دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-1-Para-1-To-3 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-اول-پارہ ایک تا تین

ہیں نیز آدمی کی صبح کی ابتداء اور انتہاء اللہ تعالٰی کے ذکر پر ہونی چاہیے۔

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور جب فرشتوں نے کہا، اے مریم بیشک اللہ نے تجھے چن لیا اور خوب ستھرا کیا اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور (یاد کرو) جب فرشتوں نے کہا، اے مریم، بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے اور تمہیں خوب پاکیزہ کردیا ہے اور تمہیں سارے جہان کی عورتوں پر منتخب کرلیا ہے۔

{اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ: بیشک اللہ نے تمہیں چن لیاہے۔} اس آیت میں حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کی شان کا بیان ہے ۔ اللہ تعالٰی نے انہیں بہت سے فضائل کیلئے منتخب فرمالیا مثلاً: عورت ہونے کے باوجود بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے انہیں نذر میں قبول فرما لیا حالانکہ صرف مردوں کو ہی منتخب کیا جاتا تھا۔ لہٰذایہ بات ان کے سوا کسی عورت کو مُیَسَّر نہ ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کیلئے جنتی رزق بھیجا گیا، حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کو ان کا کفیل بنایا گیا، نیز اللہ تعالٰی کی طرف سے انہیں یہ فضیلتیں فرشتوں کی زبان سے سنائی گئیں۔ مزید حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کو اللہ تعالٰی نے گناہوں سے اور مردوں کے ان پر قدرت پانے سے پاکیزہ بنایا اورانہیں سارے جہان کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

ترجمۂ  کنزالایمان: اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہواور اس کے لئے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اے مریم! اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور اس کی بارگاہ میں سجدہ کر واور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

{یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ: اے مریم! اپنے رب کی فرمانبرداری کرو۔}قنوت کا معنیٰ فرمانبرداری کرنا بھی ہوتا ہے اور ادب سے کھڑا ہونا بھی۔ جب فرشتوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آیت میں مذکور حکم سنایا تو حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہانے اتنا طویل قیام کیا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے قدم مبارک پر ورم آگیا اور پاؤں پھٹ کر خون جاری ہوگیا ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۴۳، ۱ / ۲۴۹)

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ۪-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ(۴۴)

ترجمۂ  کنزالایمان: یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں اور تم ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ ان میں کون مریم کی پرورش کرے گا اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔

{ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ: یہ غیب کی خبریں ہیں۔} اس آیت میں فرمایا گیا کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالٰی نے اپنے حبیب  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو غیب کے علوم عطا فرمائے ہیں۔ تمام انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات جو قرآن و حدیث میں آئے سب غیب کی خبریں ہیں۔

{اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ: جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈال رہے تھے۔} چونکہ بہت سے لوگ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کی پرورش کے امیدوار تھے۔ اس لئے آپس میں بحث و مباحثہ کے بعد انہوں نے قرعہ اندازی پر فیصلہ چھوڑ دیا چنانچہ جن قلموں سے تورات لکھا کرتے تھے ان کے ذریعے قرعہ اندازی کی اور طے یہ پایا کہ ہر کوئی اپنا قلم پانی میں رکھے، جس کا قلم پانی کے بہاؤ کے الٹی طرف بہنا شروع کر دے وہ کفالت کا حق دار ہو گا۔ سب نے اپنی اپنی قلم پانی میں ڈالی تو حضرت زکریا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قلم الٹی طرف بہنا شروع ہو گیا اس طرح حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی کفالت میں آگئیں۔(تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۲۱۹)

قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ کرنا:

             اس سے معلوم ہوا کہ عام معاملات میں قرعہ اندازی سے بھی فیصلہ کیا جاسکتا ہے جیسے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ سفر میں ساتھ لے جانے کیلئے ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرمایا کرتے تھے۔

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵)

ترجمۂ  کنزالایمان: اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی جس کا نام ہے مسیح عیسیٰ مریم کا بیٹا رُو دار ہوگا دنیا اور آخرت میں اور قرب والا۔

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور یاد کرو جب فرشتو ں نے مریم سے کہا، اے مریم! اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک خاص کلمے کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ،عیسیٰ بن مریم ہوگا۔ وہ دنیا و آخرت میں بڑی عزت والا ہوگااور اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔

{اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ: بیشک اللہ تجھے بشارت دیتا ہے۔} حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کلمۃُ اللہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے جسم شریف کی پیدائش کلمہ’’ کُن‘‘ سے ہوئی، باپ اور ماں کے نطفہ سے نہ ہوئی۔ رب تعالیٰٰ فرماتا ہے:

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹)  (آل عمران:۵۹)

ترجمۂ  کنزالعرفان: بےشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ اُسے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے فرمایا ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوگیا۔

                 حضرت عیسیٰعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکے بارے میں فرمایا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کلمہ ہیں ، نام مبارک عیسیٰ ہے، لقب مسیح ہے کیونکہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  مَس کرکے یعنی چھو کر شفا دیتے تھے، دنیا و

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن