30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آخرت میں عزت و وجاہت والے ہیں اور رب کریم عَزَّوَجَلَّ کے مقرب بندے ہیں۔ اس آیت میں حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسبت باپ کی بجائے ماں کی طرف کی گئی ،اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامبغیر باپ کے صر ف ماں سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کوئی باپ ہوتاتو یہاں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نسبت ماں کی طرف نہ ہوتی بلکہ باپ کی طرف ہوتی ۔جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالٰی نے خود فرمایا ہے کہ
اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ (سورۂ احزاب: ۵)
ترجمۂ کنزالعرفان:لوگوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک انصاف کے زیادہ قریب ہے۔
وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے میں اور پکی عمر میں اور خاصوں میں ہوگا۔
ترجمۂ کنزالعرفان: اوروہ لوگوں سے جھولے میں اور بڑی عمر میں بات کرے گا اور خاص بندوں میں سے ہوگا۔
{وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ: اور وہ لوگوں سے جھولے میں کلام کرے گا۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تین شانیں یہاں بیان ہوئیں۔
(1)… بات کرنے کی عمر سے پہلے ہی کلام کریں گے چنانچہ سورۂ مریم آیت29تا33میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کلام مذکور ہے۔
(2)…پکی عمر میں لوگوں سے کلام فرمائیں گے اور وہ یوں کہ آسمان سے اترنے کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لوگوں سے کلام فرمائیں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دَجال کو قتل کریں گے۔ لہٰذا جیسے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا بچپن میں کلام کرنا معجزہ ہے، ایسے ہی پکی عمر میں اس طرح کلام کرنا معجزہ ہے ۔
(3)…اللہ تعالٰی کے خاص بندوں میں سے ہیں۔
حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی صفات:
مجموعی طور پر سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر 45اور 46میں حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بہت سی صفات بیان ہوئیں:
(1)…کلمۃُ اللہ ہونا۔
(2)… مسیح ہونا۔
(3)… حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بیٹا ہونا۔
(4)…بغیر باپ کے پیدا ہونا۔
(5)… دنیا میں عزت والا ہونا کہ قرآن کے ذریعے سارے عالَم میں ان کے نام کی دھوم مچا دی گئی۔ آخرت میں خصوصی عزت والا ہونابہت سے طریقوں سے ہوگا، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیامت میں انہی کے ذریعہ مخلوق کوحضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تک رہنمائی ملے گی۔
(6)… بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں بہت زیادہ قرب و منزلت رکھنے والا ہونا وغیرہ ۔ معلوم ہوا کہ پیغمبروں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی نعت خوانی سنت الہٰیہ ہے ، اللہ تعالٰی اس کی توفیق عطا فرمائے۔
قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۴۷)
ترجمۂ کنزالایمان: بولی اے میرے رب میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا،فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے، جب کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: ( مریم نے) عرض کیا: اے میرے رب! میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اللہ نے فرمایا :اللہ یوں ہی جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے صرف اتنا فرماتا ہے ، ’’ ہوجا ‘‘تو وہ کام فوراً ہوجاتا ہے۔
{اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ: میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا؟} جب فرشتوں نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو بیٹے کی بشارت دی تو انہوں نے حیرت سے عرض کیا: یا اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میرے ہاں بچہ کیسے ہوگا ؟مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ بھی نہیں لگایا اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے ملاپ سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا ، نکاح سے یا یوں ہی بغیر مرد کے؟ جواب ملا کہ اسی حالت میں یعنی تم کنواری ہی رہو گی اور فرزند پیدا ہو جائے گا، کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بڑی قدرت والا ہے اور اس کی شان یہ ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے صرف اتنا فرماتاہے ، ’’ ہوجا ‘‘تو وہ کام فوراً ہوجاتا ہے ۔
وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ(۴۸) وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﳐ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۴۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ اسے سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف یہ فرماتا ہوا کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لئے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو اور میں مُردے جِلاتا ہوں اللہ کے حکم سے اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو بیشک ان باتوں میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع