30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پہچان لیااور عرض کیا :کیا آپ محمد ہیں ؟ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ ہاں۔ انہوں نے پھر عرض کی: کیا آپ احمد ہیں ؟ سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ ہاں۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک سوال کریں گے، اگر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے درست جواب دیدیا تو ہم آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے ۔ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’سوال کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ’’ کتابُ اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اِسے سن کر وہ دونوں شامی علماء مسلمان ہوگئے۔(جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱ / ۳۸۳)
اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالٰی اور فرشتے اور اہلِ علم یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْنے گواہی دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ علم بڑی عزت والے ہیں کہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنی توحید کا گواہ اپنے ساتھ بنایا،لیکن علماء دین سے مراد علماء ربانی ہیں یعنی صحیحُ العقیدہ اور صالحین علماء ۔ علماء ربانی وہ ہیں جو خود اللہ عَزَّوَجَلَّ والے ہیں اور لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ والا بناتے ہیں ، جن کی صحبت سے خدا عَزَّوَجَلَّکی کامل محبت نصیب ہوتی ہے، جس عالم کی صحبت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف اورحضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت میں کمی آئے وہ عالم نہیں ، ظالم ہے۔
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫-وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْؕ-وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ(۱۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا اپنے دلو ں کی جلن سے اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اورجنہیں کتاب دی گئی انہوں نے آپس میں اختلاف نہ کیا مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد،اپنے باہمی حسد کی وجہ سے۔ اور جواللہ کی آیتوں کاانکار کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
{اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔} ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الہٰی عَزَّوَجَلَّ میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَلائے، چونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللہ تعالٰی نے تمام لوگوں کیلئے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو آخری نبی بنایا، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذااس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے۔
{وَ مَا اخْتَلَفَ: اور انہوں نے اختلاف نہ کیا۔} یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری جنہوں نے اسلام کو چھوڑا اور سیدُ الانبیاء ،محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت میں اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی علم کے بعد کیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں سیدِ دوعالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ چکے تھے اور انہوں نے پہچان لیا تھا کہ یہی وہ نبی ہیں جن کی کتبِ الہٰیہ میں خبریں دی گئی ہیں ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ماننے سے انکار کیا اور اس انکار و اختلاف کاسبب ان کا حسد اور دنیاوی منافع کی طمع تھی۔
فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِؕ-وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْؕ-فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْاۚ-وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُؕ-وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠(۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اے محبوب اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ کیا تم نے گردن رکھی پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂ کنزالعرفان: پھر اے حبیب!اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تم فرمادو :میں تواپنا منہ اللہ کی بارگاہ میں جھکائے ہوئے ہوں اور میری پیروی کرنے والے بھی۔ اور اے حبیب ! اہلِ کتاب اور اَن پڑھوں سے فرمادو کہ کیا تم (بھی) اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کرلیں جب تو انہوں نے بھی سیدھا راستہ پالیا اور اگر یہ منہ پھیریں تو تمہارے اوپر تو صرف حکم پہنچا دینا لازم ہے اور اللہ بندوں کودیکھ رہا ہے۔
{فَاِنْ حَآجُّوْكَ: پھر اگر وہ تم سے جھگڑا کریں۔} دینِ اسلام کی حقانیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، اگر وہ تم سے تمہارے یا اسلام کے حق ہونے کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم انہیں فرما دو کہ تم مانو یا نہ مانو، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں اور میرے پیروکار تو اللہ تعالٰی کے فرمانبردارو مطیع ہیں۔ نیز ان اہلِ کتاب یعنی یہودیوں ، عیسائیوں اوران پڑھوں یعنی اَن پڑھ اہلِ کتاب اور مشرکوں سے مزید یہ بھی فرمادو کہ کیا ہماری طرح تم بھی اسلام قبول کرتے ہو؟ اگریہ اسلام قبول کرلیں تب تو یہ بھی سیدھی راہ والے ہوجائیں گے لیکن اگر یہ اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں تو تمہاری شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ تمہارے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ تمہارے اوپرتواللہ تعالٰی کی طرف سے صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم انہیں پہنچادو۔ بقیہ ان کا معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کردو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اور اپنے سب بندوں کودیکھ رہا ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّۙ-وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ(۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی۔
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے ہیں اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔} یہاں بنی اسرائیل کے تین جرائم کا بیان کیا گیا ہے: (1)اللہ عَزَّوَجَلَّکی آیات کا انکار کرنا۔ (2) انبیاء عَلَیْہِمُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع