30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{سَتُغْلَبُوْنَ: عنقریب تم مغلوب ہوجاؤگے۔ }حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ جب بدر میں کفار کو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ شکست دے کر مدینہ طیبہ واپس تشریف لائے تو یہودیوں نے کہا کہ’’ قریش تو فُنونِ حَرب (جنگی طریقوں ) سے نا آشنا ہیں ، (اسی لئے شکست کھا گئے۔) اگر ہم سے مقابلہ ہوا تو معلوم ہوجائے گا کہ لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی (در منثور، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۲، ۲ / ۱۵۸)
اور انہیں یہ غیبی خبر دی گئی کہ’’ وہ دنیا میں مغلوب ہوں گے، قتل کئے جائیں گے ،گرفتار کئے جائیں گے اور ان پر جِزیَہ مقرر کیا جائے گا اور آخرت میں دوزخ کی طرف ہانکے جائیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور کچھ ہی عرصے میں یہودی قتل بھی ہوئے، گرفتار بھی کئے گئے اور اہلِ خبیر پر جزیہ بھی مقرر کیا گیا اور قیامت کے دن انہیں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا۔
قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَاؕ-فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ(۱۳)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک تمہارے لئے نشانی تھی دو گروہوں میں جو آپس میں بھڑ پڑے ایک جتھا اللہ کی راہ میں لڑتا اور دوسرا کافر کہ انہیں آنکھوں دیکھا اپنے سے دوناسمجھیں اور اللہ اپنی مدد سے زور دیتا ہے جسے چاہتا ہے بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے ضرور دیکھ کر سیکھنا ہے ۔
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک تمہارے لئے ان دو گروہوں میں بڑی نشانی ہے جنہوں نے آپس میں جنگ کی۔ (اُن میں ) ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑرہا تھااور دوسرا گروہ کافروں کا تھا جوکھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو خود سے دگنا دیکھ رہے تھےاور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کی چاہتا ہے تائیدفرماتا ہے۔ بیشک اس میں عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت ہے ۔
{قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ: بیشک تمہارے لئے بڑی نشانی ہے۔} یہ آیت غزوۂ بدرکے متعلق نازل ہوئی اور اس میں یہودیوں یا تمام کافروں یا مسلمانوں یا مذکورہ بالاسب کو خطاب ہے کیونکہ غزوۂ بدر میں مسلمانوں اور کافروں سب کیلئے عبرت و نصیحت تھی۔ غزوہ بدر 17رمضان 2ہجری بروز جمعہ ہوا۔ اس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور ان کے ساتھ بہت زیادہ سامان جنگ تھاجبکہ مسلمان تین سو تیرہ (313) تھے اور ان میں سے بھی اکثر نہتے تھے، مسلمانوں کے پاس دو گھوڑے، چھ زرہیں ، آٹھ تلواریں اور ستر اونٹ تھے۔(جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱ / ۳۷۶)
اس کے باوجود مسلمانوں کو کامل فتح ہوئی اور کفار کو شکستِ فاش، لہٰذا یہ فتح اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نشانیوں میں سے بڑی نشانی ہے۔
{یَرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ: وہ انہیں خود سے دگنا دیکھ رہے تھے۔}جنگِ بدر میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی کئی اعتبار سے مدد فرمائی ایک تو فرشتے نازل فرمائے ، دوسرا یہ ہوا کہ پہلے اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی نظروں میں کافروں کو اور کافروں کی نظروں میں مسلمانوں کو کم کرکے دکھایا تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بڑھے اور کافر مسلمانوں کو قلیل دیکھ کر لڑائی کے لئے آگے بڑھیں اور مسلمانوں سے جنگ شروع کرنے میں بزدلی کا مظاہرہ نہ کریں۔ یہ لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہوا پھر جب لڑائی شروع ہوگئی تو اِس آیت میں مذکور واقعہ رونما ہوا۔ (جمل علی الجلالین، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳، ۱ / ۳۷۷)
کہ انہوں نے ان کو دگنا دیکھا۔اس جملے کے کئی معنیٰ کئے گئے ہیں۔ (1) کفار نے مسلمانوں کو خود سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کی تعداد کفار کودو ہزار نظر آئی۔ (2) کفار نے مسلمانوں کو مسلمانوں کی تعداد سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کی تعداد انہیں 626نظر آئی حالانکہ وہ 313تھے ۔(3) مسلمانوں نے کفار کو خود سے دگنا دیکھا یعنی مسلمانوں کو کفارکی تعداد 626 نظر آئی حالانکہ وہ ایک ہزار تھے۔ (تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۳، ۳ / ۱۵۷-۱۵۸)
بہر صورت یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے خصوصی تائید تھی۔ اسی پر فرمایا کہ اللہ تعالٰی اپنی مدد سے جس کی چاہتا ہے تائید فرماتا ہے خواہ اس کی تعداد قلیل ہی ہواور سروسامان کی کتنی ہی کمی ہو۔
زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِؕ-ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: لوگوں کے لئے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت عورتیں اور بیٹے اور تلے اوپر سونے چاندی کے ڈھیر اور نشان کئے ہوئے گھوڑے اور چوپائے اور کھیتی یہ جیتی دنیا کی پونجی ہے اور اللہ ہے جس کے پاس اچھا ٹھکانا۔
ترجمۂ کنزالعرفان: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا یعنی عورتوں اور بیٹوں اور سونے چاندی کے جمع کئے ہوئے ڈھیروں اور نشان لگائے گئے گھوڑوں اور مویشیوں اور کھیتیوں کو( ان کے لئے آراستہ کردیا گیا۔) یہ سب دنیوی زندگی کاسازوسامان ہے اور صرف اللہ کے پاس اچھا ٹھکاناہے۔
{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ: لوگوں کے لئے ان کی خواہشات کی محبت کو آراستہ کردیا گیا۔} لوگوں کیلئے من پسند چیزوں کی محبت کو خوشنما بنادیا گیا، چنانچہ عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات کی محبت لوگوں کے دلوں میں رچی ہوئی ہے اور اِس آراستہ کئے جانے اوران چیزوں کی محبت پیدا کئے جانے کا مقصد یہ ہے کہ خواہش پرستوں اور خدا پرستوں کے درمیان فرق ظاہر ہوجائے ،چنانچہ سورۂ کہف ، آیت7 میں صراحت سے ارشاد فرمایا
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)(سورۃ الکہف:۷)
ترجمۂ کنزالعرفان:بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کو اس لئے زینت بنایا تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔
چنانچہ یہ چیزیں ایسی مرغوب ہوئیں کہ کافر تو بالکل ہی آخرت سے غافل ہو گئے اور کفر میں جاپڑے جبکہ دوسرے لوگ بھی انہی چیزوں کی محبتوں کے اسیر ہوگئے حالانکہ یہ تو دنیاوی زندگی گزارنے کاسامان ہے کہ اس سے کچھ عرصہ نفع پہنچتا ہے پھر یہ سامانِ دنیا فنا ہوجاتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ دنیا کے سامان کو ایسے کا م میں خرچ کرے جس میں اس کی عاقبت کی درستی اور آخرت کی سعادت ہو۔یہ تمام چیزیں اگر دنیا کے لئے رکھی جائیں تو دنیا ہیں اور اگراطاعت ِ الہٰی میں مددو معاونت کے لئے رکھی جائیں تو دین بن جاتی ہیں جیسے بیوی، اولاد، مال، سواری، زمین وغیرہ تمام چیزیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع