30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ(۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان: یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے اور اللہ سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان:یہ ایک نسل ہے جو ایک دوسرے سے ہے اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
{ذُرِّیَّةً: یہ ایک نسل ہے۔}یعنی ان بر گزیدہ بندوں میں باہم نسلی تعلقات بھی ہیں اوردین کے اندر یہ حضرات ایک دوسرے کے معاون و مددگار بھی ہیں۔
اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان: جب عمران کی بی بی نے عرض کی اے رب میرے میں تیرے لئے مَنَّت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے تو تُو مجھ سے قبول کرلے بیشک تو ہی ہے سنتا جانتا۔
ترجمۂ کنزالعرفان: (یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے عرض کی: اے میرے رب! میں تیرے لئے نذر مانتی ہو کہ میرے پیٹ میں جواولاد ہے وہ خاص تیرے لئے آزاد (وقف) ہے تو تو مجھ سے (یہ )قبول کرلے بیشک تو ہی سننے والا جاننے والا ہے۔
{اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ: جب عمران کی بیوی نے عرض کی۔ } عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصْہُرْبن قاہِثْ بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے والد ہیں اور دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی والدہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کے والد ہیں ان دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے ،یہاں دوسرے عمران مراد ہیں ۔(خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۲۴۳،جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۴۰۰، ملتقطاً)
ان کی بیوی یعنی حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی والدہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے ۔یہاں آیت میں انہی کاواقعہ بیان ہورہا ہے ۔ کہ انہوں نے اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں عرض کی تھی کہ اے اللہ! میں تیرے لئے نذر مانتی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو اولاد ہے وہ خاص تیرے لئے وقف ہے ۔ تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہواور بیتُ المقدس کی خدمت اس کے ذمہ ہو۔ علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریاعَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اور حضرت عمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ دونوں ہم زُلف تھے ۔فاقوذا کی دُختر اِیشاع حضرت زکریا عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کی زوجہ تھیں اور یہ حضرت یحییٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی والدہ ہیں اور ان کی بہن حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا حضرت عمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیوی تھیں اور یہ حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کی والدہ ہیں۔ ایک زمانہ تک حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی، یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مقبول بندے تھے۔ ایک روز حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہانے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یعنی دانہ کھلا رہی تھی۔ یہ دیکھ کر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کے دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں دعا کی کہ یارب ! عَزَّوَجَلَّ،اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدس کا خادم بناؤں گی اور اس خدمت کے لیے حاضر کردوں گی ۔چنانچہ جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا: یہ تم نے کیا کیا ،اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہوگی؟اس زمانہ میں بیتُ المقدس کی خدمت کے لیے لڑکوں کودیا جاتا تھا اور لڑکیاں اپنے مخصوص معاملات ، زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے حضرت عمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کو شدید فکر لاحق ہوئی ۔ حضرت حَنَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاکے ہاں حضرت مریم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کی ولادت سے پہلے حضرت عمران رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا انتقال ہو گیا تھا۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۵، ۱ / ۲۴۴)
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ-وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ-وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب اُسے جنا بولی اے رب میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی، اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں اور میں نے اس کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: پھر جب عمران کی بیوی نے بچی کو جنم دیا تو اس نے کہا اے میرے رب !میں نے تو لڑکی کو جنم دیا ہے حالانکہ اللہ بہتر جانتا ہے جو اس نے جنا اور وہ لڑکا (جس کی خواہش تھی) اس لڑکی جیسا نہیں (جو اسے عطا کی گئی) اور (اس نے کہا کہ) میں نے اس بچی کا نام مریم رکھا اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
{فَلَمَّا وَضَعَتْهَا: تو جب عمران کی بیوی نے بچی کو جنم دیا۔} چونکہ حضرت عمران رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپہلے ہی اپنے خدشے کا اظہار کرچکے تھے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کہ بیٹے کی بجائے بیٹی کی ولادت ہوئی اس پر حضرت حَنَّہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اظہارِ افسوس کے طور پر یہ کلمہ کہا۔ انہیں حسرت و غم اس وجہ سے ہوا کہ چونکہ لڑکی پیدا ہوئی ہے لہٰذا نذر پوری نہیں ہوسکے گی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا کا یہ عرض کرنا منت کے پورا نہ کرسکنے پرافسوس کی وجہ سے تھا، اس وجہ سے نہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکو لڑکی پیدا ہونے کا افسوس تھا کیونکہ یہ کفار کا طریقہ ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی نے جو لڑکی عطا فرمائی تھی اس کے بارے میں فرمایا کہ کوئی لڑکا اس لڑکی کی طرح نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ تمام جہان کی عورتوں سے افضل ہوگی، روحُ اللہ ، حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ماں ہوں گی، یہ رب عَزَّوَجَلَّ کی خاص عطا ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ بعض عورتیں بعض مردوں سے افضل ہوسکتی ہیں۔ خیال رہے کہ حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا اپنے زمانے میں تمام جہان کی عورتوں سے افضل تھیں ، یہ نہیں کہ ان کا مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ ، حضرت خدیجۃُ الکُبریٰ اورحضرت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے بھی بڑھ کر ہو۔ مریم کے معنی عابدہ اورخادمہ ہیں۔(بغوی، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۳۶، ۱ / ۲۲۷)
{وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ:اور میں اسے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔} حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاکی والدہ نے حضرت مریم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہااور ان کی اولاد کیلئے شیطان کے شر سے پناہ مانگی اور اللہ تعالٰی نے اس دعا کو قبول فرمایا۔ لہٰذا یہ مقبول الفاظ ہیں ، اپنی اولاد کیلئے ان الفاظ کے ساتھ دعا مانگتے رہنا چاہیے،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ کرم ہوگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع