دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

اللہ عَزَّوَجَلَّ ! کیا تو زمین میں اس کو نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گاحالانکہ ہم ہر وقت تیری تسبیح و تحمید کرتے ہیں (یعنی تیری خلافت کے مستحق ہم ہیں۔ )اللہ تعالٰی نے فرمایا: جو مجھے معلوم ہے وہ تمہیں معلوم نہیں پھر اللہ تعالٰی نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تخلیق کے بعد انہیں تمام چیزوں کے نام سکھادیے اورپھر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ تم ہی خلافت کے مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ فرشتوں نے یہ سن کر عرض کی: اے اللہعَزَّوَجَلَّ ! ہمیں تو صرف اتنا علم ہے جتنا تو نے ہمیں سکھادیا،ساری علم و حکمت تو تیرے پاس ہے۔ پھر اللہ تعالٰی نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے فرمایا: اے آدم!تم انہیں اِن تمام اشیاء کے نام بتادو ۔ جب حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے انہیں ان اشیاء کے نام بتادیئے تواللہ تعالٰی نے فرمایا :اے فرشتو!کیا میں نے تمہیں نہ کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں جانتا ہوں اور میں تمہاری ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں۔  

{اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً :میں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں۔} خلیفہ اُسے کہتے ہیں جو احکامات جاری کرنے اور دیگر اختیارات میں اصل کا نائب ہوتا ہے ۔اگرچہ تمام انبیاءعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں لیکن یہاں خلیفہ سے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممراد ہیں اور فرشتوں کو حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خلافت کی خبر اس لیے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کریں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے پہلے ہی خلیفہ کا لقب عطا کردیا گیا ہے اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی۔

فرشتوں سے مشورے کے انداز میں کلام کرنے کاسبب:

            یاد رہے کہ اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کسی سے مشورہ کی حاجت ہو،البتہ یہاں خلیفہ بنانے کی خبر فرشتوں کوظاہری طور پرمشورے کے انداز میں دی گئی ۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلےاپنے ما تحت افراد سے مشورہ کر لیا جائے تاکہ اس کام سے متعلق ان کے ذہن میں کوئی خلش ہو تو اس کا ازالہ ہو جائے یا کوئی ایسی مفید رائے مل جائے جس سے وہ کام مزید بہتر انداز سے ہو جائے ۔

            اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو بھی صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے مشورہ کرنے کا حکم دیا،جیسا کہ سورۂ آل عمران میں ارشاد باری تعالیٰٰ ہے:’’ وَ  شَاوِرْهُمْ  فِی  الْاَمْرِ‘‘اور کاموں میں ان سے مشورہ لیتے رہو۔(اٰل عمران: ۱۵۹)

            اور انصار صحابۂ  کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کا وصف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ’’وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ‘‘ اور ان کا کام ان کے باہمی مشورے سے (ہوتا) ہے۔(شورٰی: ۳۸)

            حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’ جس نے استخارہ کیا وہ نامراد نہیں ہوگااور جس نے مشورہ کیا وہ نادم نہیں ہوگا اور جس نے میانہ روی کی وہ کنگال نہیں ہوگا۔ (معجم الاوسط، من اسمہ محمد، ۵ / ۷۷، الحدیث: ۶۶۲۷)

{اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ:کیا تو زمین میں اسے نائب بنائے گا جو اس میں فساد پھیلائے گا ۔}اس کلام سے  فرشتوں کا مقصد اعتراض کرنا نہ تھا بلکہ اس سے اپنے تعجب کا اظہار اور خلیفہ بنانے کی حکمت دریافت کرنا تھا اور انسانوں کی طرف فسادپھیلانے کی جو انہوں نے نسبت کی تو اس فساد کا علم انہیں یا توصراحت کے ساتھ اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا تھا یا انہوں نے لوح محفوظ سے پڑھا تھا اوریا انہوں نے جِنّات پر قیاس کیا تھا کیونکہ وہ زمین پر آباد تھے اور وہاں فسادات کرتے تھے ۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۰، ۱ / ۲۸۲، ملتقطاً)

فرشتے کیا ہیں ؟

            فرشتے نوری مخلوق ہیں ،گناہوں سے معصوم ہیں ، اللہ تعالٰی کے معززومکرم بندے ہیں ، کھانے پینے اور مرد یا عورت ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں کے بارے میں مزید تفصیل جاننے کے لئے بہار شریعت جلدنمبر 1 کے صفحہ90سے ’’ملائکہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں۔

{اِنِّیْۤ اَعْلَمُ:بیشک میں زیادہ جانتاہوں۔} فرشتوں کے جواب میں اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے کیونکہ خلیفہ بنانے میں میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں۔ بات یہ ہے کہ انہی انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے، اولیاء بھی اور علماء بھی اوریہ حضرات علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور اللہ  تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایاسچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔

ترجمۂ  کنزالعرفان:اور اللہ  تعالٰی  نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادئیے پھر ان سب اشیاء کو فرشتوں کے سامنے پیش کرکے فرمایا: اگر تم سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ۔

{وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا:اور اللہ  تعالٰی نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھادیے۔} اللہ تعالٰی نے حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر تمام اشیاء پیش فرمائیں اور بطورِ الہام کے آپ کو ان تمام چیزوں کے نام، کام، صفات، خصوصیات، اصولی علوم اور صنعتیں سکھا دیں۔(بیضاوی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳۱، ۱ / ۲۸۵-۲۸۶)

{اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ: مجھے ان کے نام بتاؤ۔ }تمام چیزیں فرشتوں کے سامنے پیش کرکے ان سے فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ تم سے زیادہ علم والی کوئی مخلوق نہیں اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام اختیار استعمال کرنا، کاموں کی تدبیر کرنااور عدل و انصاف کرناہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اسے اختیار دیا گیاہے اور جن کا اسے فیصلہ کرنا ہے۔

علم کے فضائل:

            اس آیت میں اللہ تعالٰی  نے حضرت آدمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے فرشتوں پرافضل ہونے کاسبب’’ علم‘‘ ظاہر فرمایا: اس سے معلوم ہوا کہ علم خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں : حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سے ارشاد فرمایا’’اے ابو ذر!رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ،تمہارااس حال میں صبح کرنا کہ تم نے اللہ تعالٰی کی کتاب سے ایک آیت سیکھی ہو،یہ تمہارے لئے 100 رکعتیں نفل پڑھنے سے بہتر ہے اورتمہارااس حال میں صبح کرنا کہ تم نے علم کا ایک باب سیکھا ہوجس پر عمل کیا گیا ہو یا نہ کیا گیاہو،تو یہ تمہارے لئے 1000نوافل پڑھنے سے بہتر ہے۔(ابن ماجہ،کتاب السنّۃ، باب فی فضل من تعلّم القرآن وعلّمہ، ۱ / ۱۴۲، الحدیث: ۲۱۹)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن