (2)کفر وایمان میں فرق کرنے والے معجزات جیسے عصا اور ید ِبیضاء وغیرہ ۔(3)حلال و حرام میں فرق کرنے والی شریعت مراد ہے۔ (مدارک، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۳، ص۵۲)

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِ ىٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىٕكُمْؕ      فَتَابَ عَلَیْكُمْؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۵۴)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب  موسٰی نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور یاد کروجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم تم نے بچھڑے (کو معبود)بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیالہٰذا(اب) اپنے پیدا کرنے والے کی بارگاہ میں توبہ کرو(یوں )کہ تم اپنے لوگوں کو قتل کرو۔ یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

{فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ:کہ تم اپنے لوگوں کو قتل کرو۔}بنی اسرائیل کو بچھڑا پوجنے کے گناہ سے یوں معافی ملی کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قوم سے فرمایا: تمہاری توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی ہے وہ پوجا کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم راضی خوشی سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں۔وہ لوگ اس پر راضی ہوگئے اورصبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے، تب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گڑگڑاتے ہوئے بارگاہِ حق میں ان کی معافی کی التجاء کی۔ اس پر وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے وہ شہید ہوئے اور باقی بخش دئیے گئے، قاتل و مقتول سب جنتی ہیں۔(تفسیر عزیزی(مترجم)، البقرۃ، تحت الآیۃ:۵۴،۱ / ۴۳۹-۴۴۲، ملخصاً)

مرتد کی سزا قتل کیوں ہے؟

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ شرک کرنے سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے اور مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ یہ اللہ  تعالٰی سے بغاوت کر رہا ہے اور جو اللہ  تعالٰی کا باغی ہواسے قتل کر دینا ہی حکمت اور مصلحت کے عین مطابق ہے۔ دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں یہ قانون نافذ ہے کہ جو اس ملک کے بادشاہ سے بغاوت کرے اسے قتل کر دیا جائے ۔ اس قانون کو انسانیت کے تمام علمبردار تسلیم کرتے ہیں اور اس کے خلاف کسی طرح کی کوئی آواز بلند نہیں کرتے ،جب دنیوی بادشاہ کے باغی کو قتل کر دینا انسانیت پر ظلم نہیں تو جو سب بادشاہوں کے بادشاہ اللہ تعالٰی کا باغی ہو جائے اسے قتل کر دیاجانا کس طرح ظلم ہو سکتا ہے۔

بنی اسرائیل پر اللہ  تعالٰی کا فضل:

             بچھڑا بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے:

(1) …مجسمہ سازی جو حرام ہے۔

(2)…حضرت ہارون عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نافرمانی۔

(3)…بچھڑے کی پوجا کرکے مشرک ہوجانا ۔

            یہ ظلم آلِ فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ِ ایمان سرزد ہوئے، اس وجہ سے وہ مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الہٰی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاک کرکے کفر پر ان کا خاتمہ کردے لیکن حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے طفیل انہیں توبہ کا موقع دیا گیا، یہ اللہ  تعالٰی کابڑا فضل ہے اور یہ قتل ان کے لیے کفارہ تھا۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۵)ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۶)

ترجمۂ  کنزالایمان:اور جب تم نے کہا اے موسٰی ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک عَلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے ۔پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور یاد کرو جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے جب تک اعلانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تمہیں کڑک نے پکڑ لیا۔پھر تمہاری موت کے بعد ہم نے تمہیں زندہ کیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔

{لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ:ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے۔ }جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارے میں اپنی جانیں بھی دیدیں تو اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام انہیں اِس گناہ کی معذرت پیش کرنے کیلئے حاضر کریں چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے، وہاں جاکر وہ کہنے لگے: اے موسیٰ! عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام، ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں ، اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ سب مر گئے۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گڑگڑا کر بارگاہِ الہٰی میں عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا؟ اس پر اللہ تعالٰی نے ان ستر افراد کوزندہ فرمادیا۔(جمل، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۱ / ۸۰، تفسیر کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۵۵، ۱ / ۵۱۹، ملتقطاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن